- کتاب فہرست 177178
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4299 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2683 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5836-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4851
- مرثیہ386
- مثنوی749
- مسدس42
- نعت579
- نظم1191
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
کوثر مظہری کے مضامین
قرات اور مکالمہ
پڑھنے کے عمل کو عربی میں قرأت کہتے ہیں۔ اب تک میں صرف قرآن پڑھنے کو قرأت سمجھتا تھا لیکن جب اردو تنقید میں انگریزی نظریۂ نقد نے اپنا پنجہ گاڑا تو متون کے مطالعے یا پڑھنے کے لیے ’قرأت‘ لفظ استعمال ہونے لگا۔ جب Reader-Oriented Criticism یا Reader-Response
غالب کا المیہ کردار خطوط میں
مرزا غالب گرچہ غیرمحتاط زندگی گزارتے ہیں مگر آس پاس سے پوری طرح باخبر رہتے ہیں۔ مغربی تہذیب کے زوال پر ماتم بھی کرتے ہیں۔ ان کے اندر ایک طرح کا طنطنہ ہے اور خودداری کا مادہ بھی۔ انسانی رشتوں کا انہیں بے حد پاس ہے۔ جب بھی کوئی واقعہ یا سانحہ ان کی افتاد
’’نئی دنیا کو سلام‘‘ میں احتجاج کی لَے
ترقی پسند تحریک استحصال اور جبر کے خلاف احتجاج کی آواز تھی۔ اس تحریک سے وابستہ شاعروں نے اپنی تخلیقی قوتوں کو بروئے کا ر لا کر شعروادب کے افق پر نئے چاند اگائے۔ اس کے سامنے شعرو ادب کا سماجی منصب واضح تھا۔ اجتماعیت کو انفرادیت پر فوقیت دینا اس تحر
اخترالایمان کا خرابہ
انسانی زندگی کی تمام تر جہتوں کو نظر میں رکھنا، انگیز کرنا اور پھر تخلیقیت سے ہم آمیز کرکے صفحۂ قرطاس پر اتارنا ایک مشکل کام ہے۔ اخترالایمان نے یہ کام پوری تخلیقی ہنرمندی کے ساتھ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے مجموعۂ کلام ’سروساماں‘ (1983) کے پیش لفظ میں لکھا
عمیق حنفی کی طویل نظمیہ شاعری
اردو میں طویل نظم نگاری کی تاریخ بہت پرانی نہیں ہے۔ اس کا رشتہ بھی محمد حسین آزاد کی نظمیہ شاعری کی تحریک سے جوڑا اور مانا جاسکتا ہے، جب خود محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب کی ادبی نشستوں میں ۱۱۵ اشعار پر مشتمل اپنی نظم ’شب قدر‘ اور ۱۴۴ اشعار پر مشتمل
بکٹ کہانی: لسانی و تہذیبی نقوش
یہاں افضل کی بکٹ کہانی کی دریافت اور اس کے نسخوں کی تعداد یا ان کے مستند یا غیرمستند ہونے کا قصہ پیش نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی افضل کی پیدائش اور زندگی کے بارے میں تحقیقی اقوال زرّیں آپ کے گوش گزار کیے جائیں گے۔ یہ کام ہمارے اکابرینِ ادب نے کردکھایا
ادب، تہذیب اور سماج
کوئی بھی ادب سماج سے الگ ہوکر تخلیق نہیں ہوتا۔ ادب اور معاشرے میں ایک گہرا رشتہ ہوتا ہے De Bonald. نے اٹھارہویں صدی میں کہا تھا: Literature is the expression of society اس کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ادب سے معاشرے اور ثقافت کو ایک سمت و رفتار
فہمیدہ ریاض: انحراف کی آواز
اردو شعر و ادب کی تاریخ میں بہت کم ایسی خواتین پیدا ہوئی ہیں جنھوں نے اپنے لہجوں کی چھاپ چھوڑی اور اپنے توانا افکار سے معاشرے کو چونکایا۔ یوں بھی پہلے اردو شعر و ادب میں خواتین ڈری سہمی ہی داخل ہوا کرتی تھیں۔ آج کل صورتِ حال ویسی نہیں جیسی پچاس برس
فیض: گل رنگ تِمثال کا شاعر
فیضؔ کی شاعری جذبات اور احساسات کو پیکر عطا کرتی ہے۔ نظموں اور غزلوں میں فیض کے یہاں فکر و فلسفے کی رنگ آمیزی سے زیادہ احساس اور جذبے کے لطیف پیکر نظر آتے ہیں۔ انھوں نے روایت کو نیا پیرہن عطا کیا یا یوں کہیں کہ روایت کے پیرہن میں معاشرے کی کشمکش، انسانی
مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات : ڈاکٹر شکیل الرحمن
مرزا غالب کی شخصیت نے ان کی شاعری کو چار چاند لگانے میں مدد کی۔ ان کا رکھ رکھائو، ان کی گفتگو، احباب کی محفلوں میں شرکت، طرز زندگی اور سیاسی اور سماجی معاملات و حالات پر ان کاردعمل اور ان جیسے دوسرے کچھ ایسے عوامل تھے جن کے سبب مرزا کی شخصیت اور شاعری
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
-
