- کتاب فہرست 180887
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1997
ڈرامہ924 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1665 صحت108 تاریخ3355طنز و مزاح604 صحافت202 زبان و ادب1143
خطوط725 طرز زندگی30 طب980 تحریکات270 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4794 تحقیق و تنقید6720افسانہ2673 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2019نصابی کتاب442 ترجمہ4200-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1272
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1584
- کہہ مکرنی6
- کلیات574
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1216
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام35
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
ابن منیب کے افسانے
سویا ہوا محل
گاؤں والے سخت تنگ آ چکے تھے۔ ڈاکو دن دیہاڑے آتے اور کسی کو بھی لوٹ کر لے جاتے۔ مریض کلینک کے باہر ‘بند ہے’ کا بورڈ دیکھ کر واپس چلے آتے۔ بچوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ سرکاری اہلکار کٹائی کے وقت گاؤں آتے اور شاہی حکمنامہ دکھا کر دو تہائی فصلیں
تعویذ
“مولوی صاحب، کوئی ایسا تعویذ لکھ دیں کہ میرے بچے رات کو بھوک سے رویا نہ کریں۔” مولوی صاحب نے تعویذ لکھ دیا۔ اگلے ہی روز کسی نے پیسوں سے بھرا تھیلا گھر کے صحن میں پھینکا۔ شوہر نے ایک دکان کرائے پر لے لی۔ کاروبار میں برکت ہوئی اور دکانیں بڑھتی گئیں۔
بوجھ
مجھے روز ایک ہی خواب آتا ہے۔ میں چیونٹی ہوں اور ایک بھاری بوجھ اٹھائے ایک تنگ راستے پر چڑھائی چڑھ رہا ہوں۔ راستے کے دونوں طرف گہرائی ہے۔ مجھے نیچے نظر نہیں آتا۔ کوئی پھونک مارتا ہے۔ میرے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔ میں بوجھ سمیت گہرائی میں گرتا ہوں۔ مگر مجھے
ناپاک
“آسمان والے کا واسطہ حاجی صاحب۔۔۔ آسمان والے کا واسطہ۔۔۔ ہمارے بچوں کو بچا لیں!” دروازہ کھلتے ہی یوحنا حاجی سلیم کے قدموں میں گر پڑا اور بلبلا کر رونے لگا۔ پیچھے اس کی بیوی گھٹنوں کے بل بیٹھی اپنے دو بچوں کو کسی پاگل دیوانے کی طرح پیار کئے جا رہی
چور
اسے پتا تھا کہ آج وہ پکڑا جائےگا۔ آنے والی مشکل کی بُو ہوا میں چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ صبح سویرے گھر سے نکلنا اور پھر گھنٹوں بعد لوٹنا اب اس کی عادت بن چکی تھی۔ مگر شاید آج کسی نے اس کا پیچھا کاٹ تھا۔ اور یہ عادت؟ یہ عادت اسے پڑی کیسے؟ پہلے
جیون راگ
صبح، آٹھ بج کر پچاس منٹ، روشنی۔۔۔ گھر کے خاموش کمرے میں ایک بڑے صوفے پر حیدر مزے سے لیٹا ایک دلچسپ ناول پڑھ رہا تھا۔ کالج سے سردیوں کی چھٹیاں تھیں اور مکمل فراغت ہونے کے باوجود وہ گھر والوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نہیں گیا تھا۔ آخر گھر میں آرام سے ناول
مکروہ پرندہ
دادی اماں کی کہانیوں میں مکروہ پرندے کا ذکر ضرور ہوتا تھا، جس نے ساتھ والے گاوں پر آفت نازل کر رکھی تھی۔ بچوں کے اصرار پر دادی اماں نے بتایا تھا کہ مکروہ پرندے میں ایک سینکڑوں سال پرانی درندہ صفت روح بستی ہے۔ وہ روح جس نے ماضی میں قبیلے کے قبیلے اور
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1997
-
