- کتاب فہرست 180417
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ918 تعلیم344 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1585 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4751 تحقیق و تنقید6590افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محی الدین نواب کا تعارف
شناخت: مقبول عام ناول نگار، حقیقت پسند اور نفسیات شناس ادیب
محی الدین نواب 1930ء میں غیر منقسم ہندوستان کے صوبۂ بنگال کے شہر کھڑک پور میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) ہجرت کی، اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دوبارہ ہجرت کرتے ہوئے پاکستان آئے اور کراچی کو مستقل مسکن بنایا۔ ان کی زندگی کی یہ دو ہجرتیں ان کے ذہن، فکر اور تخلیقی شعور پر گہرے اثرات چھوڑ گئیں، جن کی جھلک ان کے ناولوں میں بار بار نمایاں ہوتی ہے۔
اگرچہ ان کی پیدائش بنگال میں ہوئی، لیکن گھریلو ماحول اردو زبان سے وابستہ تھا، جس کے باعث اردو ان کی فکری اور تخلیقی زبان بنی۔ وہ مضمون نگار، افسانہ نویس اور شاعر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ایک ناول نگار کی ہے۔ ان کا قلم انسانی نفسیات، سماجی ناہمواریوں، سیاسی شعور، عشق و محبت، اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا آئینہ دار ہے۔
محی الدین نواب کے ناول حجم کے اعتبار سے مختصر بھی ہیں اور ہزاروں صفحات پر مشتمل طویل بھی، مگر دلچسپی، ربط اور فکری گہرائی ہر جگہ برقرار رہتی ہے۔
محی الدین نواب کی شہرت کی اصل وجہ ان کے طویل ترین افسانوی سلسلے "دیوتا" سے ہوئی۔ یہ ناول اردو ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ میں 1977ء سے 2010ء تک بلا ناغہ شائع ہوتا رہا اور اردو ادب میں جاری رہنے والا سب سے طویل ترین ناول ہے اس کے کل 56 حصے ہیں۔ یہ ناول فرہاد علی تیمور کی زندگی کے گرد گھومتا ہے جس کے والدین بچپن میں مر جاتے ہیں اور جائداد پر اس کے رشتہ دار قابض ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ فرہاد علی تیمور اپنی جائداد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی پیتھی سیکھتا ہے۔ یہ ناول مقبول عام فکشن کا ایک منفرد باب ہے، جس کے بارے میں خود محی الدین نواب کا یہ دعویٰ مشہور ہے کہ جو شخص اس کے سو صفحات پڑھ لے، وہ اسے مکمل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
محی الدین نواب نے سیاسی، سماجی، تاریخی اور معاشرتی تمام موضوعات پر قلم اٹھایا۔ معاشرتی مسائل پر ان کی تحریریں اس قدر گہری اور جراحی انداز رکھتی ہیں کہ انھیں “جراحِ معاشرہ” بھی کہا گیا۔ کمزور طبقات پر ظلم، سماجی نابرابری، طبقاتی کشمکش اور انسانی استحصال ان کے ناولوں کے مستقل موضوعات ہیں۔
وفات: محی الدین نواب کا انتقال 6 فروری 2016ء بروز ہفتہ کراچی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Mohiuddin_Nawab
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
