- کتاب فہرست 180840
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3289طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1696 خطوط738
طرز زندگی30 طب973 تحریکات270 ناول4268 سیاسی351 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6524افسانہ2668 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب434 ترجمہ4224خواتین کی تحریریں5770-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1257
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1585
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محمد شہزاد کے ذریعے کیے گئے تراجم
ضمیر کی دھڑکن
ایڈگر ایلن پو
یہ انگریزی زبان میں شائع (The Tell Tale Heart) کا ترجمہ ایک نفسیاتی کہانی ہے جس میں ایک شخص، ایک بوڑھے آدمی کو اس کی آنکھ سے نفرت کی وجہ سے قتل کر دیتا ہے۔ کہانی میں وہ اپنے آپ کو پاگل نہیں سمجھتا بلکہ انتہائی ہوشیار اور حساس ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آخر میں اس کے ضمیر کی آواز اسے پولیس کے سامنے اعترافِ جرم پر مجبور کر دیتی ہے۔
غبارے کا دھوکہ
ایڈگر ایلن پو
ایڈگر ایلن پو کی کہانی غبارے کا دھوکہ "The Balloon Hoax" ایک مختصر طنزیہ اور تجسسی افسانہ ہے، جو ایک اخباری رپورٹ کے انداز میں شائع ہوا۔ پو نے اسے اس قدر حقیقت پسندانہ انداز میں لکھا کہ بہت سے قارئین نے اسے سچ مان لیا۔ کہانی میں ایک غبارے کے ذریعے بحرِ اوقیانوس کو غیر معمولی مختصر وقت میں عبور کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن آخرکار معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری خبر ایک ادبی فریب تھی۔ اس افسانے میں پو نے سنسنی خیز صحافت، سائنسی حیرت اور انسانی سادہ لوحی پر نہایت دلچسپ انداز میں طنز کیا ہے، اور یہ دکھایا ہے کہ مستند لہجے میں لکھی گئی جھوٹی خبر بھی لوگوں کو آسانی سے یقین دلا سکتی ہے۔
شراب کا پھندہ!
ایڈگر ایلن پو
یہ ایڈگر ایلن پو کی کہانی "The Cask of Amontillado" کا اردو ترجمہ ہے، جس میں ایک آدمی اپنے دوست کو لالچ دے کر تہہ خانے میں لے جاتا ہے اور وہاں اسے دیوار میں زندہ بند کر دیتا ہے تاکہ اس سے مکمل اور خاموش انتقام لے سکے۔
پاتال اور جھولتی تلوار
ایڈگر ایلن پو
یہ کہانی 'The Pit and the Pendulum' کا اردو ترجمہ ہے۔ اس میں ایک قیدی اندھیری کوٹھڑی میں موت کے سائے تلے پڑا ہے، جہاں جھولتی ہوئی فولادی دھار آہستہ آہستہ اس کے دل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہر لمحہ خوف، بے بسی اور اذیت میں گزرتا ہے، مگر امید کی آخری کرن اسے زندہ رکھتی ہے۔ جب دیواریں سکڑ کر اسے پاتال کی طرف دھکیلنے لگتی ہیں تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب کوئی نجات نہیں۔ موت کے آخری لمحے میں اچانک مدد کا ہاتھ بڑھتا ہے اور وہ جہنم جیسے عذاب سے بچ نکلتا ہے۔
آخری ملاقات
ایڈگر ایلن پو
یہ کہانی مشہور مصنف ایڈگر ایلن پو کی 'The Assignation' کا اردو ترجمہ ہے، جو وینس کے خوبصورت پس منظر میں محبت، حسن اور موت کی ایک گہری المیہ داستان بیان کرتی ہے۔ کہانی ایک ایسے دولت مند، آرٹ کے دلدادہ نوجوان رئیس اور ایک معزز خاتون کے گرد گھومتی ہے جو معاشرتی بندشوں اور رسم و رواج کی وجہ سے ایک نہیں ہو پاتے۔ اپنی ادھوری مگر کامل محبت کو لافانی بنانے کے لیے، وہ دونوں دنیاوی بندھنوں کو توڑ کر خاموشی سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
ایک رات!
وسیولود میخائیلووچ گارشن
مشہور روسی افسانہ نگار گارشِن کی یہ شاہکار کہانی اصل روسی زبان میں ”(Noch) Ночь“ اور انگریزی میں ”A Night“ کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ اسی کا اردو ترجمہ ہے، جس کی بدولت آپ کہانی کی حقیقی روحی کیفیت اور اثر کو بہتر طور پر محسوس کر سکیں گے۔ مختصر یہ کہ اس کہانی میں ایک ایسے انسان کی داخلی کشمکش کی تصویر ہے جو اپنی زندگی کی ناکامیوں، پچھتاووں اور تنہائی سے تنگ آ کر خودکشی کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ ایک طویل رات میں وہ اپنے ماضی، اپنی ذات اور زندگی کے مقصد پر غور کرتا ہے۔ گارشِن نے اس کہانی میں انسان کے اندر جاری امید اور مایوسی کی جنگ، خود غرضی، محبت اور نجات کی خواہش کو نہایت گہرائی سے پیش کیا ہے۔ یہ محض خودکشی کی کہانی نہیں بلکہ اس لمحے کی داستان ہے جب انسان اپنی ذات سے نکل کر زندگی کا اصل مفہوم تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
”عجیب و غریب“ کے فرشتے کا رنگین تماشہ
ایڈگر ایلن پو
انگریزی زبان میں شائع 'The Angel of the Odd - An Extravaganza' ایڈگر ایلن پو کی یہ کہانی ایک مغرور شخص کی ہے جو زندگی کے عجیب و غریب حادثات کو جھوٹ سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ ایک دن اس کے سامنے بوتلوں اور پیپوں سے بنا “عجیب و غریب کا فرشتہ” نمودار ہو کر اسے چیلنج کرتا ہے۔
خون کا جھنڈا
وسیولود میخائیلووچ گارشن
یہ کہانی نامور روسی افسانہ نگار ویسیولد گارشن کی شاہکار کہانی 'دی سگنل' (The Signal) کا اردو ترجمہ ہے جوکہ روسی یعنی اپنی اصل زبان میں "Сигнал" 'Seeg-nahl' نام سے شائع ہوئی۔ اس میں دو مختلف نظریات رکھنے والے انسانوں کی کشمکش ہے: ایک جو ہر چیز کو قسمت سمجھ کر برداشت کرتا ہے، اور دوسرا جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہتا ہے۔ واسیلی کا غصہ اسے تباہی کے راستے پر لے جاتا ہے، مگر سیمن کی قربانی اسے دوبارہ انسانیت کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ آخرکار ایک خون سے رنگا ہوا جھنڈا صرف ٹرین نہیں روکتا بلکہ ایک انسان کے ضمیر کو بھی بیدار کر دیتا ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ انصاف کی جدوجہد ضروری ہے، مگر حقیقی عظمت نفرت میں نہیں بلکہ دوسروں کی جان بچانے میں ہے۔
بیرنیس کی کہانی
ایڈگر ایلن پو
بیرنیس "Berenice – A Tale" امریکی ادیب ایڈگر ایلن پو کی ایک مشہور خوفناک کہانی ہے، جو پہلی بار 1835 میں شائع ہوئی۔ یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ذہنی زوال کی داستان ہے جو بیماری، تنہائی اور غیر معمولی خیالات کا شکار ہو کر حقیقت اور وہم کے درمیان فرق کھو دیتا ہے۔ کہانی کا راوی اپنی چچا زاد بیرنیس کی بیماری اور بدلتی ہوئی شخصیت کو دیکھتے ہوئے ایک عجیب جنون میں مبتلا ہو جاتا ہے، جس کا مرکز اس کے دانت بن جاتے ہیں۔ یہ کہانی خوف کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن کی پیچیدگی، بیمار تخیل اور جنون کی تباہ کن طاقت کا گہرا مطالعہ بھی پیش کرتی ہے۔
بونا مسخرہ
ایڈگر ایلن پو
یہ ایڈگر ایلن پو کی ایک مشہور علامتی اور انتقامی کہانی ہے، جو انگریزی میں Hop Frog کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے بونے مسخرے کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جسے ایک ظالم بادشاہ اپنے دربار میں محض تفریح کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ہاپ فراگ جسمانی کمزوری کے باوجود ذہانت، برداشت اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے، مگر بادشاہ کے مسلسل ظلم اور تضحیک کے بعد اس کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ کہانی میں ایڈگر ایلن پو نے طاقت کے غرور، انسان کی تذلیل، طبقاتی ظلم اور بدلے کی نفسیات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ہاپ فراگ کا کردار بظاہر ایک کمزور اور مضحکہ خیز شخص نظر آتا ہے، لیکن آخر میں وہ اپنی عقل اور منصوبہ بندی سے ظالم حکمرانوں کو شکست دیتا ہے۔ یہ کہانی اس بات کی علامت بھی ہے کہ مسلسل ظلم سہنے والا انسان کبھی کبھی اپنی خاموشی کے پیچھے ایک طاقتور ردعمل چھپا سکتا ہے۔ ہاپ فراگ خوف، طنز، المیہ اور انتقام کا حسین امتزاج ہے۔ ایڈگر ایلن پو نے اس مختصر کہانی میں دکھایا ہے کہ مذاق اور ظلم کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے، اور جو لوگ دوسروں کی تذلیل کو تفریح سمجھتے ہیں، وہ کبھی کبھی اپنے ہی انجام کا سبب بن جاتے ہیں۔
چار دن!
وسیولود میخائیلووچ گارشن
یہ کہانی زیوولوڈ گارشن کے افسانے "Four Days" کا اردو ترجمہ ہے، جو ایک زخمی سپاہی کی کہانی ہے جو میدانِ جنگ میں چار دن تک موت کے انتظار میں پڑا رہتا ہے۔ اپنے زخموں، پیاس اور تنہائی کے دوران وہ جنگ، قتل اور انسانیت کے بارے میں گہری سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ افسانہ جنگ کی بہادری کے پردے کے پیچھے چھپی انسانی اذیت اور المیے کو بے نقاب کرتا ہے۔
لینڈر کا جھونپٹرا
ایڈگر ایلن پو
یہ ایڈگر ایلن پو کی ایک خوبصورت اور خیال انگیز کہانی 'Landor’s Cottage' ہے، جس میں فطرت، حسن اور فنکاری کے امتزاج کو پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کا راوی ایک ایسی پراسرار وادی میں پہنچتا ہے جہاں ہر چیز غیر معمولی ترتیب اور دلکشی کا نمونہ ہے۔ وادی میں موجود چھوٹی سی کٹیا اپنی سادگی کے باوجود ایک خواب ناک اور جنت نما منظر پیش کرتی ہے۔ یہ کہانی پو کی بہترین منظرنگاری اور حسنِ تخیل کی عمدہ مثال ہے۔
کوچوان کا قدم!
وسیولود میخائیلووچ گارشن
گارشن کا یہ افسانہ روسی زبان میں "То, чего не было (To, chego ne bylo)" نام سے شائع ہوا، جس کا انگریزی ترجمہ متعدد عنوان ("That Which Was Not", "Make-Believe", "What Was Not") سے شائع ہوا۔ اس کہانی میں انسانی زندگی کے بارے میں ان کے محدود اور متضاد فلسفوں کا ایک طنزیہ تجزیہ ہے۔ ہر کردار اپنے محدود تجربے کو ہی پوری سچائی سمجھتا ہے، جبکہ قدرت کا نظام ان تمام نظریات سے بے نیاز ہو کر کسی بھی لمحے سب کو روند سکتا ہے۔ مصنف اس حقیقت کو نمایاں کرنا چاہتا ہے کہ انسان اپنی بے بسی اور ناکامیوں کو بھی بڑے بڑے جذباتی اور فلسفیانہ دعووں سے چھپانے کا عادی ہے۔ زندگی کی تمام تر بحثیں اور فلسفے ایک حادثے (کوچوان کے قدم) کے آگے دم توڑ دیتے ہیں، اور باقی بچ جانے والے کردار اپنی معمولی چوٹوں کو بھی ”عظیم قربانی“ کا رنگ دے کر جھوٹ اور مبالغہ آرائی میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔
نقاب پوش اور سرخ موت!
