Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kalidas Gupta Raza's Photo'

کالی داس گپتا رضا

1925 - 2001 | ممبئی, انڈیا

ممتاز محقق، دیوان غالب زمانی لحاظ سے مرتب کرنے کے لیے معروف

ممتاز محقق، دیوان غالب زمانی لحاظ سے مرتب کرنے کے لیے معروف

کالی داس گپتا رضا کا تعارف

تخلص : 'رضا'

اصلی نام : کالی داس گپتا

پیدائش : 25 Aug 1925 | سکندرپور, پنجاب

وفات : 21 Mar 2001 | دلی, انڈیا

LCCN :n82077030

اب کوئی ڈھونڈ ڈھانڈ کے لاؤ نیا وجود

انسان تو بلندی انساں سے گھٹ گیا

شناخت: ممتاز غالب شناس، محقق، مدون، شاعر اور ہمہ جہت ادیب

کالی داس گپتا رضاؔ اردو دنیا کے ممتاز محقق، مدون اور بالخصوص غالب شناس کے طور پر معروف ہیں۔ انہوں نے غالب کی زندگی اور کلام کی تحقیق و ترتیب میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور تدوین، تنقید اور شاعری پر وقیع علمی کام کیا۔ ان کی ایک ہی کتاب "دیوانِ غالب تاریخی ترتیب سے" ان کا نام ادب کی تاریخ میں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔

کالی داس گپتا رضاؔ 25 اگست 1925ء کو مکند پور ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے بزرگوں سے ملنے والے سنسکار ان کی شخصیت کا حصہ تھے۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی، لیکن اردو ان کے اظہار اور احساسات کی بنیادی زبان بنی جس سے انہیں والہانہ لگاؤ تھا۔

ابتدائی تعلیم کے بعد وہ عملی زندگی سے وابستہ ہوئے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے بیوپاری تھے اور تجارت کی غرض سے تقریباً بیس سال مشرقی افریقہ (نیروبی) میں مقیم رہے۔ علی سردار جعفری کے بقول وہ زندہ رہنے کے لیے بیوپار کرتے تھے اور زندگی کو حسین بنانے کے لیے ادب کی خدمت کرتے تھے۔ بعد ازاں ان کی زندگی کا بڑا حصہ ممبئی میں گزرا، جہاں وہ اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ ہمہ وقت علمی و تحقیقی کاموں میں منہمک رہے۔

ان کی علمی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو غالب شناسی ہے۔ وہ غالب کے عاشق اور دیوانے تھے اور ان کے جنون کا یہ عالم تھا کہ شب و روز غالب کی تحقیق میں سرگرداں رہتے۔ انہوں نے غالب پر تقریباً بیس کتب تصنیف کیں جن میں: متعلقاتِ غالب، غالبیات چند عنوانات، دیوانِ غالب عکسی، غالب درونِ خانہ، پنج آہنگ میں مکاتیبِ غالب اور تفہیمِ غالب کے دو حرف وغیرہ شامل ہیں۔ غالب کے علاوہ انہوں نے داغ، ذوق، آتش اور چکبست کے کلام پر بھی تحقیقی کام کیا۔

رضاؔ صاحب ایک پختہ گو شاعر بھی تھے اور استاد جوش ملسیانی کے شاگرد ہونے کے ناطے ان کا رشتہ دبستانِ داغ سے تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں "شعلۂ خاموش"، "شورشِ پنہاں"، "شاخِ گل" اور "غزل گلاب" شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں بے ساختگی، روانی اور زبان و بیان پر قدرت نمایاں ہے۔ وہ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی الفاظ  کا بھی بہت خوبصورت استعمال کرتے تھے۔

کتابوں سے انہیں جنون کی حد تک پیار تھا۔ ان کی ذاتی لائبریری میں نادر و نایاب کتابوں اور مخطوطوں کا ذخیرہ موجود تھا جس پر انہوں نے زرِ کثیر خرچ کیا۔ ان کی وسعتِ مطالعہ اور قوتِ حافظہ پر معاصرین عش عش کرتے تھے۔

وہ ایک وضعدار، درمند اور گنگا جمنی تہذیب کے امین انسان تھے۔ ممبئی میں قیام کے دوران ان کا گھر اور دفتر ادیبوں کے لیے کھلا رہتا تھا جہاں وہ بڑے چھوٹے کی تفریق کے بغیر سب کی پذیرائی کرتے تھے۔ ان کی زندگی کے آخری سال ذاتی و بیرونی مصائب کے باعث سخت کشمکش میں گزرے، مگر انہوں نے یہ وقت نہایت ضبط اور مسکراہٹ کے ساتھ کاٹا۔

وفات: 21 مارچ 2001ء کو ممبئی میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے