Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mohammad Shehzad's Photo'

شاعر، مترجم اور دو لسانی (اردو و انگریزی) ادیب ہیں، جنہیں کلاسیکی موسیقی سے بھی گہرا شغف ہے

شاعر، مترجم اور دو لسانی (اردو و انگریزی) ادیب ہیں، جنہیں کلاسیکی موسیقی سے بھی گہرا شغف ہے

محمد شہزاد کے ذریعے کیے گئے تراجم

باعتبار

بونا مسخرہ

ایڈگر ایلن پو

یہ ایڈگر ایلن پو کی ایک مشہور علامتی اور انتقامی کہانی ہے، جو انگریزی میں Hop Frog کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے بونے مسخرے کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جسے ایک ظالم بادشاہ اپنے دربار میں محض تفریح کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ہاپ فراگ جسمانی کمزوری کے باوجود ذہانت، برداشت اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے، مگر بادشاہ کے مسلسل ظلم اور تضحیک کے بعد اس کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ کہانی میں ایڈگر ایلن پو نے طاقت کے غرور، انسان کی تذلیل، طبقاتی ظلم اور بدلے کی نفسیات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ہاپ فراگ کا کردار بظاہر ایک کمزور اور مضحکہ خیز شخص نظر آتا ہے، لیکن آخر میں وہ اپنی عقل اور منصوبہ بندی سے ظالم حکمرانوں کو شکست دیتا ہے۔ یہ کہانی اس بات کی علامت بھی ہے کہ مسلسل ظلم سہنے والا انسان کبھی کبھی اپنی خاموشی کے پیچھے ایک طاقتور ردعمل چھپا سکتا ہے۔ ہاپ فراگ خوف، طنز، المیہ اور انتقام کا حسین امتزاج ہے۔ ایڈگر ایلن پو نے اس مختصر کہانی میں دکھایا ہے کہ مذاق اور ظلم کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے، اور جو لوگ دوسروں کی تذلیل کو تفریح سمجھتے ہیں، وہ کبھی کبھی اپنے ہی انجام کا سبب بن جاتے ہیں۔

کالی بلی

ایڈگر ایلن پو

The Black Cat (کالی بلی) مشہور امریکی مصنف ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کی تحریر کردہ ایک بظاہر گھریلو مگر انتہائی خوفناک اور سبق آموز مختصر کہانی ہے، جو ایک ایسے شخص کی داستان بیان کرتی ہے جو شراب نوشی کی مہلک عادت کے باعث اخلاقی زوال کا شکار ہو کر اپنے ہی محبوب پالتو جانور، ایک کالی بلی پلوٹو، پر تشدد کرتا ہے اور بالآخر اسے درخت سے لٹکا کر مار دیتا ہے۔ اس ظالمانہ فعل کے فوراً بعد اس کا گھر آتش زدگی کا شکار ہو کر تباہ ہو جاتا ہے اور بعد میں اسے پلوٹو جیسا ہی ایک اور کالا بلا ملتا ہے جس کی ایک آنکھ ضائع ہوتی ہے اور سینے پر پھانسی کے گھاٹ (Gallows) کی شکل کا ایک پراسرار نشان ابھرتا ہے۔ اس نئے بلے کی مسلسل موجودگی، خبط اور ضمیر کی ملامت اسے شدید پاگل پن اور غصے میں مبتلا کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ طیش میں آ کر اپنی بیوی کو قتل کر کے اس کی لاش کو تہہ خانے کی دیوار میں چن دیتا ہے، مگر آخرکار اسی بلے کی پراسرار چیخ پولیس کو دیوار کے پیچھے چُھپی لاش تک پہنچا کر قاتل کو اس کے ہولناک انجام تک پہنچا دیتی ہے۔