ایڈگر ایلن پو
'The Masque of the Red Death' ایڈگر ایلن پو کی یہ مشہور علامتی اور گوتھک کہانی 1842ء میں شائع ہوئی۔ اس میں ایک شہزادے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو ایک جان لیوا وبا سے بچنے کے لیے خود کو اپنے ساتھیوں سمیت ایک محفوظ قلعے میں محصور کر لیتا ہے۔ یہ کہانی طاقت، دولت اور انسانی غرور کے مقابلے میں موت کی ناگزیر حقیقت کو نہایت مؤثر علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ کہانی ایک سماجی طنز بھی ہے۔ جب عام لوگ وبا سے مر رہے تھے، امیر طبقہ اپنی محفوظ دنیا میں جشن منا رہا تھا۔ پو یہ بتاتا ہے کہ دولت انسان کو دوسروں کے دکھ سے تو دور کر سکتی ہے، لیکن موت سے نہیں بچا سکتی۔
سرخ پھول
وسیولود میخائیلووچ گارشن
یہ کہانی روسی مصنف وسیوولڈ گارشین (Vsevolod Garshin) کے مشہور افسانے 'سرخ پھول' (The Red Flower) کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ایک ایسے شدید ذہنی مریض کی داستان ہے جسے پاگل خانے لایا جاتا ہے۔ مریض خود کو ایک عظیم عالمی مشن پر مامور سمجھتا ہے جہاں اس کا مقصد دنیا سے تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہسپتال کے باغ میں اگے ہوئے ایک شوخ سرخ پھول کو وہ کائنات کی تمام تر برائیوں اور منفی طاقتوں کا مرکز سمجھ بیٹھتا ہے۔ اپنے جنون میں وہ اس پھول کو توڑ کر اپنے سینے سے چھپا لیتا ہے تاکہ اس کے زہر کو اپنے اندر جذب کر کے دنیا کو شر سے نجات دلا سکے۔ یہ کہانی انسانی نفسیات، دیوانگی، اور خیر و شر کے درمیان جاری ایک مبہم مگر دردناک جنگ کی عکاسی کرتی ہے۔
اشر کی حویلی کا انجام!
ایڈگر ایلن پو
یہ کہانی انگریزی زبان میں 'The Fall of the House of Usher' کے نام سے موجود ہے۔ جس میں ایک راوی ہے جو اپنے دوست روڈرک کی دعوت پر اس کی پرانی اور ویران حویلی پہنچتا ہے۔ وہاں روڈرک اور اس کی جڑواں بہن میڈلین پراسرار بیماریوں میں مبتلا ملتے ہیں۔ کچھ دن بعد میڈلین بظاہر مر جاتی ہے، لیکن تدفین کے بعد وہ اچانک زندہ واپس آ جاتی ہے۔ اس خوفناک منظر کو دیکھ کر روڈرک صدمے سے مر جاتا ہے اور حویلی زمین بوس ہو جاتی ہے۔
زندہ تصویر!
