- کتاب فہرست 180736
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3289طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1695 خطوط738
طرز زندگی30 طب973 تحریکات270 ناول4268 سیاسی351 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6521افسانہ2668 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب434 ترجمہ4223خواتین کی تحریریں5770-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1256
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1585
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محی الدین نواب کا تعارف
شناخت: مقبول عام ناول نگار، حقیقت پسند اور نفسیات شناس ادیب
محی الدین نواب 1930ء میں غیر منقسم ہندوستان کے صوبۂ بنگال کے شہر کھڑک پور میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) ہجرت کی، اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دوبارہ ہجرت کرتے ہوئے پاکستان آئے اور کراچی کو مستقل مسکن بنایا۔ ان کی زندگی کی یہ دو ہجرتیں ان کے ذہن، فکر اور تخلیقی شعور پر گہرے اثرات چھوڑ گئیں، جن کی جھلک ان کے ناولوں میں بار بار نمایاں ہوتی ہے۔
اگرچہ ان کی پیدائش بنگال میں ہوئی، لیکن گھریلو ماحول اردو زبان سے وابستہ تھا، جس کے باعث اردو ان کی فکری اور تخلیقی زبان بنی۔ وہ مضمون نگار، افسانہ نویس اور شاعر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ایک ناول نگار کی ہے۔ ان کا قلم انسانی نفسیات، سماجی ناہمواریوں، سیاسی شعور، عشق و محبت، اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا آئینہ دار ہے۔
محی الدین نواب کے ناول حجم کے اعتبار سے مختصر بھی ہیں اور ہزاروں صفحات پر مشتمل طویل بھی، مگر دلچسپی، ربط اور فکری گہرائی ہر جگہ برقرار رہتی ہے۔
محی الدین نواب کی شہرت کی اصل وجہ ان کے طویل ترین افسانوی سلسلے "دیوتا" سے ہوئی۔ یہ ناول اردو ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ میں 1977ء سے 2010ء تک بلا ناغہ شائع ہوتا رہا اور اردو ادب میں جاری رہنے والا سب سے طویل ترین ناول ہے اس کے کل 56 حصے ہیں۔ یہ ناول فرہاد علی تیمور کی زندگی کے گرد گھومتا ہے جس کے والدین بچپن میں مر جاتے ہیں اور جائداد پر اس کے رشتہ دار قابض ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ فرہاد علی تیمور اپنی جائداد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی پیتھی سیکھتا ہے۔ یہ ناول مقبول عام فکشن کا ایک منفرد باب ہے، جس کے بارے میں خود محی الدین نواب کا یہ دعویٰ مشہور ہے کہ جو شخص اس کے سو صفحات پڑھ لے، وہ اسے مکمل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
محی الدین نواب نے سیاسی، سماجی، تاریخی اور معاشرتی تمام موضوعات پر قلم اٹھایا۔ معاشرتی مسائل پر ان کی تحریریں اس قدر گہری اور جراحی انداز رکھتی ہیں کہ انھیں “جراحِ معاشرہ” بھی کہا گیا۔ کمزور طبقات پر ظلم، سماجی نابرابری، طبقاتی کشمکش اور انسانی استحصال ان کے ناولوں کے مستقل موضوعات ہیں۔
وفات: محی الدین نواب کا انتقال 6 فروری 2016ء بروز ہفتہ کراچی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Mohiuddin_Nawab
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
-
