- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3267طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1618 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
جاوید صدیقی کا تعارف
پیدائش : 13 Jan 1942 | رام پور, اتر پردیش
LCCN :no96008470
جاوید صدیقی: معروف سکرین رائٹر، ڈراما نگار، مکالمہ نویس، خاکہ نگار اور کہانی کار ہیں۔ ان کا جنم 13 جنوری 1942ء کو رام پور کے ایک ایسے خاندان میں ہوا جہاں پڑھنے لکھنے کا رواج ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ ادیبوں، شاعروں، وکیلوں اور ڈاکٹروں کی بھرمار تھی۔ کچھ ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے دور دور تک خاندان کا نام روشن کیا، جیسے علی برادران (مولانا محمد علی جوہر اور ان کے بھائی مولانا شوکت علی)، جن کے بغیر آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ جاوید صدیقی کے پَردادا حافظ احمد علی خاں شوق انھیں برادران کے چچا زاد بھائی تھے۔ وہی احمد علی خاں شوق جو نواب رام پور کے وزیر اور رضا لائبریری کے پہلے لائبریرین رہے۔ جاوید صدیقی کے والد شجاعت علی نے بھی رضا لائبریری میں اسسٹنٹ لائبریرین کی حیثیت سے برسوں کام کیا، بعد میں سیاسی میدان میں نام کمایا اور ہر سچے محبّ وطن کی طرح جیل کی صعوبتیں بھی اٹھائیں۔ جاوید صدیقی سترہ برس کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوا اور انھیں بمبئی آنا پڑا۔ یہاں چچا مولانا زاہد شوکت علی کی رہنمائی میں اپنے خاندانی اخبار "خلافت" میں بطور صحافی اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انھوں نے "انقلاب" اور "ہندوستان" جیسے اخبارات میں کام کرنا شروع کیا اور پھر اپنا اخبار "اردور پورٹر" نکالا جس سے 1975ء تک وابستہ رہے۔
ایمرجنسی کے زمانے میں جب صحافت کا دروازہ بند ہوا تو فلمی دنیا کے دروازے کھل گئے۔ 1977ء میں انھوں نے ستیہ جیت رے کی "شطرنج کے کھلاڑی" سے فلم انڈسٹری میں اپنے اہم سفر کا آغاز کیا اور بھارت کے کچھ مشہور فلم سازوں کے ساتھ کام کیا۔ ان کے کریڈٹ پر مظفر علی کی "امراؤ جان"، دیپک شیوداسانی کی "باغی"، منی رتنم کی "انجلی"، یش چوپڑا کی "یہ دل لگی"، دھرمیش درشن کی "راجہ ہندوستانی"، مہیش بھٹ کی "چاہت"، شیام بینیگل کی "زبیدہ"، سبھاش گھئی کی "تال"، خالد محمد کی "فضاء" اور راکیش روشن کی "کوئی مل گیا"، جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔
جاوید صدیقی کو اپنی نسل کے تمام بڑے ستاروں اور اداکاروں کے لیے لکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ شاہ رخ خان آغاز ہی سے انھیں اپنے لیے بخت آور مانتے آئے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ "بازی گر"، " ڈر"، "پردیس" اور "دل والے دلھنیا لے جائیں گے"، جیسی کئی ابتدائی ہٹ فلموں میں کام کر چکے ہیں۔
جاوید صدیقی نے تھیٹر میں بھی نام کمایا۔ "تمھاری امرتا"، "سالگره"، "ہمیشه"، "بیگم جان"، "ہمسفر"، "اندھے چوہے"، "کچے لمحے"، "آپ کی سونیا" اور "ایک سفر نامہ" جیسے مقبول اسٹیج ڈرامے لکھے اور ڈائریکٹ کیے۔
فلم اور تھیٹر کے علاوہ جاوید صدیقی نے اُردو ادب کو بھی ثروت مند کیا ہے۔ خاکے لکھے، کہانیاں بھی اور خاکہ نما بھی۔ ادب نوازوں نے ان خاکوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اتنی ہمت بڑھائی کہ ایک کتاب شائع ہو گئی جس کا نام "روشن دان" رکھا۔ پذیرائی اور ہمت افزائی کا سلسلہ بڑھا تو خاکوں کے دو اور مجموعے "لنگر خانہ" اور "اجالے" بھی منظر عام پر آ گئے۔ اب ان تینوں کتابوں کو یکجا کر کے "میرے محترم" کا روپ دیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس مجموعے کی اشاعت کا بیڑہ "بک کارنر" نے اٹھایا اور بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ جاوید صدیقی نے کہانیاں لکھیں تو پہلا مجموعہ "مٹھی بھر کہانیاں" کے نام سے منظر عام پر آیا۔ اس کتاب کا عنوان اور سرورق کی پینٹنگ دونوں گلزار صاحب کی عطا ہیں۔ "مور پنکھی" ان کا دوسرا اور تازہ ترین کہانیوں کا مجموعہ ہے۔
جاوید صدیقی کو چار مرتبہ "لائف ٹائم اچیو مینٹ ایوارڈ" سے نوازا جا چکا ہے۔ "بازی گر"، "دل والے دلھنیا لے جائیں گے" اور "راجہ ہندوستانی" جیسی فلموں میں اپنے ڈائیلاگز اور سکرین پلے کے لیے دو "فلم فیئر ایوارڈز" اور "اسٹار سکرین ایوارڈز" اپنے نام کروا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ "امراؤ جان" کے لیے "بنگال فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن ایوارڈ" بھی حاصل کیا۔ 2001ء میں ریڈیو اور ٹی وی سے وابستگی پر را پا ٹرسٹ کی جانب سے "آل انڈیا ایوارڈ" ملا۔ 2006ء میں انھیں ہندی سنیما کے لیے خدمات پر "سہارا اودھ سمان" سے سرفراز کیا گیا۔ 2007ء میں غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی کی جانب سے اُردو ڈرامے کا "ہم سب غالب انعام" دیا گیا۔ اتر پردیش اکادمی لکھنؤ نے "روشن دان" کو 2011ء کی بہترین کتاب پر سند توصیف عطا کی۔ 2021ء میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے "مٹھی بھر کہانیاں" کو شاندار پذیرائی ملی۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no96008470
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
