- کتاب فہرست 180767
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3352طنز و مزاح603 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط725 طرز زندگی30 طب975 تحریکات268 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4779 تحقیق و تنقید6708افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4886
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
محمد یونس بٹ کے اقوال
کہاوت ہے، ’’دیر آید درست آید۔‘‘ اپنی آمد درست ثابت کرنے کا اب ایک ہی طریقہ ہے، دیر سے آئیں۔
کہتے ہیں سگریٹ کے دوسرے سرے پر جو راکھ ہوتی ہے در اصل وہ پینے والے کی ہوتی ہے۔
ایک خاتون نے ہونے والے خاوند سے کہا، ’’شادی کے بعد میں آپ کے دکھ بانٹا کروں گی۔‘‘ اس نے کہا، ’’مگر مجھے تو کئی دکھ نہیں۔‘‘ تو وہ بولی، ’’میں شادی کے بعد کی بات کر رہی ہوں۔‘‘ شاید اسی لیے ہر سیاست دان یہی کہتا ہے اگر میں جیت گیا تو آپ کے دکھ بانٹوں گا۔
عورتوں کی آدھی عمر تو اپنی عمر کم کرنے میں گزرجاتی ہے۔ ایک ملازمت کے انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ’’محترمہ! آپ کی عمر؟‘‘ جواب ملا، ’’۱۹سال کچھ مہینے‘‘ پوچھا، ’’کتنے مہینے؟‘‘ جواب ملا، ’’چھیانوے مہینے!‘‘
گدھے اور انسان میں یہ فرق ہے کہ گدھا سگریٹ نہیں پیتا اور جھوٹ نہیں بول سکتا۔
سگریٹ ہے کیا؟ کاغذ کی ایک نلی جس کے ایک سرے پر شعلہ اور دوسرے پر ایک نادان ہوتا ہے۔ کہتے ہیں سگریٹ کے دوسرے سرے پر جو راکھ ہوتی ہے دراصل وہ پینے والے کی ہوتی ہے۔ ایش ٹرے وہ جگہ ہے جہاں آپ یہ راکھ اس وقت ڈالتے ہیں جب آپ کے پاس فرش نہ ہو۔ ویسے تو سگریٹ پینے والے کے لیے پوری دنیا ایش ٹرے ہی ہوتی ہے بلکہ ہوتے ہوتے یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ سگریٹ منہ میں رکھ کر سمجھتا ہے ایش ٹرے میں رکھا ہے۔ رڈیارڈ کپلنگ کہتا ہے کہ ایک عورت صرف ایک عورت ہوتی ہے جبکہ اچھا سگار بس دھواں ہوتا ہے۔ دنیا کا سب سے مہنگا سگریٹ آپ کا پہلا سگریٹ ہوتا ہے، بعد میں سب سستا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ پینے والا بھی۔
مرد کی عمر وہ ہوتی ہے جو وہ محسوس کرتا ہے اور عورت کی وہ جو آپ محسوس کرتے ہیں۔
جتنی دیر آپ دوسروں سے انتظار کراتے ہیں، در اصل اتنی دیر آپ ان سے اپنا ذکر کرواتے ہیں۔
اہم آدمی اس وقت آتا ہے جب سب آچکے ہوتے ہیں اور اس کی آمد کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ دیر سے آنا در اصل عام سے خاص ہونے کا عمل ہے۔
اس کی اداسی بھی ایک ادا سی ہی ہوتی ہے۔ پوچھو، ’’محبت کیسے شروع ہوتی ہے؟‘‘ تو کہے گی، ’’محبت م سے شروع ہوتی ہے۔‘‘ کسی نے کہا کہ میاں بیوی کے جھگڑوں میں ثالث بچے ہوتے ہیں، تو کہنے لگی بالکل غلط، میاں بیوی کے جھگڑوں میں ثالث رات ہوتی ہے۔ کہتی ہے، ’’مرد اور عورت کی سوچ ایک جیسی ہوتی ہے، عورت مرد سے سونا مانگتی ہے اور مرد بھی بدلے میں سونا ہی چاہتا ہے۔‘‘
کہتے ہیں پہلے آدمی سگریٹ کو پیتا ہے، پھر سگریٹ سگریٹ کو پیتا ہے اور آخر میں سگریٹ آدمی کو پیتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ اتنے لوگ سگریٹ سے نہیں مرتے جتنے سگریٹ پر مرتے ہیں۔ انگریزی میں اسے اسموکنگ کہتے ہیں لوگوں کو شاید اسموکنگ پسند ہی اس لیے ہے کہ اس میں ’کنگ‘ آتا ہے لیکن اس دور میں ’کنگ‘ کہیں کے نہیں رہے۔ سو لگتا ہے عنقریب دھواں دینے والی گاڑیوں کی طرح دھواں دینے والے افراد کابھی چوراہوں میں چالان ہوا کرے گا۔
اگر کوئی اداکارہ کو لباس کے بغیر دیکھ کر خوش نہ ہو تو یقین کرلیں، وہ جیب کترا ہے۔
ایک صاحب کہہ رہے تھے، ’’سگریٹ پینے سے عادت نہیں پڑتی کیونکہ میں گزشتہ بیس سالوں سے سگریٹ پی رہا ہوں، مجھے تو عادت نہیں پڑی۔‘‘ میں نے کہا، ’’پھر تم سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ بولے، ’’سبھی کہتے ہیں سگریٹ نہ پینا سودمند ہے اور میں سود کے بہت خلاف ہوں۔‘‘
نئی نسل کو سگریٹ سے بیزار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سگریٹ پینا نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ تاہم جو شادی شدہ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں وہ سگریٹ کی ڈبی میں بیوی کی تصویر رکھا کریں۔
پان کھانے میں انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہے، گلوری منہ میں یوں دباتے ہیں جیسے کلرک فائل دباتے ہیں۔
جیل اور گھر میں یہ فرق ہے کہ وہ گھر جہاں بندے کی مرضی نہ چلے وہ جیل ہے۔ شادی کے بعد دونوں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سگریٹ ہے کیا؟ کاغذ کی ایک نلی جس کے ایک سرے پر شعلہ اور دوسرے پر ایک نادان ہوتا ہے۔
دنیا کا سب سے مہنگا سگریٹ آپ کا پہلا سگریٹ ہوتا ہے، بعد میں سب سستا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ پینے والا بھی۔
میرے ایک دوست نے سگریٹ نوشی چھوڑنے کا وعدہ کیا۔ اگلے روز آکر کہنے لگا کہ میں نے آدھا وعدہ پورا کردیا ہے باقی آدھا رہ گیا ہے۔ میں نے پوچھا، ’’کیسے؟‘‘ کہنےلگا، ’’تم سے سگریٹ نوشی چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا، نوشی کو چھوڑ دیا۔ سگریٹ رہ گئے وہ بھی چھوڑدوں گا۔‘‘ ویسے اس کے سگریٹ چھوڑنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ قسم کھائے کہ آئندہ کبھی کسی سے سگریٹ نہیں مانگے گا۔
ایک دفعہ ’ف‘ اسے ملنے گیا تو وہ ننگے پاؤں دروازہ کھولنے آئی۔ اس کے پاؤں ٹھوڑی تک ننگے تھے۔
You have remaining out of free content pages. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