ایڈگر ایلن پو
یہ ’ایڈگر ایلن پو‘ کی انگریزی میں شائع 'The Oval Portrait' کہانی کا اردو ترجمہ ہے، جس میں ایک شدید زخمی شخص ایک متروک محل میں رات گزارتے ہوئے ایک پراسرار بیضوی تصویر دیکھتا ہے جس کی زندگی جیسی حقیقت اسے ہلا دیتی ہے۔
کالی بلی
ایڈگر ایلن پو
The Black Cat (کالی بلی) مشہور امریکی مصنف ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کی تحریر کردہ ایک بظاہر گھریلو مگر انتہائی خوفناک اور سبق آموز مختصر کہانی ہے، جو ایک ایسے شخص کی داستان بیان کرتی ہے جو شراب نوشی کی مہلک عادت کے باعث اخلاقی زوال کا شکار ہو کر اپنے ہی محبوب پالتو جانور، ایک کالی بلی پلوٹو، پر تشدد کرتا ہے اور بالآخر اسے درخت سے لٹکا کر مار دیتا ہے۔ اس ظالمانہ فعل کے فوراً بعد اس کا گھر آتش زدگی کا شکار ہو کر تباہ ہو جاتا ہے اور بعد میں اسے پلوٹو جیسا ہی ایک اور کالا بلا ملتا ہے جس کی ایک آنکھ ضائع ہوتی ہے اور سینے پر پھانسی کے گھاٹ (Gallows) کی شکل کا ایک پراسرار نشان ابھرتا ہے۔ اس نئے بلے کی مسلسل موجودگی، خبط اور ضمیر کی ملامت اسے شدید پاگل پن اور غصے میں مبتلا کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ طیش میں آ کر اپنی بیوی کو قتل کر کے اس کی لاش کو تہہ خانے کی دیوار میں چن دیتا ہے، مگر آخرکار اسی بلے کی پراسرار چیخ پولیس کو دیوار کے پیچھے چُھپی لاش تک پہنچا کر قاتل کو اس کے ہولناک انجام تک پہنچا دیتی ہے۔
چوری شدہ خط
ایڈگر ایلن پو
چوری شدہ خط (The Purloined Letter) مشہور امریکی مصنف ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کی تحریر کردہ ایک شاہکار جاسوسی کہانی ہے، جس میں مرکزی کردار سی۔ آگسٹ دوپین اپنی غیر معمولی ذہانت اور گہری مشاہداتی صلاحیت سے ایک پیچیدہ راز حل کرتا ہے کہانی میں پیرس کی پولیس ایک نہایت اہم خط تلاش کرنے میں ناکام رہتی ہے جسے ایک طاقتور وزیر نے چرا لیا ہوتا ہے۔ دوپین انسانوں کی عمومی سوچ سے ہٹ کر، مجرم کی نفسیات، عادتوں اور سوچنے کے انداز کو سمجھتے ہوئے یہ معلوم کر لیتا ہے کہ خط کہاں چھپایا گیا ہے۔ وہ اپنے منطقی اندازِ فکر اور حکمت عملی سے پولیس کی اس ناکامی کو شاندار کامیابی میں بدل دیتا ہے۔ یہ کہانی عقل، فہم، گہرے نفسیاتی مشاہدے اور ذہنی برتری کی ایک بہترین اور شاندار مثال ہے۔
لیجیا
ایڈگر ایلن پو
لیجیا (Ligeia) ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کا ایک شاہکار نفسیاتی اور گوتھک افسانہ ہے، جس میں محبت، موت، یادداشت اور انسانی ارادے کی پراسرار قوت کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کا راوی اپنی غیر معمولی ذہانت اور دلکش شخصیت کی مالک بیوی لیجیا کی موت کے بعد بھی اس کی یاد سے آزاد نہیں ہو پاتا۔ دوسری شادی کے باوجود وہ ماضی کے سحر میں گرفتار رہتا ہے، یہاں تک کہ حقیقت اور وہم کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔ افسانے کا اختتام ایسا پراسرار اور مبہم ہے کہ قاری کو آخر تک یہ فیصلہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ وہ کسی مافوق الفطرت واقعے کا مشاہدہ کر رہا ہے یا ایک شکستہ ذہن کی کیفیت کا۔ لیجیا کو ایڈگر ایلن پو کی بہترین تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے گوتھک ادب اور نفسیاتی افسانے کا ایک لازوال نمونہ سمجھا جاتا ہے۔
ایک مختصر داستانِ محبت
وسیولود میخائیلووچ گارشن
