- کتاب فہرست 179240
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
کوثر مظہری کا تعارف
تخلص : 'کوثر'
اصلی نام : محمد احسان الحق
پیدائش : 05 Aug 1964 | مشرقی چمپارن, بہار
رشتہ داروں : جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی (تعلیمی ادارہ)
LCCN :no2001070818
بوجھ دل پر ہے ندامت کا تو ایسا کر لو
میرے سینے سے کسی اور بہانے لگ جاؤ
شناخت:پروفیسر کوثر مظہری (اصلی نام: محمد احسان الحق) ایک ممتاز ادیب، محقق اور نقاد ہیں، جو 5 اگست 1964ء کو چندن بارا (ضلع مشرقی چمپارن، بہار) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے سرکاری اسکول سے حاصل کی اور مولانا آزاد ہائی اسکول، خیراوا سے میٹرک کیا۔ بعد ازاں ایم۔ ایس۔ کالج، موتیہاری سے 1984ء میں نباتیات (آنرز) اور ذیلی مضامین کے طور پر حیوانیات و کیمیا کے ساتھ گریجویشن مکمل کی۔
بچپن ہی سے ادب سے گہری دل چسپی رہی۔ اردو شاعری سے شغف نے انہیں زبان و ادب کی طرف متوجہ کیا، چنانچہ اردو میں گریجویشن اور پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ بعد ازاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شميم حنفی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔
1997ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے تدریسی وابستگی اختیار کی اور 1998ء میں مستقل تقرری ہوئی۔ اس وقت وہ بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اردو نظم اور ادبی تنقید ان کا خاص میدان ہے۔
ان کی نمایاں تصانیف میں جواز و انتخاب، جدید نظم: حالی سے میراجی تک، جرأتِ افکار، بازدید اور تبصرے، قرأت اور مکالمہ، فائز دہلوی، شیخ محمد ابراہیم ذوق کے علاوہ ناول آنکھ جو سوچتی ہے اور مجموعۂ کلام ماضی کا آئینہ شامل ہیں۔
علمی دیانت، فکری سنجیدگی اور سادہ و موثر اسلوب ان کی تحریروں کا امتیاز ہے، جس نے انہیں معاصر اردو ادب میں ایک معتبر مقام عطا کیا ہے۔
مددگار لنک : | https://jmi.ac.in/ACADEMICS/Departments/Department-Of-Urdu/Faculty-Members/1469/Mohammad_Ehsanul_Haq_(Kausar_Mazhari)
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no2001070818
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