ایک مختصر داستانِ محبت

وسیولود میخائیلووچ گارشن

یہ کہانی معروف روسی مصنف ویسی وولود گارشن (Vsevolod Garshin) کی قلمی تخلیق ہے۔ روسی زبان میں یہ "Очень коротенький роман" (اوچن کوروٹینکی رومن) کے عنوان سے معروف ہے، جبکہ انگریزی میں "A Very Short Romance" کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ افسانہ محبت، ایثار اور محرومی کی ایک نہایت دردناک داستان ہے۔ اس میں ایک نوجوان سپاہی اپنی محبوبہ ماشا کی آرزو پر میدانِ جنگ کا رخ کرتا ہے اور وطن کی خاطر بہادری سے لڑتے ہوئے اپنا ایک پیر گنوا بیٹھتا ہے۔ جب وہ لوٹتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ماشا کسی اور سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہی ہے، مگر وہ اس کی مسرت کی خاطر خاموشی سے خود کو اس کی زندگی سے الگ کر لیتا ہے۔ گارشین نے اس افسانے میں جنگ کے جسمانی اور روحانی زخموں کو بڑی گہرائی سے قلمبند کیا ہے۔ مختصر ہونے کے باوجود یہ کہانی انسانی محبت، قربانی اور تنہائی کے شدید احساس کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔

میری روژے کا راز ۔ رو مورگ کے قتل کا تسلسل

ایڈگر ایلن پو

یہ کہانی ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کی مشہور ترین جاسوسی کہانی "The Murders in the Rue Morgue" کا تسلسل ہے۔ یہ کہانی مشہور جاسوس کردار سی۔ آگسٹ ڈوپن کی ایک ایسی تحقیقات پر مبنی ہے جس میں وہ ایک نوجوان لڑکی میری روژے کے پراسرار قتل کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈوپن روایتی اندازِ تفتیش کے بجائے باریک مشاہدے، منطقی تجزیے اور چھوٹے چھوٹے واقعات سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ وہ پولیس کے اندازِ فکر کو رد کرتے ہوئے ثابت کرتا ہے کہ بظاہر واضح دکھائی دینے والے شواہد بھی غلط سمت لے جا سکتے ہیں۔ کہانی میں جرم سے زیادہ عقل، استدلال اور انسانی نفسیات کی پیچیدہ گتھیوں پر توجہ دی گئی ہے۔ ایڈگر ایلن پو کی یہ تحریر جدید جاسوسی ادب کی بنیاد رکھنے والی اہم کہانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کہانی ایک حقیقی قتل کے واقعے سے متاثر تھی۔ میری سیسیلیا راجرز کا قتل 1841ء میں نیویارک میں پیش آیا تھا، لیکن اس اصل واقعے میں بھی قاتل کی شناخت یقینی طور پر ثابت نہیں ہو سکی۔ ایڈگر ایلن پو نے اسی پراسرار واقعے کو اپنی تخلیقی صلاحیت اور منطقی تجزیے کے ذریعے ایک ادبی شکل دی اور اسے ”میری روژے کا راز“ کے عنوان سے پیش کیا۔

رو مورگ کے قتل

ایڈگر ایلن پو

یہ کہانی ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کی مشہور ترین جاسوسی کہانی "The Murders in the Rue Morgue" (جس کا اردو ترجمہ اس دستاویز میں ہے) کا ایک اقتباس ظاہر ہوتی ہے۔ اس کہانی میں راوی اپنے دوست (دُوپن) کی انوکھی اور عجیب عادتوں کا ذکر کرتا ہے، جو ایک بہیمانہ اور پرسرار قتل کی واردات کا تجزیہ کرتے ہوئے پولیس کی نااہلی پر بات کرتا ہے۔ دُوپن کا ماننا ہے کہ اخبارات اور پولیس اس الجھے ہوئے معاملے کو صحیح طرح نہیں سمجھ رہے اور جن غیر معمولی علامات کی وجہ سے پولیس اسے ناقابلِ حل معمہ سمجھ رہی ہے، دراصل وہی علامات اس کیس کو حل کرنا آسان بناتی ہیں۔ پولیس اس بات پر حیران ہے کہ جائے وقوعہ پر صرف مقتول لڑکی کی لاش اور ایک بوڑھی عورت کا بگاڑا ہوا جسم ملا، جبکہ کمرے میں کسی کے داخل ہونے یا فرار ہونے کا کوئی واضح راستہ نہیں تھا اور دو مردوں کی پرسرار آوازیں سنائی دی تھیں؛ دُوپن کے مطابق پولیس نے ایک عام سی غلطی کر کے اس پرسرار حقیقت کو خود ہی پیچیدہ بنا دیا۔

Recitation

بولیے