- کتاب فہرست 180976
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1371 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3289طنز و مزاح598 صحافت200 زبان و ادب1699 خطوط739
طرز زندگی30 طب973 تحریکات271 ناول4269 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6540افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4225خواتین کی تحریریں5781-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1264
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1592
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت587
- نظم1206
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
امام ابن تیمیہ کا تعارف
شناخت: شیخ الاسلام، جلیل القدر فقیہ، محدث، متکلم اور حنبلی مکتبِ فکر کے ممتاز شارح اور اسلام کے مایہ ناز الٰہیات دان (Theologian)
شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم، جنہیں دنیا ابن تیمیہ کے نام سے جانتی ہے، 22 جنوری 1263ء (661ھ) کو حران (موجودہ ترکی) میں پیدا ہوئے۔ تاتاریوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث آپ کا خاندان دمشق (شام) منتقل ہو گیا۔ آپ نے ایک ایسے علمی گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں علم کی قندیلیں روشن تھیں۔ محض 20 برس کی عمر میں آپ نے اپنے والد کی جگہ درس و تدریس کا آغاز کیا اور بسم اللہ کی تفسیر میں اتنے نکات بیان کیے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما دنگ رہ گئے۔
امام ابن تیمیہ کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کے عقائد کی تطہیر تھی۔ اس دور میں یونانی فلسفہ اور منطق کے اثرات نے اسلامی تعلیمات کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔ آپ نے یونانی فلسفہ کا علمی محاسبہ کیا اور ثابت کیا کہ قرآن و حدیث کی سادہ تعلیمات ہی نجات کا راستہ ہیں۔
مزارات پر منتیں ماننے، شرکیہ رسوم اور غیر شرعی وسیلے کے خلاف آواز بلند کی اور بدعات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ابن عربی کے افکار اور وحدت الوجود کے نظریات کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا۔
امام ابن تیمیہ صرف قلم کے دھنی نہیں تھے بلکہ میدانِ جنگ کے شہسوار بھی تھے۔ جب تاتاریوں نے شام پر حملہ کیا، تو آپ نے عوام اور حکمرانوں کو جنگ پر ابھارا۔ تاتاری بادشاہ غازان خان سے آپ کی ملاقات تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جہاں آپ نے اس کے سامنے انتہائی بے باکی سے عدل و انصاف کی تلقین کی۔
آپ کی پوری زندگی حق گوئی کی پاداش میں آزمائشوں سے عبارت رہی۔ آپ کی آزادانہ فقہی آراء (مثلاً طلاق اور زیارتِ قبور کے مسائل) کی وجہ سے معاصر علما اور حکومت وقت نے آپ کو بارہا قید کیا۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی دمشق کے قلعے میں بحالتِ قید گزارے۔
آپ نے تقریباً 700 سے زائد کتب تصنیف کیں، جن میں 'منہاج السنہ'، 'الصارم المسلول' اور 'عقیدہ واسطیہ' نمایاں ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں امام ابن قیم اور حافظ ابن کثیر جیسے نابغہ روزگار علما شامل ہیں جنہوں نے آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔
وفات: 26 ستمبر 1328ء (20 ذو القعدہ 728ھ) کو دمشق کے قلعہ میں حالتِ اسیری میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Taymiyya
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
