- کتاب فہرست 177688
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محمد یونس بٹ کے اقوال
کہاوت ہے، ’’دیر آید درست آید۔‘‘ اپنی آمد درست ثابت کرنے کا اب ایک ہی طریقہ ہے، دیر سے آئیں۔
کہتے ہیں سگریٹ کے دوسرے سرے پر جو راکھ ہوتی ہے در اصل وہ پینے والے کی ہوتی ہے۔
ایک خاتون نے ہونے والے خاوند سے کہا، ’’شادی کے بعد میں آپ کے دکھ بانٹا کروں گی۔‘‘ اس نے کہا، ’’مگر مجھے تو کئی دکھ نہیں۔‘‘ تو وہ بولی، ’’میں شادی کے بعد کی بات کر رہی ہوں۔‘‘ شاید اسی لیے ہر سیاست دان یہی کہتا ہے اگر میں جیت گیا تو آپ کے دکھ بانٹوں گا۔
عورتوں کی آدھی عمر تو اپنی عمر کم کرنے میں گزرجاتی ہے۔ ایک ملازمت کے انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ’’محترمہ! آپ کی عمر؟‘‘ جواب ملا، ’’۱۹سال کچھ مہینے‘‘ پوچھا، ’’کتنے مہینے؟‘‘ جواب ملا، ’’چھیانوے مہینے!‘‘
گدھے اور انسان میں یہ فرق ہے کہ گدھا سگریٹ نہیں پیتا اور جھوٹ نہیں بول سکتا۔
سگریٹ ہے کیا؟ کاغذ کی ایک نلی جس کے ایک سرے پر شعلہ اور دوسرے پر ایک نادان ہوتا ہے۔ کہتے ہیں سگریٹ کے دوسرے سرے پر جو راکھ ہوتی ہے دراصل وہ پینے والے کی ہوتی ہے۔ ایش ٹرے وہ جگہ ہے جہاں آپ یہ راکھ اس وقت ڈالتے ہیں جب آپ کے پاس فرش نہ ہو۔ ویسے تو سگریٹ پینے والے کے لیے پوری دنیا ایش ٹرے ہی ہوتی ہے بلکہ ہوتے ہوتے یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ سگریٹ منہ میں رکھ کر سمجھتا ہے ایش ٹرے میں رکھا ہے۔ رڈیارڈ کپلنگ کہتا ہے کہ ایک عورت صرف ایک عورت ہوتی ہے جبکہ اچھا سگار بس دھواں ہوتا ہے۔ دنیا کا سب سے مہنگا سگریٹ آپ کا پہلا سگریٹ ہوتا ہے، بعد میں سب سستا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ پینے والا بھی۔
مرد کی عمر وہ ہوتی ہے جو وہ محسوس کرتا ہے اور عورت کی وہ جو آپ محسوس کرتے ہیں۔
جتنی دیر آپ دوسروں سے انتظار کراتے ہیں، در اصل اتنی دیر آپ ان سے اپنا ذکر کرواتے ہیں۔
اہم آدمی اس وقت آتا ہے جب سب آچکے ہوتے ہیں اور اس کی آمد کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ دیر سے آنا در اصل عام سے خاص ہونے کا عمل ہے۔
اس کی اداسی بھی ایک ادا سی ہی ہوتی ہے۔ پوچھو، ’’محبت کیسے شروع ہوتی ہے؟‘‘ تو کہے گی، ’’محبت م سے شروع ہوتی ہے۔‘‘ کسی نے کہا کہ میاں بیوی کے جھگڑوں میں ثالث بچے ہوتے ہیں، تو کہنے لگی بالکل غلط، میاں بیوی کے جھگڑوں میں ثالث رات ہوتی ہے۔ کہتی ہے، ’’مرد اور عورت کی سوچ ایک جیسی ہوتی ہے، عورت مرد سے سونا مانگتی ہے اور مرد بھی بدلے میں سونا ہی چاہتا ہے۔‘‘
کہتے ہیں پہلے آدمی سگریٹ کو پیتا ہے، پھر سگریٹ سگریٹ کو پیتا ہے اور آخر میں سگریٹ آدمی کو پیتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ اتنے لوگ سگریٹ سے نہیں مرتے جتنے سگریٹ پر مرتے ہیں۔ انگریزی میں اسے اسموکنگ کہتے ہیں لوگوں کو شاید اسموکنگ پسند ہی اس لیے ہے کہ اس میں ’کنگ‘ آتا ہے لیکن اس دور میں ’کنگ‘ کہیں کے نہیں رہے۔ سو لگتا ہے عنقریب دھواں دینے والی گاڑیوں کی طرح دھواں دینے والے افراد کابھی چوراہوں میں چالان ہوا کرے گا۔
اگر کوئی اداکارہ کو لباس کے بغیر دیکھ کر خوش نہ ہو تو یقین کرلیں، وہ جیب کترا ہے۔
ایک صاحب کہہ رہے تھے، ’’سگریٹ پینے سے عادت نہیں پڑتی کیونکہ میں گزشتہ بیس سالوں سے سگریٹ پی رہا ہوں، مجھے تو عادت نہیں پڑی۔‘‘ میں نے کہا، ’’پھر تم سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ بولے، ’’سبھی کہتے ہیں سگریٹ نہ پینا سودمند ہے اور میں سود کے بہت خلاف ہوں۔‘‘
نئی نسل کو سگریٹ سے بیزار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سگریٹ پینا نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ تاہم جو شادی شدہ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں وہ سگریٹ کی ڈبی میں بیوی کی تصویر رکھا کریں۔
پان کھانے میں انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہے، گلوری منہ میں یوں دباتے ہیں جیسے کلرک فائل دباتے ہیں۔
جیل اور گھر میں یہ فرق ہے کہ وہ گھر جہاں بندے کی مرضی نہ چلے وہ جیل ہے۔ شادی کے بعد دونوں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سگریٹ ہے کیا؟ کاغذ کی ایک نلی جس کے ایک سرے پر شعلہ اور دوسرے پر ایک نادان ہوتا ہے۔
دنیا کا سب سے مہنگا سگریٹ آپ کا پہلا سگریٹ ہوتا ہے، بعد میں سب سستا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ پینے والا بھی۔
میرے ایک دوست نے سگریٹ نوشی چھوڑنے کا وعدہ کیا۔ اگلے روز آکر کہنے لگا کہ میں نے آدھا وعدہ پورا کردیا ہے باقی آدھا رہ گیا ہے۔ میں نے پوچھا، ’’کیسے؟‘‘ کہنےلگا، ’’تم سے سگریٹ نوشی چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا، نوشی کو چھوڑ دیا۔ سگریٹ رہ گئے وہ بھی چھوڑدوں گا۔‘‘ ویسے اس کے سگریٹ چھوڑنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ قسم کھائے کہ آئندہ کبھی کسی سے سگریٹ نہیں مانگے گا۔
ایک دفعہ ’ف‘ اسے ملنے گیا تو وہ ننگے پاؤں دروازہ کھولنے آئی۔ اس کے پاؤں ٹھوڑی تک ننگے تھے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
