- کتاب فہرست 179635
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2064نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
محمد عاطف علیم کے افسانے
طربیہ خداوندی جدید
(قاطع طربیہ خداوندی از دانتے) طربیہ خداوندی (قدیم ) کا تیرھواں کانتو اور لایعنیت کے بےانت پھیلاؤ میں پھیلا خودکشوں کا جنگل۔ تم جو خوش بخت ٹھہرو اور اس کائنات پر محیط جہنم زار کے طبقات ارضی میں برپا ابسرڈسفاکیت سے رہائی پانے کی کوئی ترکیب کرپاؤ
جو جاگنے کو ملادیوے خواب میں
بن ڈر کے ڈرے رہنا اور بےبات کے مرے رہنا۔ بس یہی تھا جو جانے سے کب سے چل رہا تھا۔ رات کے آخر آخر میں جب آسمان کی بھید بھری اتھاہ میں ڈولتا چاند زمین کی اور تکتے تکتے بوریت کے مارے بے دم ہو جاتا تو تماشا شروع ہو جاتا۔ وہ بہت سے تھے اور میں اکیلا۔
دھند میں لپٹا ہوا لایعنی وجود
ایک تیز آواز اس کے خوابیدہ دماغ کی جھلیوں میں ارتعاش پیدا کرتی ہوئی گہرائیوں میں جذب ہو گئی۔ ایسی ہی دوسری آواز پر لگا جیسے دبیز جالے پر کسی نے پتھر پھینک دیا ہو۔ تیسری آواز پر وہ ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھا۔ باہر یقیناً کوئی تھا جس نے اس کا نام لے
خواب راستے پر تھمے قدم
ایک طرف چمکیلے سبز مٹروں کا ڈھیر تھا اور دوسری طرف ان چھلکوں کا ڈھیر تھا جن میں سے دانے نکالے جا چکے تھے اور وہ ان کے بیچ جنگ زدہ سی بکھری بکھرائی، گھٹنوں پر پرات ٹکائے ایک منتشر عزم کے ساتھ دیر سے مٹر چھیلے جا رہی تھی۔ اس بار جو اس نے ناخن گاڑ کر
شمشان گھاٹ
لکڑی کا سال خوردہ دروازہ چر چرا کر کھلا اور وہ لمبا گھونگھٹ کاڑھے کفن ایسی سفید چادر میں لپٹی لپٹائی اندر داخل ہوئی اور دیوار کے ساتھ پشت ٹکاکر بیٹھ گئی۔ فجر کی نماز کے بعد وہاں چڑیوں کی چہکار تلے درس چل رہا تھا۔ مسجد قرار دئیے گئے چار دیواروں کے
لاوقت میں ایک منجمد مسافت
وہ ایک طویل نیند سے جاگا تو کھویا گیا۔ اردگرد پھیلے جنگل میں کوئی قہر مچا تھا یا لگا کہ جیسے اس پر سے کوئی سانپ رینگ گیا ہو، وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے جیتی جاگتی دنیا میں واپسی پر آنکھیں مل کر حیرانی سے دیکھا کہ وہ کائی کی دبیز تہوں میں چھپے
ایک گمشدہ لوری کی بازیافت
’’پانی۔۔۔‘‘ یہ پہچان میں واپسی کے بعد پہلا اسم تھا جو اس پر تب القا ہوا جب اس کی پیاس سے پتھرائی زبان نے ریت میں موجود نمی سے ٹھنڈک پائی۔ یہ گزرے جنموں کی بات تھی یا شاید لمحہ بھر پہلے کا ماجرا تھا کہ وہ ایک ننھا منا گل گوتھنا اپنے ننگے کھلکھلاتے
بیاں اک ناقابل بیاں کا
(طربیہ خداوندی جدید۔۲) میرا دس بائی بارہ فٹ کا کمرہ کہ ایک بےدیوار حجرہ ہائے ہفت بلا ہے خاصے کی چیز ہے۔ تم اسے معلوم کائنات کا منی ایچر بھی کہہ سکتے ہو کہ یہاں کیا نہیں جس کی چاہ کی جائے۔ کون ایسی سزا ہے جو میری مدارات کو موجود نہیں اور کون ایسامن
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
