- کتاب فہرست 182592
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ926 تعلیم343 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3287طنز و مزاح610 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4312 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6620افسانہ2688 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ابن منیب کے افسانے
سویا ہوا محل
گاؤں والے سخت تنگ آ چکے تھے۔ ڈاکو دن دیہاڑے آتے اور کسی کو بھی لوٹ کر لے جاتے۔ مریض کلینک کے باہر ‘بند ہے’ کا بورڈ دیکھ کر واپس چلے آتے۔ بچوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ سرکاری اہلکار کٹائی کے وقت گاؤں آتے اور شاہی حکمنامہ دکھا کر دو تہائی فصلیں
تعویذ
“مولوی صاحب، کوئی ایسا تعویذ لکھ دیں کہ میرے بچے رات کو بھوک سے رویا نہ کریں۔” مولوی صاحب نے تعویذ لکھ دیا۔ اگلے ہی روز کسی نے پیسوں سے بھرا تھیلا گھر کے صحن میں پھینکا۔ شوہر نے ایک دکان کرائے پر لے لی۔ کاروبار میں برکت ہوئی اور دکانیں بڑھتی گئیں۔
بوجھ
مجھے روز ایک ہی خواب آتا ہے۔ میں چیونٹی ہوں اور ایک بھاری بوجھ اٹھائے ایک تنگ راستے پر چڑھائی چڑھ رہا ہوں۔ راستے کے دونوں طرف گہرائی ہے۔ مجھے نیچے نظر نہیں آتا۔ کوئی پھونک مارتا ہے۔ میرے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔ میں بوجھ سمیت گہرائی میں گرتا ہوں۔ مگر مجھے
ناپاک
“آسمان والے کا واسطہ حاجی صاحب۔۔۔ آسمان والے کا واسطہ۔۔۔ ہمارے بچوں کو بچا لیں!” دروازہ کھلتے ہی یوحنا حاجی سلیم کے قدموں میں گر پڑا اور بلبلا کر رونے لگا۔ پیچھے اس کی بیوی گھٹنوں کے بل بیٹھی اپنے دو بچوں کو کسی پاگل دیوانے کی طرح پیار کئے جا رہی
چور
اسے پتا تھا کہ آج وہ پکڑا جائےگا۔ آنے والی مشکل کی بُو ہوا میں چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ صبح سویرے گھر سے نکلنا اور پھر گھنٹوں بعد لوٹنا اب اس کی عادت بن چکی تھی۔ مگر شاید آج کسی نے اس کا پیچھا کاٹ تھا۔ اور یہ عادت؟ یہ عادت اسے پڑی کیسے؟ پہلے
جیون راگ
صبح، آٹھ بج کر پچاس منٹ، روشنی۔۔۔ گھر کے خاموش کمرے میں ایک بڑے صوفے پر حیدر مزے سے لیٹا ایک دلچسپ ناول پڑھ رہا تھا۔ کالج سے سردیوں کی چھٹیاں تھیں اور مکمل فراغت ہونے کے باوجود وہ گھر والوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نہیں گیا تھا۔ آخر گھر میں آرام سے ناول
مکروہ پرندہ
دادی اماں کی کہانیوں میں مکروہ پرندے کا ذکر ضرور ہوتا تھا، جس نے ساتھ والے گاوں پر آفت نازل کر رکھی تھی۔ بچوں کے اصرار پر دادی اماں نے بتایا تھا کہ مکروہ پرندے میں ایک سینکڑوں سال پرانی درندہ صفت روح بستی ہے۔ وہ روح جس نے ماضی میں قبیلے کے قبیلے اور
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
