- کتاب فہرست 180696
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4276 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6693افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2013نصابی کتاب440 ترجمہ4189-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی735
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
امام ابن تیمیہ کا تعارف
شناخت: شیخ الاسلام، جلیل القدر فقیہ، محدث، متکلم اور حنبلی مکتبِ فکر کے ممتاز شارح اور اسلام کے مایہ ناز الٰہیات دان (Theologian)
شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم، جنہیں دنیا ابن تیمیہ کے نام سے جانتی ہے، 22 جنوری 1263ء (661ھ) کو حران (موجودہ ترکی) میں پیدا ہوئے۔ تاتاریوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث آپ کا خاندان دمشق (شام) منتقل ہو گیا۔ آپ نے ایک ایسے علمی گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں علم کی قندیلیں روشن تھیں۔ محض 20 برس کی عمر میں آپ نے اپنے والد کی جگہ درس و تدریس کا آغاز کیا اور بسم اللہ کی تفسیر میں اتنے نکات بیان کیے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما دنگ رہ گئے۔
امام ابن تیمیہ کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کے عقائد کی تطہیر تھی۔ اس دور میں یونانی فلسفہ اور منطق کے اثرات نے اسلامی تعلیمات کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔ آپ نے یونانی فلسفہ کا علمی محاسبہ کیا اور ثابت کیا کہ قرآن و حدیث کی سادہ تعلیمات ہی نجات کا راستہ ہیں۔
مزارات پر منتیں ماننے، شرکیہ رسوم اور غیر شرعی وسیلے کے خلاف آواز بلند کی اور بدعات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ابن عربی کے افکار اور وحدت الوجود کے نظریات کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا۔
امام ابن تیمیہ صرف قلم کے دھنی نہیں تھے بلکہ میدانِ جنگ کے شہسوار بھی تھے۔ جب تاتاریوں نے شام پر حملہ کیا، تو آپ نے عوام اور حکمرانوں کو جنگ پر ابھارا۔ تاتاری بادشاہ غازان خان سے آپ کی ملاقات تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جہاں آپ نے اس کے سامنے انتہائی بے باکی سے عدل و انصاف کی تلقین کی۔
آپ کی پوری زندگی حق گوئی کی پاداش میں آزمائشوں سے عبارت رہی۔ آپ کی آزادانہ فقہی آراء (مثلاً طلاق اور زیارتِ قبور کے مسائل) کی وجہ سے معاصر علما اور حکومت وقت نے آپ کو بارہا قید کیا۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی دمشق کے قلعے میں بحالتِ قید گزارے۔
آپ نے تقریباً 700 سے زائد کتب تصنیف کیں، جن میں 'منہاج السنہ'، 'الصارم المسلول' اور 'عقیدہ واسطیہ' نمایاں ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں امام ابن قیم اور حافظ ابن کثیر جیسے نابغہ روزگار علما شامل ہیں جنہوں نے آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔
وفات: 26 ستمبر 1328ء (20 ذو القعدہ 728ھ) کو دمشق کے قلعہ میں حالتِ اسیری میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Taymiyya
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
