Mohammad Ali Sahil's Photo'

محمد علی ساحل

1964 | اٹاوہ, ہندوستان

غزل 16

اشعار 11

دور رہتی ہیں سدا ان سے بلائیں ساحل

اپنے ماں باپ کی جو روز دعا لیتے ہیں

  • شیئر کیجیے

خامشی تیری مری جان لیے لیتی ہے

اپنی تصویر سے باہر تجھے آنا ہوگا

ہم ہیں تہذیب کے علمبردار

ہم کو اردو زبان آتی ہے

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 2

کردار

 

2014

پہلا قدم

 

2012

 

تصویری شاعری 1

مذاق_غم اڑانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا کسی کا مسکرانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا کبھی نیندیں چرانا جن کی مجھ کو اچھا لگتا تھا نظر ان کا چرانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا جنہیں مجھ پر یقیں ہے میری چاہت پر بھروسہ ہے بھرم ان کا مٹانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا نشیمن میرے دل کا جب سے تنکا تنکا بکھرا ہے کوئی بھی آشیانہ اب مجھے اچھا نہیں لگتا محبت کرنے والوں نے جو چھوڑے ہیں زمانے میں نشاں ان کے مٹانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا تری دنیا سے شاید بھر چکا ہے میرا دل ساحلؔ یہاں کا آب_و_دانہ اب مجھے اچھا نہیں لگتا

 

ویڈیو 13

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
محمد علی ساحل

محمد علی ساحل

محمد علی ساحل

محمد علی ساحل

محمد علی ساحل

محمد علی ساحل

اب حقیقت لگ رہا ہے میرا افسانہ مجھے

محمد علی ساحل

ایسا نہیں سلام کیا اور گزر گئے

محمد علی ساحل

ایسا نہیں سلام کیا اور گزر گئے

محمد علی ساحل

تری صورت مجھے بتاتی ہے

محمد علی ساحل

حادثہ تو بس اک بہانہ تھا

محمد علی ساحل

راہ_حق میں تجھے ہستی کو مٹانا ہوگا

محمد علی ساحل

مری طرف سے نگاہیں تو وہ ہٹا لے_گا

محمد علی ساحل

ہر ایک ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے

محمد علی ساحل

ہم قلندر ہیں ہمیں آتا ہے فاقہ کرنا

محمد علی ساحل

یہ درد کا ہے مسلسل جو سلسلہ کیوں ہے

محمد علی ساحل

مصنفین کے مزید "اٹاوہ"

  • صدیق عالم صدیق عالم
  • حیدر بیابانی حیدر بیابانی
  • صادقہ نواب سحر صادقہ نواب سحر
  • معین الدین جینابڑے معین الدین جینابڑے
  • محمد ہاشم خان محمد ہاشم خان
  • عشرت ناہید عشرت ناہید
  • بانو سرتاج بانو سرتاج
  • ناصرہ شرما ناصرہ شرما
  • انور قمر انور قمر
  • سیفی سرونجی سیفی سرونجی