Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Minnatullah Rahmani's Photo'

منت اللہ رحمانی

1913 - 1991

برصغیر کے ممتاز دینی رہنما، مفکر اور ملت کے مخلص خدمت گزار تھے

برصغیر کے ممتاز دینی رہنما، مفکر اور ملت کے مخلص خدمت گزار تھے

منت اللہ رحمانی کا تعارف

پیدائش : 07 Apr 1913 | منگیر, بہار

وفات : 19 Mar 1991 | منگیر, بہار

شناخت: سید منت اللہ رحمانی (1913ء–1991ء) برصغیر کے ممتاز دینی رہنما، مفکر، مصنف اور سماجی مصلح تھے۔ وہ وحدتِ امت، اعتدالِ فکر اور باہمی رواداری کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔ اپنی علمی بصیرت، تنظیمی صلاحیت اور ملی درد مندی کے باعث وہ بیسویں صدی کے مؤثر ترین مسلم قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔

منت اللہ رحمانی 7 اپریل 1913ء کو مونگیر، بہار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم محمد علی مونگیری علمی و دینی دنیا کی ایک نمایاں شخصیت تھے اور تحریک ندوۃ العلماء سے وابستہ تھے۔ اس علمی ماحول نے مولانا رحمانی کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ابتدائی تعلیم مونگیر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے حیدرآباد میں عربی علوم کی تکمیل کی اور پھر دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں تعلیم پائی۔ بعد ازاں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی سمیت نامور اساتذہ سے استفادہ کیا۔

مولانا رحمانی کو عملی سیاست اور سماجی خدمت دونوں میدانوں میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ 1930ء کی دہائی میں وہ بہار کی مسلم سیاست میں فعال ہوئے اور مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ بعد میں وہ خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین بنے اور تقریباً نصف صدی تک روحانی و اصلاحی خدمات انجام دیں۔

انہوں نے تعلیمی میدان میں بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ جامعہ رحمانی مونگیر کی ازسرِنو تنظیم و ترقی میں ان کا کردار فیصلہ کن تھا، جس کے نتیجے میں یہ ادارہ ایک ممتاز دینی درسگاہ بن گیا۔ انہوں نے جدید تقاضوں کے ساتھ دینی تعلیم کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔

ملی سطح پر ان کی سب سے بڑی خدمت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام میں مرکزی کردار ادا کرنا تھا۔ 1972ء میں اس کے پہلے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے انہوں نے مسلم پرسنل لا کے تحفظ اور آئینی جدوجہد کو منظم بنیادیں فراہم کیں۔ اسی طرح وہ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے چوتھے امیر شریعت بھی رہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی خدمات کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے 1964ء میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کی اور عالمِ اسلام کے ساتھ روابط کو مضبوط بنایا۔

فکری اعتبار سے مولانا رحمانی اعتدال، حکمت اور تدبر کے قائل تھے۔ وہ اختلاف کو رحمت سمجھتے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے سخت مخالف تھے۔ ان کی تحریریں اور خطبات امت کو اتحاد، اخلاقی تطہیر اور اجتماعی شعور کی طرف بلاتے ہیں۔

وفات: 19مارچ 1991ء کو ان کا انتقال ہوا اور مونگیر میں تدفین ہوئی۔ 

موضوعات

Recitation

بولیے