Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Maqbool Jahangir's Photo'

مقبول جہانگیر

1928 - 1985 | لاہور, پاکستان

مقبول فکشن نگار، بچوں کے لیے 'داستانِ امیر حمزہ' کی تلخیص و تسہیل کے لیے مشہور

مقبول فکشن نگار، بچوں کے لیے 'داستانِ امیر حمزہ' کی تلخیص و تسہیل کے لیے مشہور

مقبول جہانگیر کا تعارف

اصلی نام : مقبول الٰہی

پیدائش : 24 Jan 1928

وفات : 24 Oct 1985 | لاہور, پنجاب

شناخت: مقبول فکشن نگار، مترجم اور بچوں کے ادیب

مقبول جہانگیر (اصل نام: مقبول الٰہی) 24 جنوری 1928ء کو پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے اُن ممتاز ادیبوں اور مترجمین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو کے مقبولِ عام ادب، بالخصوص مہماتی، جاسوسی، شکاریات اور خوفناک کہانیوں کو نئی جہت عطا کی۔ ان کا نام اردو ڈائجسٹ ادب، بچوں کے ادب اور تراجم کی دنیا میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

مقبول جہانگیر طویل عرصے تک معروف جریدے ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر رہے۔ ان کی ادارت میں یہ رسالہ عوامی سطح پر بے حد مقبول ہوا اور اردو قارئین، خصوصاً نوجوان نسل میں مہماتی اور جاسوسی ادب کے ذوق کو فروغ ملا۔ ان کی تحریروں میں سنسنی، تجسس، روانی اور قصہ گوئی کی ایسی دل کشی پائی جاتی تھی کہ قاری ابتدا سے آخر تک گرفت میں رہتا تھا۔

انہوں نے متعدد طبع زاد کتابیں اور عالمی ادب کے اہم تراجم پیش کیے۔ ان کی مشہور تصانیف و تراجم میں ’’موت کے خطوط‘‘، ’’ہیبت ناک افسانے‘‘، ’’پانچ خوفناک کہانیاں‘‘، ’’ناقابلِ فراموش‘‘، ’’فرار ہونے تک‘‘، ’’شکاریوں کا قاتل‘‘ اور ’’انائی کے آدم خور وحشی‘‘ شامل ہیں۔ خوف، مہم، جنگل، شکاریات اور پراسرار فضا کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ان کا خاص وصف تھا۔

مقبول جہانگیر کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ ’’داستانِ امیر حمزہ‘‘ کی تلخیص و تدوین سمجھا جاتا ہے۔ اصل داستان کی ضخیم اور طویل روایت کو انہوں نے بچوں اور عام قارئین کے لیے نہایت دلچسپ اور سادہ انداز میں متعدد حصوں میں مرتب کیا۔ اسی داستان کے ذریعے اردو ادب کے مقبول ترین کردار ’’عمرو عیار‘‘ کو نئی نسل تک پہنچانے میں بھی ان کا بڑا حصہ ہے۔ ان کی یہ خدمت اردو داستانوی ادب کو عوامی سطح پر زندہ رکھنے کی ایک اہم کوشش سمجھی جاتی ہے۔

وفات: مقبول جہانگیر کا انتقال 24 اکتوبر 1985ء کو ہوا۔

Recitation

بولیے