- کتاب فہرست 177688
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
جیم عباسی کے افسانے
زرد ہتھیلی
جنوری کے ابتدائی دن تھے اور سردی اپنے زوروں پہ تھی۔ رات کے آخری پہر میں مدرسے کی عمارت اور چار دیواری میں گھرے صحن پر گھپ اندھیرا چھایاہوا تھا۔ صرف حفّاظ کا کمرہ روشن تھا جہاں بچوں کی کثیر تعداد، رحلوں پر پاک کتاب سامنے رکھے، ایک توازن کے ساتھ جسم کو
مونچھ میں اٹکے ایک قطرے کی کہانی
ناک کی سیدھ میں جاتی سڑک کو کنارے کنارے کھڑے درختوں کی شاخوں نے مل کر محراب دار کر دیا تھا۔ دونوں قطار درخت ایسے گھنے اور آپس میں گتھے ہوے تھے کہ جیسے نہر کا بلند پشتہ۔ یہ کچی سڑک سیدھے جا کرگاؤں کے پاؤں کو چھوتی اور پھر دائیں طرف منھ کر کے دیگر گوٹھوں
مفتی
مفتی سجاد حسین پھر نماز پڑھاتے ہوے بھول پڑے۔ فجر کی نماز میں پہلی رکعت مکمل کرکے تشہد میں بیٹھ گئے۔ مسجد کے قدیمی نحیف وناتواں موذن گل محمد نے مفتی صاحب کو خبردار کرنے کے لیے پہلے تو اپنی بلغمی آواز میں کھنکھاریں ماریں، مگر مفتی صاحب لاتعلق و بے خبر
پانچ من گلاب کے پھول
بارہ آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔ اس کا جسم چارپائی پر بے دم پڑا تھا۔ سر داہنی جانب ڈھلکا اور بازو اوپری طرف اسی جگہ، جہاں انھیں اسے اٹھا کر رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔ محمد زمان اس کے اوپر کھڑا شکنوں سے بھری پیشانی لیے کچھ پڑھتا، پھونکتا جا رہا تھا۔
نوری
عمر کا وہ حصہ ہے جس کو سارتر کا ایک قول عمدگی سے بیان کرتا ہے۔ لکھتا ہے، ’’ایک ہی دن ہے اوروہ بار بار آتا ہے۔ یہ فجر کے وقت ہمیں دیا جاتا ہے اور بوقت مغرب چھین لیا جاتا ہے۔‘‘ اب یہ بھی بات نہیں کہ عمرِ نوح میں ہوں۔ نہیں نہیں، اچھے برسوں میں ہوں، لیکن
اس وقت تو یوں لگتا ہے
سندھ پر گرمی آریائی جنگجوؤں کی طرح حملہ آور ہو چکی تھی۔ میں دوپہر کے کھانے اور قیلولے کا وقفہ لینے اپنے کوارٹر میں آیا تھا مگر گرمی کی شدت مجھے تھر کا تپتا ریگستان محسوس کروا رہی تھی۔ چھت میں لگا پنکھا بھی عیالدار ہاری کی مانند آگ اگلے جا رہا تھا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
