- کتاب فہرست 180350
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1361 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب971 تحریکات268 ناول4264 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6484افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
فکر تونسوی کے اقوال
جب آپ گھر میں کسی کو گندی گالی نکالتے ہیں، تو آپ کا بچہ اسے ماتری بھاشا کا حصہ سمجھ کر اپنا لیتا ہے۔
کبھی کبھی کوئی انتہائی گھٹیا آدمی آپ کو انتہائی بڑھیا مشورہ دے جاتا ہے۔ مگر آہ! کہ آپ مشورے کی طرف کم دیکھتے ہیں، گھٹیا آدمی کی طرف زیادہ۔
کنواری لڑکی اس وقت تک اپنا برتھ ڈے مناتی رہتی ہے جب تک وہ ہنی مون منانے کے قابل نہیں ہو جاتی۔
خدا نے گناہ کو پہلے پیدا نہیں کیا۔ انسان کو پہلے پیدا کر دیا۔ یہ سوچ کر کہ اب یہ خود بخود گناہ پیدا کرے گا۔
اس عورت کی کسی بھی بات کا اعتبار نہ کرو جو خدا کی قسم کھا کر اپنی عمر صحیح بتادیتی ہے۔
ہمیں دشمن سے جھگڑنے کے بعد ہی وہ گالی یاد آتی ہے جو دشمن کی گالی سے زیادہ کراری اور تیکھی تھی۔
جمہوریت۔۔۔ سرمایہ داری کا وہ خوشنما ہتھیار ہے، جو مزدور کو کبھی سر نہیں ابھارنے دیتا۔
ہم وعدہ کرتے ہیں تو کسی امید پر۔ لیکن جب وعدہ پورا کرنے لگتے ہیں تو کسی ڈر کے مارے۔
عورت اپنی صحیح عمر اس لیے نہیں بتا سکتی کیونکہ اسے اس کی جوانی یاد رہتی ہے، عمر نہیں۔
آپ سڑک پر تیز رفتار سے آتے ہوئے ٹرک سے اتنا نہیں گھبراتے جتنا اس حادثے کے تصور سے گھبراتے ہیں جو ٹرک گزرنے کے بعد پیش نہیں آتا۔
عمر عورت کا ایک بیش قیمت زیور ہے جسے وہ ہمیشہ ایک ڈبیہ میں بند رکھتی ہے۔ کبھی کھولتی نہیں۔
بیوی آپ کو گھر کا کوئی کام کرنے کے لیے اٹھائے گی مگر کرنے نہیں دے گی۔ کیونکہ اس کام کا کریڈیٹ وہ خود لینا چاہتی ہے۔
سرمایہ دار کا گناہ اسی طرح خوبصورت ہوتا ہے جیسے اس کی کوٹھی کا مین گیٹ خوبصورت ہوتا ہے۔
صرف وہی چیز کھانی اور پینی چاہیے، جس کی ہدایت آپ کے ا ندر بیٹھا ہوا ڈاکٹر دے۔
مرد کا دل ایک کمرہ ہے جس میں صرف ایک عورت رہ سکتی ہے۔ لیکن دل کے آس پاس بہت سے ایسے کمرے بھی ہوتے ہیں، جو کبھی خالی نہیں رہتے۔
جوانی، ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ ادھیڑ عمر، ایک بہت بڑی جدوجہد۔ بڑھاپا، فقط معذرت۔
بدنیت آدمی کو نیک مشورہ دینا ایسے ہے جیسے ڈاکٹر اپنے غریب مریض کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ اس دوائی کےساتھ روزانہ ڈھائی سو گرام انگور بھی کھایا کرو۔
عورت کا زیور چوری ہوجائے تو وہ اپنے خاوند تک کو چور کہنے سے باز نہیں آئے گی۔
انسان وہ کھانے کے لیے مضطرب ہو جاتا ہے جسے کھانے کے لیے اسے منع کر دیا گیا ہو۔
آپ نے گھر کا کوئی بہترین کام کردیا تو اس کی داد آپ کی بیوی سے بھی نہیں ملے گی جو آپ سے بہتر کام کی توقع نہیں رکھتی تھی۔
بے قصور آدمی جب تک قصور نہ کرے سرمایہ دارانہ سماج میں کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
اگر کسی مسئلے پر دس عالم و فاضل حضرات متفق ہو جائیں تو اس اتفاق رائے میں ضرور کوئی غلطی ہوگی۔
کئی لڑکیاں ایک سگریٹ کی طرح ہوتی ہیں۔ سگریٹ کو سلگاؤ کش کھینچو، اور منہ کا مزا خراب کرو۔۔۔ مگر وہ لڑکیاں آپ کی خرابی پر بڑی مطمئن ہو جاتی ہیں۔
دیانتداری سے بہت رسیلا پھل ملتا ہے۔ مگر کچھ لوگوں کو یہ رسیلا پن ناموزوں لگتا ہے۔
اگر آپ اپنی حماقت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دانشمندوں کی محفل میں جاکر بیٹھ جائیے جو آپ سے کم احمقانہ باتیں نہیں کرتے۔
تعطیل کے دن اگر آپ معمول سے ہٹ کر نہیں جیتے تو تعطیل کو ذبح کرتے ہیں دوسرے دنوں کی طرح۔
جو آدمی ستر برس کی عمر میں بھی قہقہہ لگا سکتا ہے وہ چالیس سالہ آدمی سے بھی زیادہ جوان ہے۔ جو ایک لطیفہ بھی نہ سن سکتا ہے نہ سنا سکتا ہے۔
ایک آزاد آدمی فقط اس وقت آزاد ہے جب تک وہ اپنی زندگی کو منصوبہ بندی کا غلام نہیں بنا لیتا۔
سانپ نے آدم کو دانہ گندم کھلانے کا مشورہ اس ڈر سے دیا تھا کہ کہیں آدم سانپ کو ہی نہ کھا جائیں۔
جس عورت کی عمر اپنے خاوند کی عمر سے بیس سال زیادہ ہو، وہ اپنے خاوند کو ’’والد صاحب‘‘ بھی کہہ سکتی ہے۔
ہر آدمی اس وقت دانت کاٹنے کو دوڑتا ہے جب وہ مصنوعی دانتوں کی پلیٹ لگاچکا ہوتا ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
