گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

ماہ لقا چندا

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

ماہ لقا چندا

MORE BYماہ لقا چندا

    گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

    ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے

    کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں

    بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے

    تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگاہ

    سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے

    تیرے رخسار سے تشبیہ اسے دوں کیوں کر

    شمع تو چربی کو آنکھوں میں دیئے بیٹھی ہے

    تشنہ لب کیوں رہے اے ساقیٔ کوثر چنداؔ

    یہ ترے جام محبت کو پیے بیٹھی ہے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے عذرا نقوی

    مآخذ
    • کتاب : Ghazal Usne Chhedi(2) (Pg. 146)
    • Author : Farhat Ehsas
    • مطبع : Rekhta Books (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY