Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mah Laqa Chanda's Photo'

ماہ لقا چندا

1768 - 1824 | حیدر آباد, انڈیا

ایک کلاسیکی شاعرہ، میر تقیؔ میر اور مرزا سودا کی ہم عصر

ایک کلاسیکی شاعرہ، میر تقیؔ میر اور مرزا سودا کی ہم عصر

ماہ لقا چندا

غزل 13

اشعار 14

گل کے ہونے کی توقع پہ جیے بیٹھی ہے

ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں

بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے

گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالم

کھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کو

  • شیئر کیجیے

تیر و تلوار سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگہ

سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ

مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب

کتاب 5

 

تصویری شاعری 3

 

ویڈیو 3

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا

نامعلوم

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

نامعلوم

آڈیو 12

بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے

تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج

Recitation

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ مصنفین

دیگر شعرا کو پڑھیے

 

Recitation

بولیے