- کتاب فہرست 181263
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1384 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1705 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6596افسانہ2679 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
امام ابن تیمیہ کا تعارف
شناخت: شیخ الاسلام، جلیل القدر فقیہ، محدث، متکلم اور حنبلی مکتبِ فکر کے ممتاز شارح اور اسلام کے مایہ ناز الٰہیات دان (Theologian)
شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم، جنہیں دنیا ابن تیمیہ کے نام سے جانتی ہے، 22 جنوری 1263ء (661ھ) کو حران (موجودہ ترکی) میں پیدا ہوئے۔ تاتاریوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث آپ کا خاندان دمشق (شام) منتقل ہو گیا۔ آپ نے ایک ایسے علمی گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں علم کی قندیلیں روشن تھیں۔ محض 20 برس کی عمر میں آپ نے اپنے والد کی جگہ درس و تدریس کا آغاز کیا اور بسم اللہ کی تفسیر میں اتنے نکات بیان کیے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما دنگ رہ گئے۔
امام ابن تیمیہ کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کے عقائد کی تطہیر تھی۔ اس دور میں یونانی فلسفہ اور منطق کے اثرات نے اسلامی تعلیمات کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔ آپ نے یونانی فلسفہ کا علمی محاسبہ کیا اور ثابت کیا کہ قرآن و حدیث کی سادہ تعلیمات ہی نجات کا راستہ ہیں۔
مزارات پر منتیں ماننے، شرکیہ رسوم اور غیر شرعی وسیلے کے خلاف آواز بلند کی اور بدعات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ابن عربی کے افکار اور وحدت الوجود کے نظریات کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا۔
امام ابن تیمیہ صرف قلم کے دھنی نہیں تھے بلکہ میدانِ جنگ کے شہسوار بھی تھے۔ جب تاتاریوں نے شام پر حملہ کیا، تو آپ نے عوام اور حکمرانوں کو جنگ پر ابھارا۔ تاتاری بادشاہ غازان خان سے آپ کی ملاقات تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جہاں آپ نے اس کے سامنے انتہائی بے باکی سے عدل و انصاف کی تلقین کی۔
آپ کی پوری زندگی حق گوئی کی پاداش میں آزمائشوں سے عبارت رہی۔ آپ کی آزادانہ فقہی آراء (مثلاً طلاق اور زیارتِ قبور کے مسائل) کی وجہ سے معاصر علما اور حکومت وقت نے آپ کو بارہا قید کیا۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی دمشق کے قلعے میں بحالتِ قید گزارے۔
آپ نے تقریباً 700 سے زائد کتب تصنیف کیں، جن میں 'منہاج السنہ'، 'الصارم المسلول' اور 'عقیدہ واسطیہ' نمایاں ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں امام ابن قیم اور حافظ ابن کثیر جیسے نابغہ روزگار علما شامل ہیں جنہوں نے آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔
وفات: 26 ستمبر 1328ء (20 ذو القعدہ 728ھ) کو دمشق کے قلعہ میں حالتِ اسیری میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Taymiyya
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
