- کتاب فہرست 179374
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1602 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
مراد سعیدی کا تعارف
راجستھان ابتداء سے ہی ایک اہم اور تاریخی صوبہ رہا ہے جسے پہلے راجپوتانہ بھی کہا جاتا تھا اور کئی چھوٹی بڑی خود مختار ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اس صوبے میں بڑی اور طاقتور ریاستیں مثلاً میواڑ، مارواڑ اور جے پور تھیں، وہیں ٹونک نام کی ایک ریاست انیسویں صدی کے اوائل میں (۱۸۱۷) وجود میں آئی۔ اس ریاست کے بانی نواب امیر خاں تھے۔ یہ راجستھان کی واحد مسلم ریاست تھی جو آزادی سے پہلے بھی اور آزادی کے بعد بھی علم و ادب کا گہوارہ مانی جاتی رہی ہے۔ گو کہ اب یہ ریاست نہیں ہے لیکن یہاں آج بھی آزادی سے پہلے کے ادبی اثرات عام طور پر نظر آتے ہیں۔ حالانکہ وہ اگلے زمانے جیسے عالم و فاضل اور ملک بھر میں شہرت حاصل کرنے والے شعراء نہیں ہیں لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ ان اساتذہ کی یادگاریں آج بھی اس سرزمین سے دنیائے ادب میں اپنی شعاعیں بکھیر رہی ہیں۔ا یسی ہی شخصیات میں ایک نام مرادؔ سعیدی کا ہے۔ جنھوں نے ریاستی دور کی ادبی روایات کو بھی زندہ رکھا اور جدید دور کے تقاضوں سے اپنے فن سے شعری ادب کو اونچائیاں دینے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی معاصرین شعراء کو معیاری شاعری کی جانب راغب کیا۔ مرادؔ سعیدی ان شعراء میں سے ہیں جنھوں نے ریاستی دور بھی دیکھا اور اس دور کے اساتذہ کا فیض بھی حاصل کیا۔
ولادت و تعلیم :
مرادؔ سعیدی جن کا اصل نام حافظ عماد الدین خاں ہے، ۲۱؍ جولائی ۱۹۲۳ء کو ٹونک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدکا نام مفتی سراج الدین خاں تھا۔ ابتدائی تعلیم گھریلوں ماحول میں ہوئی۔ بعد میں جامعہ اردو علی گڑھ سے، ادیب اور ادیب ماہر کے امتحانات پاس کیے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سرکاری ملازمت کی کوشش کی ا ور محکمۂ آبکاری میں ملازم ہو گئے۔ اسی محکمہ سے رٹائر ہوئے اور ۲۴؍ مئی ۱۹۸۹ء میں انتقال کیا۔ مرادؔ سعیدی کے والد مفتی سراج الدین کا اصل وطن ’’سوات‘‘ (موجودہ پاکستان) تھا۔ وہ نواب ابراہیم علی خاں کے عہد میں ٹونک تشریف لائے تھے۔ ان کی علمیت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے نواب صاحب نے انھیں شعری عدالت کا ناظم مقرر کر دیا تھا۔ اس طرح ٹونک میں اس خاندان کی بہت توقیر و آبرو تھی۔
یوں تو جوانی کی عمر سے ہی مرادؔ سعیدی کو شاعری سے رغبت تھی، یہی ذوق و شوق انھیں صولتؔ ٹونکی اور بسملؔ سعیدی جیسے عظیم شعراء کی صحبت میں لے گیا جہاں انھوں نے زانوئے ادب تہ کئے اور بہت جلد اپنے معاصر شعراء میں ممتاز نظر آنے لگے۔ پہلے صولتؔ ٹونکی سے اصلاح لی پھر بسملؔ سعیدی (۱۹۷۶۔۱۹۰۱ئ) کی شاگردی میں آ ئے توان کی نسبت سے مرادؔ سعیدی لکھنے لگے۔ کم و بیش تیس سال تک ان کی خدمت میں رہے، یہ عرصہ کسی بھی فن کار کو عروج پرپہنچانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، اسی دوران ملک کی آزادی اور تقسیم ہند جیسے واقعات رونما ہوئے۔ جنھوں نے انسان کی روح تک کو جھنجھوڑدیا۔ کچھ عرصہ تک ادب پر ایک جمود سا چھایا رہا۔ رفتہ رفتہ ماحول بدلا ، زندگی پھر سے ڈگر پر آنے لگی اور شعر و سخن کی محفلیں پھر سے سجنے لگیں۔ اس طرح از سرِنور اردو شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
ادبی خدمات:
اگر مرادؔ سعیدی کے ادبی سرمایہ پر نظر ڈالی جائے تو حسب ذیل فہرست مرتب ہوتی ہے:
۱۔ گلدستۂ مرادؔ (شعری مجموعہ ) ۲۰۱۷ئ مرتّب شوقؔ احسنی
۲۔ عزیزوں کے درمیاں (شعری مجموعہ) ۲۰۲۲ئ مرتّب سہیل پیامیؔ
۳۔ غیرتِ گلزار (مجموعۂ چہار بیت) ۲۰۲۴ئ مرتّب ڈاکٹر سعادت رئیس
۴۔ مرادؔ سعیدی : شخص اور شاعر (مجموعۂ مضامین) ۲۰۲۴ئ مرتّب سید ساجد علی ٹونکیjoin rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
