- کتاب فہرست 182622
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم344 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3292طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4317 سیاسی354 مذہبیات4756 تحقیق و تنقید6623افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4251خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1284
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4879
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1209
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
کوثر مظہری کا تعارف
تخلص : 'کوثر'
اصلی نام : محمد احسان الحق
پیدائش : 05 Aug 1964 | مشرقی چمپارن, بہار
رشتہ داروں : جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی (تعلیمی ادارہ)
LCCN :no2001070818
بوجھ دل پر ہے ندامت کا تو ایسا کر لو
میرے سینے سے کسی اور بہانے لگ جاؤ
شناخت:پروفیسر کوثر مظہری (اصلی نام: محمد احسان الحق) ایک ممتاز ادیب، محقق اور نقاد ہیں، جو 5 اگست 1964ء کو چندن بارا (ضلع مشرقی چمپارن، بہار) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے سرکاری اسکول سے حاصل کی اور مولانا آزاد ہائی اسکول، خیراوا سے میٹرک کیا۔ بعد ازاں ایم۔ ایس۔ کالج، موتیہاری سے 1984ء میں نباتیات (آنرز) اور ذیلی مضامین کے طور پر حیوانیات و کیمیا کے ساتھ گریجویشن مکمل کی۔
بچپن ہی سے ادب سے گہری دل چسپی رہی۔ اردو شاعری سے شغف نے انہیں زبان و ادب کی طرف متوجہ کیا، چنانچہ اردو میں گریجویشن اور پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ بعد ازاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شميم حنفی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔
1997ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے تدریسی وابستگی اختیار کی اور 1998ء میں مستقل تقرری ہوئی۔ اس وقت وہ بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اردو نظم اور ادبی تنقید ان کا خاص میدان ہے۔
ان کی نمایاں تصانیف میں جواز و انتخاب، جدید نظم: حالی سے میراجی تک، جرأتِ افکار، بازدید اور تبصرے، قرأت اور مکالمہ، فائز دہلوی، شیخ محمد ابراہیم ذوق کے علاوہ ناول آنکھ جو سوچتی ہے اور مجموعۂ کلام ماضی کا آئینہ شامل ہیں۔
علمی دیانت، فکری سنجیدگی اور سادہ و موثر اسلوب ان کی تحریروں کا امتیاز ہے، جس نے انہیں معاصر اردو ادب میں ایک معتبر مقام عطا کیا ہے۔
مددگار لنک : | https://jmi.ac.in/ACADEMICS/Departments/Department-Of-Urdu/Faculty-Members/1469/Mohammad_Ehsanul_Haq_(Kausar_Mazhari)
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no2001070818
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
