- کتاب فہرست 180696
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1653 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6699افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
خالد جاوید کے افسانے
زندوں کے لیے ایک تعزیت نامہ
ہم ایک سانپ بنانا چاہتے تھے۔ یا وہ ایک نقطہ تھا جو سانپ ہوجانا چاہتا تھا مگر راستے میں اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اپنی سمت بدل دی۔ اب وہ کچھ اور ہوگیا ہے۔ اپنے ادھورے پن میں معلق ،ہوا میں اِدھر اُدھر ڈولتا ہوا (کلیشمے) پیٹ میں کسی طوفان کی طرح
آخری دعوت
میں جو پہاڑیوں سے نیچے لاشیں لایا ہوں، تمہیں بتا سکتا ہوں کہ دنیا رحم سے خالی ہے اور سنو کہ اگر خدا ہی رحم سے خالی ہو تو دنیامیں بھی رحم نہیں ہوسکتا۔ یہودا امی خائی سب سے پہلے تو مجھے یہ اجازت دیں کہ میں آپ کو بتاسکوں کہ اس کہانی کے تمام کردار
تفریح کی ایک دوپہر
’’دکھ نے میرے چہرے پر ایک نقاب ڈال دی ہے۔‘‘ ’’دنیا سے ایک جیوکم ہوجاتا ہے۔‘‘ ’’آسمان میں ایک فرشتہ بڑھ جاتا ہے۔‘‘ (فرنانڈو پیسوا) (۱) یہ مئی کی دوپہر ہے۔ دو بج رہے ہیں اور لو بھی چلنا شروع ہوگئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری کہانی سننے کے لیے
جلتے ہوئے جنگل کی روشنی میں
سارے سوانح، زندگی کی کہانیاں جھوٹی ہوتی ہیں۔ وہ ان خالی گھونگوں کی طرح ہوتی ہیں جن سے ان کیڑوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا جو کسی زمانے میں ان میں رہتے تھے۔ چسلاومی ووش یہ بڑی دلچسپ اور عجیب بات تھی کہ دنیا کو اس نے محض زمین ہی سمجھاتھا۔
قدموں کا نوحہ گر
’’اور اب میرا کتا اپنے منہ میں دبائے لیے چلا آرہا ہے میں جنہیں پھینک آیا تھا ایک گندی نالی میں مجھے معلوم ہے کہ وہ انہیں ڈال دے گا میرے قدموں میں۔‘‘ (بہت پہلے کہی گئی ایک نظم سے) (۱) اب جب کہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہونےکے قریب ہوں اور گھورے کے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
-
