- کتاب فہرست 180685
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم347 مضامين و خاكه1372 قصہ / داستان1645 صحت108 تاریخ3324طنز و مزاح601 صحافت200 زبان و ادب1235
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات267 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6665افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے235 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب432 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1208
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
محی الدین نواب کا تعارف
شناخت: مقبول عام ناول نگار، حقیقت پسند اور نفسیات شناس ادیب
محی الدین نواب 1930ء میں غیر منقسم ہندوستان کے صوبۂ بنگال کے شہر کھڑک پور میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) ہجرت کی، اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دوبارہ ہجرت کرتے ہوئے پاکستان آئے اور کراچی کو مستقل مسکن بنایا۔ ان کی زندگی کی یہ دو ہجرتیں ان کے ذہن، فکر اور تخلیقی شعور پر گہرے اثرات چھوڑ گئیں، جن کی جھلک ان کے ناولوں میں بار بار نمایاں ہوتی ہے۔
اگرچہ ان کی پیدائش بنگال میں ہوئی، لیکن گھریلو ماحول اردو زبان سے وابستہ تھا، جس کے باعث اردو ان کی فکری اور تخلیقی زبان بنی۔ وہ مضمون نگار، افسانہ نویس اور شاعر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ایک ناول نگار کی ہے۔ ان کا قلم انسانی نفسیات، سماجی ناہمواریوں، سیاسی شعور، عشق و محبت، اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا آئینہ دار ہے۔
محی الدین نواب کے ناول حجم کے اعتبار سے مختصر بھی ہیں اور ہزاروں صفحات پر مشتمل طویل بھی، مگر دلچسپی، ربط اور فکری گہرائی ہر جگہ برقرار رہتی ہے۔
محی الدین نواب کی شہرت کی اصل وجہ ان کے طویل ترین افسانوی سلسلے "دیوتا" سے ہوئی۔ یہ ناول اردو ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ میں 1977ء سے 2010ء تک بلا ناغہ شائع ہوتا رہا اور اردو ادب میں جاری رہنے والا سب سے طویل ترین ناول ہے اس کے کل 56 حصے ہیں۔ یہ ناول فرہاد علی تیمور کی زندگی کے گرد گھومتا ہے جس کے والدین بچپن میں مر جاتے ہیں اور جائداد پر اس کے رشتہ دار قابض ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ فرہاد علی تیمور اپنی جائداد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی پیتھی سیکھتا ہے۔ یہ ناول مقبول عام فکشن کا ایک منفرد باب ہے، جس کے بارے میں خود محی الدین نواب کا یہ دعویٰ مشہور ہے کہ جو شخص اس کے سو صفحات پڑھ لے، وہ اسے مکمل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
محی الدین نواب نے سیاسی، سماجی، تاریخی اور معاشرتی تمام موضوعات پر قلم اٹھایا۔ معاشرتی مسائل پر ان کی تحریریں اس قدر گہری اور جراحی انداز رکھتی ہیں کہ انھیں “جراحِ معاشرہ” بھی کہا گیا۔ کمزور طبقات پر ظلم، سماجی نابرابری، طبقاتی کشمکش اور انسانی استحصال ان کے ناولوں کے مستقل موضوعات ہیں۔
وفات: محی الدین نواب کا انتقال 6 فروری 2016ء بروز ہفتہ کراچی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Mohiuddin_Nawab
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
-
