- کتاب فہرست 179374
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1602 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
کوثر چاند پوری کے افسانے
حکیم جی
ہم اپنے ایک معزز دوست کے دولت خانہ پر مقیم تھے کہ شامت اعمال سے ہمیں بخار آ گیا۔ ہمارے دوست بہت پریشان ہوئے۔ اگرچہ ہم علالت سے زیادہ متاثر نہ تھے مگر ہمارے میزبان ’’جناب عظیم‘‘ کے حواس پراگندہ ہوئے جا رہے تھے۔ ممکن ہے ان کو یہ خطرہ ہو کہ میزبانی کی تکالیف
انتقام محبت
(۱) جمیل کی عمر ابھی چودہ سال سے متجاوز نہ ہوئی تھی لیکن اس کے خیال میں جس قدر بلندی اور ارادوں میں جس درجہ رفعت تھی اس کا اندازہ مشکل سے ہو سکتا ہے۔ جمیل جس قدر حسین اور خوش اندام تھا اس سے کہیں زیادہ متین و سنجیدہ۔ اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ
زندگی اور موت کے درمیان
سیٹھ دھرم پال پر گزشتہ تین روز سے دل کے دورے پڑ رہے تھے۔ کئی مرتبہ چھاتی میں شدید درد ہو چکا تھا۔ ان کی عمر پچاس سے کچھ اوپر ہی تھی، ساری آرزوئیں پوری ہو چکی تھیں۔ سو برس تک زندہ رہنے کی خواہش کو اب وہ خود ناممکن خیال کرنے لگے تھے۔ موجودہ بیماری کے دوران
بے زبان کا قتل
شہر میں عام طور پر ہراس پھیلا ہوا ہے۔ سڑکوں اور گلیوں پر زندگی کے بہتے ہوئے دھارے رک گئے ہیں۔ بازار بند ہے، کل ہڑتال کااعلان ہو چکا تھا۔ پوسٹر اب بھی دیواروں پر چپکے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں دو چار دوکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ لڑکے انھیں بند کرانے کی سر توڑ کوشش
منشی جی
خدا جنت نصیب کرے ’’منشی جی‘‘ بھی، ہمارے قصبہ میں عجیب چیز تھے۔ دوسری خصوصیات سے قطع نظر کرکے اگر صرف وضع پر ہی نظر کی جائے تو منشی جی اس زمانہ کے عجائبات میں داخل ہو سکتے ہیں۔ سر پر چوگوشہ ٹوپی جو چند یا کو بھی بمشکل چھپا سکتی تھی اور جس کے دونوں طرف
رام لیلا
گھر سے چلتے وقت اس نے رانی کی طرف دیکھا۔ وہ پہلے ہی پھیلی ہوئی بے رونق آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ دونوں نگاہوں میں محبت کی بیکسی اور مجبوری کا احساس تھا۔ رانی کے رخساروں پر مژمردگی چھائی ہوئی تھی، ہونٹ پپڑائے ہوئے تھے۔ چھ مہینے کا لاغر مگر خوبصورت
شیخ جی
ہم اپنے حلقہ احباب میں چپراسی کی ضرورت کا اظہار کرکے بالکل ایسے مطمئن ہو گئے جیسے کوئی صاحب پانیر میں اشتہار دے کر بےفکر ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پانیر کے صفحات میں ’’ضرورت‘‘ دیکھ کر جو صاحب بھی خالی جگہ کے لیے درخواست بھیجیں گے وہ ہر لحاظ سے مکمل
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