یہ کہانی معروف روسی مصنف ویسی وولود گارشن (Vsevolod Garshin) کی قلمی تخلیق ہے۔ روسی زبان میں یہ "Очень коротенький роман" (اوچن کوروٹینکی رومن) کے عنوان سے معروف ہے، جبکہ انگریزی میں "A Very Short Romance" کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ افسانہ محبت، ایثار اور محرومی کی ایک نہایت دردناک داستان ہے۔ اس میں ایک نوجوان سپاہی اپنی محبوبہ ماشا کی آرزو پر میدانِ جنگ کا رخ کرتا ہے اور وطن کی خاطر بہادری سے لڑتے ہوئے اپنا ایک پیر گنوا بیٹھتا ہے۔ جب وہ لوٹتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ماشا کسی اور سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہی ہے، مگر وہ اس کی مسرت کی خاطر خاموشی سے خود کو اس کی زندگی سے الگ کر لیتا ہے۔ گارشین نے اس افسانے میں جنگ کے جسمانی اور روحانی زخموں کو بڑی گہرائی سے قلمبند کیا ہے۔ مختصر ہونے کے باوجود یہ کہانی انسانی محبت، قربانی اور تنہائی کے شدید احساس کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔
میری روژے کا راز ۔ رو مورگ کے قتل کا تسلسل
ایڈگر ایلن پو
یہ کہانی ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کی مشہور ترین جاسوسی کہانی "The Murders in the Rue Morgue" کا تسلسل ہے۔ یہ کہانی مشہور جاسوس کردار سی۔ آگسٹ ڈوپن کی ایک ایسی تحقیقات پر مبنی ہے جس میں وہ ایک نوجوان لڑکی میری روژے کے پراسرار قتل کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈوپن روایتی اندازِ تفتیش کے بجائے باریک مشاہدے، منطقی تجزیے اور چھوٹے چھوٹے واقعات سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ وہ پولیس کے اندازِ فکر کو رد کرتے ہوئے ثابت کرتا ہے کہ بظاہر واضح دکھائی دینے والے شواہد بھی غلط سمت لے جا سکتے ہیں۔ کہانی میں جرم سے زیادہ عقل، استدلال اور انسانی نفسیات کی پیچیدہ گتھیوں پر توجہ دی گئی ہے۔ ایڈگر ایلن پو کی یہ تحریر جدید جاسوسی ادب کی بنیاد رکھنے والی اہم کہانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کہانی ایک حقیقی قتل کے واقعے سے متاثر تھی۔ میری سیسیلیا راجرز کا قتل 1841ء میں نیویارک میں پیش آیا تھا، لیکن اس اصل واقعے میں بھی قاتل کی شناخت یقینی طور پر ثابت نہیں ہو سکی۔ ایڈگر ایلن پو نے اسی پراسرار واقعے کو اپنی تخلیقی صلاحیت اور منطقی تجزیے کے ذریعے ایک ادبی شکل دی اور اسے ”میری روژے کا راز“ کے عنوان سے پیش کیا۔
رو مورگ کے قتل
ایڈگر ایلن پو
یہ کہانی ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کی مشہور ترین جاسوسی کہانی "The Murders in the Rue Morgue" (جس کا اردو ترجمہ اس دستاویز میں ہے) کا ایک اقتباس ظاہر ہوتی ہے۔ اس کہانی میں راوی اپنے دوست (دُوپن) کی انوکھی اور عجیب عادتوں کا ذکر کرتا ہے، جو ایک بہیمانہ اور پرسرار قتل کی واردات کا تجزیہ کرتے ہوئے پولیس کی نااہلی پر بات کرتا ہے۔ دُوپن کا ماننا ہے کہ اخبارات اور پولیس اس الجھے ہوئے معاملے کو صحیح طرح نہیں سمجھ رہے اور جن غیر معمولی علامات کی وجہ سے پولیس اسے ناقابلِ حل معمہ سمجھ رہی ہے، دراصل وہی علامات اس کیس کو حل کرنا آسان بناتی ہیں۔ پولیس اس بات پر حیران ہے کہ جائے وقوعہ پر صرف مقتول لڑکی کی لاش اور ایک بوڑھی عورت کا بگاڑا ہوا جسم ملا، جبکہ کمرے میں کسی کے داخل ہونے یا فرار ہونے کا کوئی واضح راستہ نہیں تھا اور دو مردوں کی پرسرار آوازیں سنائی دی تھیں؛ دُوپن کے مطابق پولیس نے ایک عام سی غلطی کر کے اس پرسرار حقیقت کو خود ہی پیچیدہ بنا دیا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
-
