- کتاب فہرست 180748
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1373 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3351طنز و مزاح601 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط724 طرز زندگی30 طب978 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4783 تحقیق و تنقید6710افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات572
- ماہیہ20
- مجموعہ4885
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
خلیفہ عبد الحکیم کا تعارف
شناخت: فلسفی، نقاد، محقق، شاعر، مترجم اور ماہرِ اقبالیات
خلیفہ عبد الحکیم 1 شوال 1303ھ مطابق یکم جولائی 1893ء (کچھ روایات کے مطابق 12 جولائی 1894ء) کو اندرون اکبری دروازہ، محلہ چِلّہ بیبیاں، لاہور کی تاریخی 'مبارک حویلی' میں پیدا ہوئے۔ وہ کشمیری ڈار خاندان کی لاہوری شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔
ان کی ابتدائی تعلیم مٹھا شاہ والی مسجد اور انجمن حمایتِ اسلام کے اسکول سے ہوئی۔ انہوں نے اسلامیہ ہائی اسکول، شیرانوالہ دروازہ سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کیا۔ میٹرک کے بعد فورمن کرسچین کالج لاہور میں چند ماہ سائنس پڑھی مگر رغبت نہ ہونے پر علی گڑھ چلے گئے، وہاں سے ایف اے کیا۔ 1915ء میں جامعہ پنجاب سے فلسفہ میں بی اے کیا۔ 1917ء میں سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی سے ایم اے (فلسفہ) کیا، جس کے بعد لا کالج لاہور سے ایل ایل بی کی تعلیم کے دوران انگریزی اخبار 'آبزرور' کی ادارت بھی کی۔ان کی ادبی زندگی کا آغاز اسکول کے زمانے ہی سے ہو گیا تھا اور ان کی پہلی نظم 'کشمیری میگزین' لاہور میں شائع ہوئی تھی۔
1919ء میں علامہ محمد اقبال کی سفارش پر جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد دکن میں فلسفہ کے اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1922ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی گئے اور 1925ء میں ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان "Metaphysics of Rumi" تھا۔ وطن واپسی پر جامعہ عثمانیہ میں پروفیسر اور صدرِ شعبۂ فلسفہ مقرر ہوئے۔ بعد ازاں امر سنگھ کالج سری نگر کے پرنسپل، ناظمِ تعلیمات کشمیر اور جامعہ عثمانیہ میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس کے عہدوں پر فائز رہے۔ 1950ء میں ان ہی کی کوششوں سے لاہور میں 'ادارہ ثقافتِ اسلامیہ' قائم ہوا، جس کے وہ پہلے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔
ان کی تصانیف فلسفہ، اسلام اور شعری و تنقیدی بصیرت کا شاہکار ہیں۔ ان کی اہم ترین اردو اور انگریزی کتابوں میں ’’فکرِ اقبال‘‘، ’’افکارِ غالب‘‘، ’’حکمتِ رومی‘‘، ’’داستانِ دانش‘‘، ’’اسلام کی بنیادی حقیقتیں‘‘، ’’نفسیاتِ وارداتِ روحانی‘‘، ’’تشبیہاتِ رومی‘‘، ’’اقبال اور ملا‘‘، ’’تلخیصِ خطباتِ اقبال‘‘، ’’شریمد بھگوت گیتا(منظوم اردو ترجمہ)‘‘ اور جرمن زبان سے ترجمہ کردہ ’’مختصر تاریخِ فلسفۂ یونان‘‘ شامل ہیں۔ انگریزی کتب میں Islamic Ideology ،Islam & Communism اور Metaphysics of Rumi نمایاں ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’’کلامِ حکیم‘‘ اور تحقیقی مضامین ’’مقالاتِ حکیم‘‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔
وفات: خلیفہ عبد الحکیم کا انتقال 30 جنوری 1959ء کو لاہور میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Khalifa_Abdul_Hakim
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
