- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3267طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1618 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
کوثر چاند پوری کے افسانے
حکیم جی
ہم اپنے ایک معزز دوست کے دولت خانہ پر مقیم تھے کہ شامت اعمال سے ہمیں بخار آ گیا۔ ہمارے دوست بہت پریشان ہوئے۔ اگرچہ ہم علالت سے زیادہ متاثر نہ تھے مگر ہمارے میزبان ’’جناب عظیم‘‘ کے حواس پراگندہ ہوئے جا رہے تھے۔ ممکن ہے ان کو یہ خطرہ ہو کہ میزبانی کی تکالیف
انتقام محبت
(۱) جمیل کی عمر ابھی چودہ سال سے متجاوز نہ ہوئی تھی لیکن اس کے خیال میں جس قدر بلندی اور ارادوں میں جس درجہ رفعت تھی اس کا اندازہ مشکل سے ہو سکتا ہے۔ جمیل جس قدر حسین اور خوش اندام تھا اس سے کہیں زیادہ متین و سنجیدہ۔ اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ
زندگی اور موت کے درمیان
سیٹھ دھرم پال پر گزشتہ تین روز سے دل کے دورے پڑ رہے تھے۔ کئی مرتبہ چھاتی میں شدید درد ہو چکا تھا۔ ان کی عمر پچاس سے کچھ اوپر ہی تھی، ساری آرزوئیں پوری ہو چکی تھیں۔ سو برس تک زندہ رہنے کی خواہش کو اب وہ خود ناممکن خیال کرنے لگے تھے۔ موجودہ بیماری کے دوران
بے زبان کا قتل
شہر میں عام طور پر ہراس پھیلا ہوا ہے۔ سڑکوں اور گلیوں پر زندگی کے بہتے ہوئے دھارے رک گئے ہیں۔ بازار بند ہے، کل ہڑتال کااعلان ہو چکا تھا۔ پوسٹر اب بھی دیواروں پر چپکے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں دو چار دوکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ لڑکے انھیں بند کرانے کی سر توڑ کوشش
منشی جی
خدا جنت نصیب کرے ’’منشی جی‘‘ بھی، ہمارے قصبہ میں عجیب چیز تھے۔ دوسری خصوصیات سے قطع نظر کرکے اگر صرف وضع پر ہی نظر کی جائے تو منشی جی اس زمانہ کے عجائبات میں داخل ہو سکتے ہیں۔ سر پر چوگوشہ ٹوپی جو چند یا کو بھی بمشکل چھپا سکتی تھی اور جس کے دونوں طرف
رام لیلا
گھر سے چلتے وقت اس نے رانی کی طرف دیکھا۔ وہ پہلے ہی پھیلی ہوئی بے رونق آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ دونوں نگاہوں میں محبت کی بیکسی اور مجبوری کا احساس تھا۔ رانی کے رخساروں پر مژمردگی چھائی ہوئی تھی، ہونٹ پپڑائے ہوئے تھے۔ چھ مہینے کا لاغر مگر خوبصورت
شیخ جی
ہم اپنے حلقہ احباب میں چپراسی کی ضرورت کا اظہار کرکے بالکل ایسے مطمئن ہو گئے جیسے کوئی صاحب پانیر میں اشتہار دے کر بےفکر ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پانیر کے صفحات میں ’’ضرورت‘‘ دیکھ کر جو صاحب بھی خالی جگہ کے لیے درخواست بھیجیں گے وہ ہر لحاظ سے مکمل
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
