- کتاب فہرست 180695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4275 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6695افسانہ2671 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4185-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ386
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
کلیم الدین احمد کے مضامین
داستان کیا ہے؟
’’داستان طرازی منجملہ فنون سخن ہے، سچ ہے کہ دل بہلانے کے لئے اچھا فن ہے۔‘‘ غالب ’’ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا رسول بادشاہ، چڑیا لائی مونگ کا دانہ، چڑالایا چانول کا دانہ، دونوں نے مل کر کھچڑی پکائی۔‘‘ ان یا ان جیسے لفظوں سے
اردو ادب میں طنز و ظرافت
(۱) زندگی درد و غم کا دوسرا نام ہے۔ ہماری زندگی ہی ہماری مصیبتوں کا پیش خیمہ ہے۔ ہم اس دنیا میں ستائے جانے کے لئے لائے گئے ہیں۔ انسان کمزور ہے اور اس کا ماحول لاپروا۔ انسان حساس ہے اس لئے اس کادل بہ آسانی رنج و الم کا نشانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے دل
روایات اور اردو شاعری
اردو شاعری کو دو مختلف روایات ورثہ میں ملیں۔ ایک طرف تو فارسی روایات تھیں جن میں عربی رنگ آمیزی تھی اور دوسری جانب بھاشا اور سنسکرت روایات جن کی جڑیں ہندوستان کی فطری، معاشرتی، مذہبی خصوصیات میں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ دونوں چشمے مل کر ایک چوڑا
تنقید اور ادبی تنقید
(۱) اس میں ایک بات یہاں اور جوڑ لیجئے کہ بچے کی تنقیدی صلاحیت واستعداد بھی اسی طرح بالکل فطری اور طبعی انداز سے خود بخود بڑھتی اور ابھرتی ہے، یہ صلاحیت بڑی دھیمی رفتار سے ابھرتی ہے اور بالکل غیرمرئی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جہاں
تحلیل نفسی اور فن
(الف) یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تحلیل نفسی ’’ان عوامل کو آشکار کر سکتی ہے جو ایک انسان کو فنی اعتبار سے موجد بناتے ہیں۔‘‘ اگر تحلیل نفسی کچھ نہ کرکے صرف یہی کرتی تو وہ ادبی تنقید اور انسانیت دونوں کی طرف سے قابل مبارکباد ہوتی۔ دنیا بہت دنوں سے اس حیرت
الفاظ اور شاعری
الفاظ اور شاعری میں ایک ناگزیر ربط ہے۔ اردو شعرا اس ربط سے سراسر بیگانہ نظر آتے ہیں۔ شاعری کی منزلیں طے کرنے کے لئے الفاظ کی رہبری کی ضرورت ہے۔ اگر الفاظ رہنما نہ ہوں تو قدم آگے نہیں بڑھ سکتا ہے لیکن رہنما کو منزل مقصود سمجھ لینا کم عقلی کی دلیل ہے۔
داستان کی ٹکنیک
’’لکھنؤ سے بڑھ کر داستان گوئی کا چرچا اور کہیں کم ہوگا۔ بیس پچیس یاران صادق اور دوستان موافق شب کے وقت کہ پردہ دار عاشقاں ہے، ایک مقام پر جمع ہوئے۔ کوئی گنا چھیل رہا ہے، کوئی پونڈے پر چاقو تیز کر رہا ہے۔ جابجا پیالیوں میں افیون گھل رہی ہے۔ حقیقت تو
فن کا ایک نظریہ
فن مصنوعی شے نہیں ہے۔ یہ غیر فطری پیداوار نہیں ہے جسے ہماری فطری ابتدائی تحریکوں کے غیرفطری انسداد کے ذریعہ وجود میں لایا جاتا ہے۔ یہ لازمی طور پر انسانی پیداوارہے۔ حیوانی دنیا میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے اور یہ کلچر کا سب سے زیادہ قابل قدر جز ہے
شعریت کیا ہے؟
سرورؔ صاحب فرماتے ہیں، ’’معاصر کے حصۂ نظم میں شعریت کم ہے۔ شعریت سے میری مراد وہ رسیلاپن نہیں ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے بلکہ وہ جذبات کی شدت، وہ والہانہ کیفیت، وہ بات کو اس طرح کہنے کی عادت کہ پڑھنے والا تھوڑی دیر کے لئے چونک اٹھے اور اس کے سامنے
ریڈیو اور کلچر
(۱) سائنس کی ترقی نے ساری دنیا ہی بدل دی ہے لیکن یہ سائنس کوئی نئی چیز نہیں۔ جب انسان نے پہلی مرتبہ گردوپیش کی چیزوں سے اپنے آرام، اپنی ترقی کے لئے کام لینا شروع کیا، اس وقت سائنس نے جنم لیا۔ اس ترقی کی رفتار بہت سست رہی۔ نئی معلومات میں اضافہ ہوتا
فنکار اور لاشعور
فرائڈؔ لکھت اہے کہ ’’آپ التباس کے شکار ہیں کہ آپ کو نفسی آزادی حاصل ہے اورآپ اس سے دست بردار ہونا نہیں چاہتے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ یہاں پرآپ کے نظریے میں مجھے اختلاف ہے۔‘‘ دبستانِ فرائڈ آزادی کو مسترد کرتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے
اردو کی عشقیہ شاعری
’’اردو کی عشقیہ کی شاعری‘‘ جناب رگھوپتی سہائے فراقؔ کی تصنیف ہے۔ فراقؔ صاحب ان چند پڑھے لکھے لوگوں میں ہیں جو ادب اور ادبی مسائل پر ٹھنڈے دل سے غوروفکر کرتے ہیں اور غوروفکر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ’’اردو کی عشقیہ شاعری‘‘ اس موضوع پر اپنے رنگ کی غالباً
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
