Mah Laqa Chanda's Photo'

ماہ لقا چندا

1768 - 1824 | حیدر آباد, ہندوستان

غزل 13

اشعار 13

گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالم

کھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کو

  • شیئر کیجیے

گل کے ہونے کی توقع پہ جیے بیٹھی ہے

ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

ان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی

چاہتے ہیں جو بار بار شراب

کتاب 6

دیوان مہ لقابائی چندا

اردو کا کلاسیکی ادب

 

گلزار ماہ لقا

 

1906

گلزار ماہ لقا

 

1906

حیات ماہ لقا چندا

 

 

مہ لقا

مہ لقا بائی چندا کی زندگی اور اس کا کلام

1959

ماہ لقا: حالات زندگی مع دیوان

 

1998

 

تصویری شاعری 3

ہم جو شب کو ناگہاں اس شوخ کے پالے پڑے دل تو جاتا ہی رہا اب جان کے لالے پڑے

گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالم کھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کو

 

آڈیو 12

بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے

تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ مصنفین

  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش ہم عصر
  • امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ ہم عصر
  • شیر محمد خاں ایمان شیر محمد خاں ایمان استاد

"حیدر آباد" کے مزید مصنفین

  • مجتبی حسین مجتبی حسین
  • وحید الدین سلیم وحید الدین سلیم
  • نوشابہ خاتون نوشابہ خاتون
  • انور معظم انور معظم
  • اقبال متین اقبال متین
  • عوض سعید عوض سعید
  • جیلانی بانو جیلانی بانو
  • سید علی ظہیر سید علی ظہیر
  • بیگ احساس بیگ احساس
  • فاطمہ تاج فاطمہ تاج