- کتاب فہرست 179430
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3317طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4315 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4303خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
کلیم الدین احمد کے مضامین
داستان کیا ہے؟
’’داستان طرازی منجملہ فنون سخن ہے، سچ ہے کہ دل بہلانے کے لئے اچھا فن ہے۔‘‘ غالب ’’ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا رسول بادشاہ، چڑیا لائی مونگ کا دانہ، چڑالایا چانول کا دانہ، دونوں نے مل کر کھچڑی پکائی۔‘‘ ان یا ان جیسے لفظوں سے
اردو ادب میں طنز و ظرافت
(۱) زندگی درد و غم کا دوسرا نام ہے۔ ہماری زندگی ہی ہماری مصیبتوں کا پیش خیمہ ہے۔ ہم اس دنیا میں ستائے جانے کے لئے لائے گئے ہیں۔ انسان کمزور ہے اور اس کا ماحول لاپروا۔ انسان حساس ہے اس لئے اس کادل بہ آسانی رنج و الم کا نشانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے دل
تنقید کیا ہے؟
(۱) تمہید یوں کہنے کو تو تنقید کا سرمایہ بہت کچھ ہے، لیکن یہ سرمایہ کچھ یوں ہی سا ہے، اندر سے کھوکھلا۔ آپ نے سینٹسؔ بری کی بھاری بھرکم کتاب ’’تنقید کی تاریخ‘‘ دیکھی ہوگی اور نقادوں کی لمبی چوڑی فہرست دیکھ کر مرعوب بھی ہوں گے۔ ایسے بزرگ، نامی،
روایات اور اردو شاعری
اردو شاعری کو دو مختلف روایات ورثہ میں ملیں۔ ایک طرف تو فارسی روایات تھیں جن میں عربی رنگ آمیزی تھی اور دوسری جانب بھاشا اور سنسکرت روایات جن کی جڑیں ہندوستان کی فطری، معاشرتی، مذہبی خصوصیات میں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ دونوں چشمے مل کر ایک چوڑا
تنقید اور ادبی تنقید
(۱) اس میں ایک بات یہاں اور جوڑ لیجئے کہ بچے کی تنقیدی صلاحیت واستعداد بھی اسی طرح بالکل فطری اور طبعی انداز سے خود بخود بڑھتی اور ابھرتی ہے، یہ صلاحیت بڑی دھیمی رفتار سے ابھرتی ہے اور بالکل غیرمرئی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جہاں
تحلیل نفسی اور فن
(الف) یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تحلیل نفسی ’’ان عوامل کو آشکار کر سکتی ہے جو ایک انسان کو فنی اعتبار سے موجد بناتے ہیں۔‘‘ اگر تحلیل نفسی کچھ نہ کرکے صرف یہی کرتی تو وہ ادبی تنقید اور انسانیت دونوں کی طرف سے قابل مبارکباد ہوتی۔ دنیا بہت دنوں سے اس حیرت
الفاظ اور شاعری
الفاظ اور شاعری میں ایک ناگزیر ربط ہے۔ اردو شعرا اس ربط سے سراسر بیگانہ نظر آتے ہیں۔ شاعری کی منزلیں طے کرنے کے لئے الفاظ کی رہبری کی ضرورت ہے۔ اگر الفاظ رہنما نہ ہوں تو قدم آگے نہیں بڑھ سکتا ہے لیکن رہنما کو منزل مقصود سمجھ لینا کم عقلی کی دلیل ہے۔
داستان کی ٹکنیک
’’لکھنؤ سے بڑھ کر داستان گوئی کا چرچا اور کہیں کم ہوگا۔ بیس پچیس یاران صادق اور دوستان موافق شب کے وقت کہ پردہ دار عاشقاں ہے، ایک مقام پر جمع ہوئے۔ کوئی گنا چھیل رہا ہے، کوئی پونڈے پر چاقو تیز کر رہا ہے۔ جابجا پیالیوں میں افیون گھل رہی ہے۔ حقیقت تو
فن کا ایک نظریہ
فن مصنوعی شے نہیں ہے۔ یہ غیر فطری پیداوار نہیں ہے جسے ہماری فطری ابتدائی تحریکوں کے غیرفطری انسداد کے ذریعہ وجود میں لایا جاتا ہے۔ یہ لازمی طور پر انسانی پیداوارہے۔ حیوانی دنیا میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے اور یہ کلچر کا سب سے زیادہ قابل قدر جز ہے
شعریت کیا ہے؟
سرورؔ صاحب فرماتے ہیں، ’’معاصر کے حصۂ نظم میں شعریت کم ہے۔ شعریت سے میری مراد وہ رسیلاپن نہیں ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے بلکہ وہ جذبات کی شدت، وہ والہانہ کیفیت، وہ بات کو اس طرح کہنے کی عادت کہ پڑھنے والا تھوڑی دیر کے لئے چونک اٹھے اور اس کے سامنے
ریڈیو اور کلچر
(۱) سائنس کی ترقی نے ساری دنیا ہی بدل دی ہے لیکن یہ سائنس کوئی نئی چیز نہیں۔ جب انسان نے پہلی مرتبہ گردوپیش کی چیزوں سے اپنے آرام، اپنی ترقی کے لئے کام لینا شروع کیا، اس وقت سائنس نے جنم لیا۔ اس ترقی کی رفتار بہت سست رہی۔ نئی معلومات میں اضافہ ہوتا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1992
-
