noImage

حیرت الہ آبادی

- 1892 | الہٰ آباد, ہندوستان

اکبر الہ آبادی کے ہمعصر،اپنے شعر " آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں "کے لیے مشہور

اکبر الہ آبادی کے ہمعصر،اپنے شعر " آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں "کے لیے مشہور

غزل 4

 

اشعار 3

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

the time of his death, man cannot foresee

uncertain of the morrow yet, plans for a century

the time of his death, man cannot foresee

uncertain of the morrow yet, plans for a century

اپنا ہی حال تک نہ کھلا مجھ کو تابہ مرگ

میں کون ہوں کہاں سے چلا تھا کہاں گیا

  • شیئر کیجیے

کہا عاشق سے واقف ہو تو فرمایا نہیں واقف

مگر ہاں اس طرف سے ایک نامحرم نکلتا ہے

 

ای- کتاب 3

آگ خون پانی

 

1998

انتخاب کلام حیرت الہ آبادی

 

1997

کشکول وفا

 

1989

 

تصویری شاعری 3

 

آڈیو 4

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے

سنا ہے زخمی_تیغ_نگہ کا دم نکلتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مصنفین کے مزید "الہٰ آباد"

  • خورشید الاسلام خورشید الاسلام
  • باقر مہدی باقر مہدی
  • جگن ناتھ آزاد جگن ناتھ آزاد
  • رجب علی بیگ سرور رجب علی بیگ سرور
  • علیم صبا نویدی علیم صبا نویدی
  • شکیل الرحمن شکیل الرحمن
  • خورشید اکرم خورشید اکرم
  • انیس اشفاق انیس اشفاق
  • راہی معصوم رضا راہی معصوم رضا
  • وحید الدین سلیم وحید الدین سلیم