- کتاب فہرست 188854
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1036 تعلیم392 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1785 صحت109 تاریخ3608طنز و مزاح758 صحافت220 زبان و ادب1974 خطوط825
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5062 سیاسی376 مذہبیات5061 تحقیق و تنقید7442افسانہ3034 خاکے/ قلمی چہرے292 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب570 ترجمہ4622خواتین کی تحریریں6309-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1396
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1680
- کہہ مکرنی7
- کلیات725
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت613
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
کلیم الدین احمد کے مضامین
داستان کیا ہے؟
’’داستان طرازی منجملہ فنون سخن ہے، سچ ہے کہ دل بہلانے کے لئے اچھا فن ہے۔‘‘ غالب ’’ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا رسول بادشاہ، چڑیا لائی مونگ کا دانہ، چڑالایا چانول کا دانہ، دونوں نے مل کر کھچڑی پکائی۔‘‘ ان یا ان جیسے لفظوں سے
اردو ادب میں طنز و ظرافت
(۱) زندگی درد و غم کا دوسرا نام ہے۔ ہماری زندگی ہی ہماری مصیبتوں کا پیش خیمہ ہے۔ ہم اس دنیا میں ستائے جانے کے لئے لائے گئے ہیں۔ انسان کمزور ہے اور اس کا ماحول لاپروا۔ انسان حساس ہے اس لئے اس کادل بہ آسانی رنج و الم کا نشانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے دل
تنقید کیا ہے؟
(۱) تمہید یوں کہنے کو تو تنقید کا سرمایہ بہت کچھ ہے، لیکن یہ سرمایہ کچھ یوں ہی سا ہے، اندر سے کھوکھلا۔ آپ نے سینٹسؔ بری کی بھاری بھرکم کتاب ’’تنقید کی تاریخ‘‘ دیکھی ہوگی اور نقادوں کی لمبی چوڑی فہرست دیکھ کر مرعوب بھی ہوں گے۔ ایسے بزرگ، نامی،
روایات اور اردو شاعری
اردو شاعری کو دو مختلف روایات ورثہ میں ملیں۔ ایک طرف تو فارسی روایات تھیں جن میں عربی رنگ آمیزی تھی اور دوسری جانب بھاشا اور سنسکرت روایات جن کی جڑیں ہندوستان کی فطری، معاشرتی، مذہبی خصوصیات میں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ دونوں چشمے مل کر ایک چوڑا
تنقید اور ادبی تنقید
(۱) اس میں ایک بات یہاں اور جوڑ لیجئے کہ بچے کی تنقیدی صلاحیت واستعداد بھی اسی طرح بالکل فطری اور طبعی انداز سے خود بخود بڑھتی اور ابھرتی ہے، یہ صلاحیت بڑی دھیمی رفتار سے ابھرتی ہے اور بالکل غیرمرئی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جہاں
تحلیل نفسی اور فن
(الف) یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تحلیل نفسی ’’ان عوامل کو آشکار کر سکتی ہے جو ایک انسان کو فنی اعتبار سے موجد بناتے ہیں۔‘‘ اگر تحلیل نفسی کچھ نہ کرکے صرف یہی کرتی تو وہ ادبی تنقید اور انسانیت دونوں کی طرف سے قابل مبارکباد ہوتی۔ دنیا بہت دنوں سے اس حیرت
الفاظ اور شاعری
الفاظ اور شاعری میں ایک ناگزیر ربط ہے۔ اردو شعرا اس ربط سے سراسر بیگانہ نظر آتے ہیں۔ شاعری کی منزلیں طے کرنے کے لئے الفاظ کی رہبری کی ضرورت ہے۔ اگر الفاظ رہنما نہ ہوں تو قدم آگے نہیں بڑھ سکتا ہے لیکن رہنما کو منزل مقصود سمجھ لینا کم عقلی کی دلیل ہے۔
داستان کی ٹکنیک
’’لکھنؤ سے بڑھ کر داستان گوئی کا چرچا اور کہیں کم ہوگا۔ بیس پچیس یاران صادق اور دوستان موافق شب کے وقت کہ پردہ دار عاشقاں ہے، ایک مقام پر جمع ہوئے۔ کوئی گنا چھیل رہا ہے، کوئی پونڈے پر چاقو تیز کر رہا ہے۔ جابجا پیالیوں میں افیون گھل رہی ہے۔ حقیقت تو
فن کا ایک نظریہ
فن مصنوعی شے نہیں ہے۔ یہ غیر فطری پیداوار نہیں ہے جسے ہماری فطری ابتدائی تحریکوں کے غیرفطری انسداد کے ذریعہ وجود میں لایا جاتا ہے۔ یہ لازمی طور پر انسانی پیداوارہے۔ حیوانی دنیا میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے اور یہ کلچر کا سب سے زیادہ قابل قدر جز ہے
شعریت کیا ہے؟
سرورؔ صاحب فرماتے ہیں، ’’معاصر کے حصۂ نظم میں شعریت کم ہے۔ شعریت سے میری مراد وہ رسیلاپن نہیں ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے بلکہ وہ جذبات کی شدت، وہ والہانہ کیفیت، وہ بات کو اس طرح کہنے کی عادت کہ پڑھنے والا تھوڑی دیر کے لئے چونک اٹھے اور اس کے سامنے
ریڈیو اور کلچر
(۱) سائنس کی ترقی نے ساری دنیا ہی بدل دی ہے لیکن یہ سائنس کوئی نئی چیز نہیں۔ جب انسان نے پہلی مرتبہ گردوپیش کی چیزوں سے اپنے آرام، اپنی ترقی کے لئے کام لینا شروع کیا، اس وقت سائنس نے جنم لیا۔ اس ترقی کی رفتار بہت سست رہی۔ نئی معلومات میں اضافہ ہوتا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
