Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hakeem Fakhre Alam's Photo'

حکیم فخر عالم

1971 | علی گڑہ, انڈیا

طبِ یونانی کے محقق، مؤرخِ طب، مترجم اور ماہرِ مخطوطات

طبِ یونانی کے محقق، مؤرخِ طب، مترجم اور ماہرِ مخطوطات

حکیم فخر عالم کا تعارف

تخلص : 'اختر'

اصلی نام : فخر عالم

پیدائش : 10 Jan 1971 | اعظم گڑہ, اتر پردیش

شناخت: طبِ یونانی کے محقق، مؤرخ، مترجم اور ماہرِ مخطوطات

حکیم فخر عالم (قلمی نام: حکیم فخر عالم، تخلص: اختر) 10 جنوری 1971ء کو ضلع اعظم گڑھ (اتر پردیش) کے موضع بھورمئو میں پیدا ہوئے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے علی گڑھ کو اپنا مستقل مسکن بنائے ہوئے ہیں۔ وہ طبِ یونانی، اسلامیات اور اردو زبان و ادب کے ممتاز محقق، مصنف، مترجم، مؤرخِ طب، ماہرِ مطالعۂ مخطوطات (Manuscriptologist)، معالج اور ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔

انہوں نے مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر (اعظم گڑھ) سے فضیلت کی سند حاصل کی، جہاں اردو، عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی زبان و ادب کی تعلیم پائی۔ پھر اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1999ء میں بی یو ایم ایس (BUMS) اور 2003ء میں شعبۂ علم الادویہ سے ایم ڈی (MD) کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم کے بعد انہوں نے زیڈ وی ایم یونانی میڈیکل کالج، پونہ میں بطور لکچرر، سی ایس آئی آر (CSIR) کے ٹی کے ڈی ایل (TKDL) منصوبے میں یونانی ایکسپرٹ، اور اتر پردیش میں میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ جولائی 2006ء سے وہ وزارتِ آیوش، حکومتِ ہند کے تحت قائم سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (CCRUM)، نئی دہلی سے وابستہ ہیں، جہاں اس وقت سائنٹسٹ-IV کے عہدے پر فائز ہیں۔ طبِ یونانی، کلینیکل ریسرچ اور طبی مخطوطات کے مطالعے میں ان کی خدمات نمایاں سمجھی جاتی ہیں۔

حکیم فخر عالم کا اصل اختصاص طبِ یونانی کا کلاسیکی لٹریچر، تاریخِ طب، طبی مبادیات اور مخطوطات کی تحقیق و تدوین ہے۔ ان کی نمایاں تصانیف میں 'طبی اخلاقیات' ، 'رموز دواسازی'، 'یونانی طب کا مغل اور برطانوی عہد'، 'اردو طبی مترجمین'، 'ہندوستان کی طبی درس گاہیں'، 'رازیِ ہند، حکیم سید ظل الرحمن: ایک مطالعہ'، 'عکسِ خامہ'، 'یونانی طب میں تاریخِ قرابادین نویسی'، 'یونانی طب میں بیاض نویسی کی روایت'، 'یونانی طب میں مجربات نویسی کی روایت' اور 'یونانی طب میں مطب و معمول اور دستور نویسی کی روایت' شامل ہیں۔ انہوں نے جالینوس، رازی، نجیب الدین سمرقندی اور دیگر کلاسیکی اطباء کی متعدد اہم طبی تصانیف کی تحقیق، تدوین اور اردو ترجمہ بھی کیا ہے۔

ان کا ایک اہم علمی کارنامہ طبِ یونانی کے تجرباتی ادب کو چار جلدوں پر مشتمل ایک جامع انسائیکلوپیڈیا کی صورت میں مرتب کرنا ہے، جس میں قرابادین، بیاض، مجربات، معمولاتِ مطب اور دیگر طبی ذخیرے کی تقریباً ایک ہزار کتابوں اور ان کے مؤلفین کا تحقیقی تعارف پیش کیا گیا ہے۔ ان کے سو سے زائد تحقیقی مقالات مختلف قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں اور وہ طب، صحت اور سماجی موضوعات پر مستقل کالم نگاری بھی کرتے ہیں۔

علمی، ادبی اور سائنسی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈ (2017ء، 2019ء)، نواب واجد علی شاہ ایوارڈ، خلیل عباس صدیقی ایوارڈ، حکیم محمد اشرف میموریل ایوارڈ، علامہ حکیم محمد کبیر الدین ایوارڈ، ابنِ سینا انٹرنیشنل ایوارڈ، حکیم اجمل خاں گلوبل ایوارڈ اور محمد شفیع علیگ ایوارڈ نمایاں ہیں۔

وہ متعدد علمی و تحقیقی جرائد کے مدیر، مجلسِ ادارت یا سائنٹیفک ایڈوائزری بورڈ کے رکن رہ چکے ہیں اور آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس، آل انڈیا یونانی طبی کانگریس اور دیگر قومی علمی اداروں سے بھی فعال طور پر وابستہ ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے