- کتاب فہرست 182577
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ926 تعلیم343 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3287طنز و مزاح610 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4312 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6620افسانہ2688 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
معین الدین جینابڑے کے افسانے
برسو رام دھڑاکے سے
’’یہ کہانی مسلم معاشرے کے مختلف فرقوں، طبقوں اور گروہوں کے درمیان پھیلے حسد، نفرت اور بغض کی داستان کو بیان کرتی ہے۔ وہ اپنے مسلم دوست سے مدتوں بعد ملا تھا۔ اس دوست سے جو تقسیم کے وقت پاکستان چلا گیا تھا۔ شروع میں انہوں نے آپس میں بیتے دنوں کی باتیں کی تھیں اور پھر رام بابو نے اسے بتایا تھا کہ دس عاشورے کو جب اسے گھر میں درود شریف پڑھوانے کے لیے مسلمان کی ضرورت پڑی تو اسے سارے شہر میں ایک بھی مسلمان نہیں ملا۔‘‘
بھول بھلیاں
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ یہ بیماری اسے بچپن سے ہی ہے جب وہ گلی میں دوستوں کے ساتھ کھیلتے وقت کسی انجان شخص کو اپنا ماما سمجھ کر اس کے پیچھے چل پڑا تھا اور پھر ممبئی کی بھیڑ میں گم ہو گیا تھا۔ حالانکہ بعد میں وہ مل گیا تھا۔ اس کے بعد وہ کئی بار کھویا اور پھر یہ اس کی عادت بن گئی، جو آج تک اس کے ساتھ ہے۔
چاند
’’یہ تقسیم کے بعد ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھنے والے متوسط طبقے کی کہانی ہے، جن کے یہاں بچے کی پیدائش بھی ان کی معاشی حالت پر منحصر ہوتی ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیوی دوسرا بچہ پیدا کرے۔ بلکہ وہ پہلا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اسلئے وہ بیوی سے بار بار بچہ گرا دینے کے لیے کہتا ہے۔ پہلے بچے کے ذہن پر ماں باپ کی اس ناچاقی کا ایسا اثر پڑتا ہے کہ وہ بیمار پڑ جاتا ہے۔ بچے کو جب ہوش آتا ہے تو وہ ان سے ایسا سوال کرتا ہے کہ دونوں میں کسی کے پاس بھی اس کا جواب نہیں ہوتا۔‘‘
ناستک
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو بچپن میں ایک شاستری جی کے ساتھ دوران گفتگو خود کو ناستک اعلان کر تا ہے۔ اس کے بعد وہ گاؤں چھوڑ دیتا ہے اور ساری دنیا کی سیر کرتا پھرتا ہے۔ بیس سال بعد اس کی ملاقات پھر اسی شاستری جی سے ہوتی ہے۔ شاستری جی بھی اسے پہچان لیتے ہیں۔ لیکن جب اس بار ان کے درمیان معانقہ ہوتا ہے تو شاستری اپنی سدھ چھوڑکر اس ناستک کو اپنا گرو مان لیتے ہیں۔
نجات
یہ ایک ایسے مرشد کی کہانی ہے، جسے اس کا پیر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کہتا ہے جو اس کا آخری امتحان ہے۔ وہ سوال کے جواب کی تلاش میں ایک گاؤں میں پناہ لیتا ہے اور وہیں ساری زندگی گزار دیتا ہے۔ جب اسے وہاں بھی جواب نہیں ملتا تو وہ گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ لیکن جب وہ گاؤں چھوڑ کر جا رہا ہوتا ہے تو ایک ایسا حادثہ پیش آتا ہے کہ اسے خود اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہوتا۔
رنگ ماسٹر
یہ ایک سرکس کمپنی کے ایک رنگ ماسٹر کی کہانی ہے، جو رنگ میں شیروں کے ساتھ طرح طرح کے کرتب دکھاتا ہے۔ ایک دن اچانک وہ بیمار پڑ جاتا ہے۔ ڈاکٹر سے ملتا ہے اور ڈاکٹر کو بتاتا ہے کہ اسے ایشور میں یقین نہیں ہے اسلئے موت اس کا جنون بن چکا ہے۔ اس کے جنون کی وجہ ڈاکٹر یہ بتاتا ہے کہ ایشور ایک بڑا خوف ہے اور موت چھوٹا خوف۔ بڑا خوف جب ختم ہو جاتا ہے تو چھوٹا خوف ہی بڑا خوف بن جاتا ہے۔
تعبیر
یوں تو شام جب ہوتی ہے، اکیلے دھرم پور میں نہیں ہوتی اور چوپال بھی ایک دھرم پور ہی میں نہیں، لیکن شام کے وقت دھرم پور کی چوپال پر جمع لوگوں کے چہروں سے ٹپکتی بشاست اور آنکھوں سے چھلکتا سکون، صاف کہہ دیتا ہے کہ چاہے یہ لوگ منہ سے نہ کہیں، اندر ہی اندر
گیت گھاٹ اور گرجا گھر
یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے گاؤں میں سب سے خوبصورت ہے۔ گاؤں ایک ندی کے کنارے آباد ہے۔ اس کا باپ نہیں چاہتا کہ وہ ندی کے اس گھاٹ پر جائے جہاں ہر سال روایت کے مطابق گیت گایا جاتا ہے۔ لیکن وہ وہاں جانے سے رکتی نہیں۔ لڑکی کا باپ گرجا گھر کے فادر سے صلاح مانگتا ہے۔ فادر انہیں ایک مشورہ دیتا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ اس مشورے پر عمل کرتا، لڑکی ندی میں ڈوب کر مر جاتی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
