- کتاب فہرست 188668
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1988
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1599 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط745
طرز زندگی27 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2702 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2053نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5901-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
محی الدین نواب کا تعارف
شناخت: مقبول عام ناول نگار، حقیقت پسند اور نفسیات شناس ادیب
محی الدین نواب 1930ء میں غیر منقسم ہندوستان کے صوبۂ بنگال کے شہر کھڑک پور میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) ہجرت کی، اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دوبارہ ہجرت کرتے ہوئے پاکستان آئے اور کراچی کو مستقل مسکن بنایا۔ ان کی زندگی کی یہ دو ہجرتیں ان کے ذہن، فکر اور تخلیقی شعور پر گہرے اثرات چھوڑ گئیں، جن کی جھلک ان کے ناولوں میں بار بار نمایاں ہوتی ہے۔
اگرچہ ان کی پیدائش بنگال میں ہوئی، لیکن گھریلو ماحول اردو زبان سے وابستہ تھا، جس کے باعث اردو ان کی فکری اور تخلیقی زبان بنی۔ وہ مضمون نگار، افسانہ نویس اور شاعر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ایک ناول نگار کی ہے۔ ان کا قلم انسانی نفسیات، سماجی ناہمواریوں، سیاسی شعور، عشق و محبت، اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا آئینہ دار ہے۔
محی الدین نواب کے ناول حجم کے اعتبار سے مختصر بھی ہیں اور ہزاروں صفحات پر مشتمل طویل بھی، مگر دلچسپی، ربط اور فکری گہرائی ہر جگہ برقرار رہتی ہے۔
محی الدین نواب کی شہرت کی اصل وجہ ان کے طویل ترین افسانوی سلسلے "دیوتا" سے ہوئی۔ یہ ناول اردو ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ میں 1977ء سے 2010ء تک بلا ناغہ شائع ہوتا رہا اور اردو ادب میں جاری رہنے والا سب سے طویل ترین ناول ہے اس کے کل 56 حصے ہیں۔ یہ ناول فرہاد علی تیمور کی زندگی کے گرد گھومتا ہے جس کے والدین بچپن میں مر جاتے ہیں اور جائداد پر اس کے رشتہ دار قابض ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ فرہاد علی تیمور اپنی جائداد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی پیتھی سیکھتا ہے۔ یہ ناول مقبول عام فکشن کا ایک منفرد باب ہے، جس کے بارے میں خود محی الدین نواب کا یہ دعویٰ مشہور ہے کہ جو شخص اس کے سو صفحات پڑھ لے، وہ اسے مکمل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
محی الدین نواب نے سیاسی، سماجی، تاریخی اور معاشرتی تمام موضوعات پر قلم اٹھایا۔ معاشرتی مسائل پر ان کی تحریریں اس قدر گہری اور جراحی انداز رکھتی ہیں کہ انھیں “جراحِ معاشرہ” بھی کہا گیا۔ کمزور طبقات پر ظلم، سماجی نابرابری، طبقاتی کشمکش اور انسانی استحصال ان کے ناولوں کے مستقل موضوعات ہیں۔
وفات: محی الدین نواب کا انتقال 6 فروری 2016ء بروز ہفتہ کراچی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Mohiuddin_Nawab
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1988
-
