- کتاب فہرست 179902
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
انتظار حسین کے مضامین
ادب اور عشق
ایک بادشاہ نے ایک ملکہ کے حسن وجمال کا شہرہ سنا اور اس پر عاشق ہو گیا۔ پھر وہ تخت وتاج چھوڑ کر اس اجنبی ملک کی طرف اس ملکہ کا دیدار کرنے چلا۔ مگر اس بادشاہ سے زیادہ کمال شہزادہ جان عالم نے دکھایا جو ایک توتے کی باتوں میں آکر انجمن آرا کا نادیدہ عاشق
ناول، حقیقت نگاری اور غالب
یہ درست ہے کہ اردو میں ناول کی داغ بیل ڈپٹی نذیر احمد نے ڈالی اور مختصر افسانے کے باوا آدم منشی پریم چند ہیں۔ پھر بھی میرا یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ نئے اردو فکشن کی تاریخ غالب سے شروع ہونی چاہئے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ادب میں غالب کی ذات
گمشدہ امیر خسرو
امیر خسرو اپنے زمانے میں ایک امیر خسرو تھے۔ ہمارے زمانے تک آتے آتے ایک سے کئی بن گئے۔ جامع اور سالم شخصیتوں کے ساتھ مشکل یہی تو ہوتی ہے کہ تصور میں ان کا اکٹھا سمانا مشکل ہوتا ہے۔ اُدھر آدمی بہت پھیلا ہوا تھا۔ ادھر روز بروز نظر کمزور اور تصور محدود
نیا ادب اور پرانی کہانیاں
علی گڑھ میں کیلے کا ایک باغ تھا۔ طوائفوں کی رسم تھی کہ ہر شبِ عاشور کو اس باغ میں کیلے کا پتا توڑنے جاتی تھیں۔ ایک برس شہر میں فساد ہو گیا۔ باغ کے ہندو مالک نے لٹھ بند جاٹ بٹھا دیے کہ شب عاشور کو وہاں کوئی قدم نہ رکھے۔ اس پر وہ رسم جو طوائفوں کے لئے
علامتوں کا زوال
مشہور انگریز مؤرخ مسٹر گبن نے کہا ہے کہ دنیا میں دو بڑے پہلوان گزرے ہیں۔ رستم اور حضرت علی۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ گبن نے واقعی یہ بات کہی ہے یا نہیں، اس کے راوی ہماری بستی کے ذاکر صاحب ہیں جو مجلس میں گرمی پیدا کرنے کے لئے گبن کا یہ قول سنایا کرتا تھے۔
لکھنا آج کے زمانے میں
میں سوچتا ہوں کہ ہم غالب سے کتنے مختلف زمانے میں جی رہے ہیں۔ اس شخص کا پیشہ آبا سپہ گری تھا۔ شاعری کو اس نے ذریعۂ عزت نہیں سمجھا۔ غالب کی عزت غالب کی شاعری تھی۔ شاعری اس کے لیے کسی دوسری عزت کا ذریعہ نہ بن سکی۔ اب شاعری ہمارے لیے ذریعۂ عزت ہے مگر
اجتماعی تہذیب اور افسانہ
ایک روز کا ذکر ہے کہ لاہور کے آسمان پر ایک دودھیا دھاری کھنچتی دکھائی دی۔ غورسے دیکھا تو بہت بلندی پر ایک گول سی چیز حرکت کرتی نظر آئی۔ یہ لمبی دودھیا دھاری اسی کی دم تھی۔ شہر میں یہ خبر اڑ گئی کہ اسٹپنک گزر رہا ہے، مگر دوسرے دن اخباروں میں ایک تردیدی
ادب کی الف، ب، ت
میری نانی اماں نے تو خیر مغلوں کا سکہ بھی دیکھا تھا مگر میں نے بچپن میں بس دو سکے دیکھے۔ ملکہ کی اکنی جو بہت گھس گئی تھی اور جارج پنجم کا روشن اور ابھری مورت والا پیسا۔ اب یہ دونوں سکے ٹکسال باہر ہیں۔ حالانکہ عظیم انسان کی اصطلاح اب بھی چالو ہے۔ اصطلاحیں
واپس کلاسیکیت کی طرف
غالب کو عام طور پر اردو کا سب سے مشکل شاعر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے زیادہ تر اشعار ناقابل فہم اور مبہم تصور کیے جاتے ہیں جو ادیبوں اور نقادوں کو گہرے تجزیاتی مطالعے پر مجبور کرتے ہیں۔ غالب کی زیادہ تر شرحیں ایسی ہیں گویا معما حل کیا جا رہا ہو۔ یہی سبب
سجاد ظہیر کا نظریۂ ادب
ہمارے بزرگ خط لکھتے ہوئے بالعموم اس فقرے پر اسے تمام کرتے تھے۔ برخوردار اِس تھوڑے لکھے کو بہت سمجھ اور اپنی خیریت و حالات تفصیل سے لکھ۔ خطوں میں لکھا جانے والا یہ رسمی فقرہ اس وقت جب میں سجاد ظہیر کی تحریریں پڑھ رہا ہوں بہت بامعنی نظر آ رہا ہے۔
فسادات کے افسانوں کا پروپیگنڈائی پہلو
فسادات کے افسانوں کے بارے میں سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ فسادات کے افسانے ہیں یا نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان افسانوں کا موضوع فسادات ہی ہیں لیکن دقت یہ آپڑتی ہے کہ ان میں فسادات کو محض قتل و غارت گری، آتش زدگی، اور عصمت دری کے واقعات سے عبارت
ادب، گھوڑے سے گفتگو
پاکستان کے بارے میں چیخوف نے ایک افسانہ لکھا ہے۔ اگر کسی دوست کو یہ یاد ہے کہ اس افسانے کا ذکر میں پہلے بھی کر چکا ہوں تو وہ مجھے یہ سوچ کر معاف کر دے کہ اپنے بارے میں جو بات ہوتی ہے، وہ بار بار یاد آتی ہے۔ اس افسانے میں ایک کوچوان کا بیٹا مر گیا ہے۔
ڈیڑھ بات اپنے افسانے پر
میں پناہ مانگتا ہوں ہوں اپنے اس قاری سے، جس نے ’دن‘ پڑھا اور کہا کہ کہانی تشنہ ہے کہ تحسینہ اور ضمیر کا اختلاط تو ہوا ہی نہیں اور میں پناہ مانگتا ہوں اس قاری سے جس نے ’بستی‘ پڑھا، صابرہ کو دیکھا اور سوال اٹھایا کہ انتظار حسین کے یہاں عورت کیوں نظر نہیں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
