- کتاب فہرست 189020
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1036 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1793 صحت109 تاریخ3629طنز و مزاح757 صحافت220 زبان و ادب1975 خطوط825
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5066 سیاسی377 مذہبیات5061 تحقیق و تنقید7445افسانہ3036 خاکے/ قلمی چہرے291 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب569 ترجمہ4624خواتین کی تحریریں6308-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1414
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات694
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1325
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
مراد سعیدی کا تعارف
راجستھان ابتداء سے ہی ایک اہم اور تاریخی صوبہ رہا ہے جسے پہلے راجپوتانہ بھی کہا جاتا تھا اور کئی چھوٹی بڑی خود مختار ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اس صوبے میں بڑی اور طاقتور ریاستیں مثلاً میواڑ، مارواڑ اور جے پور تھیں، وہیں ٹونک نام کی ایک ریاست انیسویں صدی کے اوائل میں (۱۸۱۷) وجود میں آئی۔ اس ریاست کے بانی نواب امیر خاں تھے۔ یہ راجستھان کی واحد مسلم ریاست تھی جو آزادی سے پہلے بھی اور آزادی کے بعد بھی علم و ادب کا گہوارہ مانی جاتی رہی ہے۔ گو کہ اب یہ ریاست نہیں ہے لیکن یہاں آج بھی آزادی سے پہلے کے ادبی اثرات عام طور پر نظر آتے ہیں۔ حالانکہ وہ اگلے زمانے جیسے عالم و فاضل اور ملک بھر میں شہرت حاصل کرنے والے شعراء نہیں ہیں لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ ان اساتذہ کی یادگاریں آج بھی اس سرزمین سے دنیائے ادب میں اپنی شعاعیں بکھیر رہی ہیں۔ا یسی ہی شخصیات میں ایک نام مرادؔ سعیدی کا ہے۔ جنھوں نے ریاستی دور کی ادبی روایات کو بھی زندہ رکھا اور جدید دور کے تقاضوں سے اپنے فن سے شعری ادب کو اونچائیاں دینے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی معاصرین شعراء کو معیاری شاعری کی جانب راغب کیا۔ مرادؔ سعیدی ان شعراء میں سے ہیں جنھوں نے ریاستی دور بھی دیکھا اور اس دور کے اساتذہ کا فیض بھی حاصل کیا۔
ولادت و تعلیم :
مرادؔ سعیدی جن کا اصل نام حافظ عماد الدین خاں ہے، ۲۱؍ جولائی ۱۹۲۳ء کو ٹونک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدکا نام مفتی سراج الدین خاں تھا۔ ابتدائی تعلیم گھریلوں ماحول میں ہوئی۔ بعد میں جامعہ اردو علی گڑھ سے، ادیب اور ادیب ماہر کے امتحانات پاس کیے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سرکاری ملازمت کی کوشش کی ا ور محکمۂ آبکاری میں ملازم ہو گئے۔ اسی محکمہ سے رٹائر ہوئے اور ۲۴؍ مئی ۱۹۸۹ء میں انتقال کیا۔ مرادؔ سعیدی کے والد مفتی سراج الدین کا اصل وطن ’’سوات‘‘ (موجودہ پاکستان) تھا۔ وہ نواب ابراہیم علی خاں کے عہد میں ٹونک تشریف لائے تھے۔ ان کی علمیت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے نواب صاحب نے انھیں شعری عدالت کا ناظم مقرر کر دیا تھا۔ اس طرح ٹونک میں اس خاندان کی بہت توقیر و آبرو تھی۔
یوں تو جوانی کی عمر سے ہی مرادؔ سعیدی کو شاعری سے رغبت تھی، یہی ذوق و شوق انھیں صولتؔ ٹونکی اور بسملؔ سعیدی جیسے عظیم شعراء کی صحبت میں لے گیا جہاں انھوں نے زانوئے ادب تہ کئے اور بہت جلد اپنے معاصر شعراء میں ممتاز نظر آنے لگے۔ پہلے صولتؔ ٹونکی سے اصلاح لی پھر بسملؔ سعیدی (۱۹۷۶۔۱۹۰۱ئ) کی شاگردی میں آ ئے توان کی نسبت سے مرادؔ سعیدی لکھنے لگے۔ کم و بیش تیس سال تک ان کی خدمت میں رہے، یہ عرصہ کسی بھی فن کار کو عروج پرپہنچانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، اسی دوران ملک کی آزادی اور تقسیم ہند جیسے واقعات رونما ہوئے۔ جنھوں نے انسان کی روح تک کو جھنجھوڑدیا۔ کچھ عرصہ تک ادب پر ایک جمود سا چھایا رہا۔ رفتہ رفتہ ماحول بدلا ، زندگی پھر سے ڈگر پر آنے لگی اور شعر و سخن کی محفلیں پھر سے سجنے لگیں۔ اس طرح از سرِنور اردو شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
ادبی خدمات:
اگر مرادؔ سعیدی کے ادبی سرمایہ پر نظر ڈالی جائے تو حسب ذیل فہرست مرتب ہوتی ہے:
۱۔ گلدستۂ مرادؔ (شعری مجموعہ ) ۲۰۱۷ئ مرتّب شوقؔ احسنی
۲۔ عزیزوں کے درمیاں (شعری مجموعہ) ۲۰۲۲ئ مرتّب سہیل پیامیؔ
۳۔ غیرتِ گلزار (مجموعۂ چہار بیت) ۲۰۲۴ئ مرتّب ڈاکٹر سعادت رئیس
۴۔ مرادؔ سعیدی : شخص اور شاعر (مجموعۂ مضامین) ۲۰۲۴ئ مرتّب سید ساجد علی ٹونکیjoin rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
