- کتاب فہرست 180347
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1678 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4264 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4198خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مراد سعیدی کا تعارف
راجستھان ابتداء سے ہی ایک اہم اور تاریخی صوبہ رہا ہے جسے پہلے راجپوتانہ بھی کہا جاتا تھا اور کئی چھوٹی بڑی خود مختار ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اس صوبے میں بڑی اور طاقتور ریاستیں مثلاً میواڑ، مارواڑ اور جے پور تھیں، وہیں ٹونک نام کی ایک ریاست انیسویں صدی کے اوائل میں (۱۸۱۷) وجود میں آئی۔ اس ریاست کے بانی نواب امیر خاں تھے۔ یہ راجستھان کی واحد مسلم ریاست تھی جو آزادی سے پہلے بھی اور آزادی کے بعد بھی علم و ادب کا گہوارہ مانی جاتی رہی ہے۔ گو کہ اب یہ ریاست نہیں ہے لیکن یہاں آج بھی آزادی سے پہلے کے ادبی اثرات عام طور پر نظر آتے ہیں۔ حالانکہ وہ اگلے زمانے جیسے عالم و فاضل اور ملک بھر میں شہرت حاصل کرنے والے شعراء نہیں ہیں لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ ان اساتذہ کی یادگاریں آج بھی اس سرزمین سے دنیائے ادب میں اپنی شعاعیں بکھیر رہی ہیں۔ا یسی ہی شخصیات میں ایک نام مرادؔ سعیدی کا ہے۔ جنھوں نے ریاستی دور کی ادبی روایات کو بھی زندہ رکھا اور جدید دور کے تقاضوں سے اپنے فن سے شعری ادب کو اونچائیاں دینے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی معاصرین شعراء کو معیاری شاعری کی جانب راغب کیا۔ مرادؔ سعیدی ان شعراء میں سے ہیں جنھوں نے ریاستی دور بھی دیکھا اور اس دور کے اساتذہ کا فیض بھی حاصل کیا۔
ولادت و تعلیم :
مرادؔ سعیدی جن کا اصل نام حافظ عماد الدین خاں ہے، ۲۱؍ جولائی ۱۹۲۳ء کو ٹونک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدکا نام مفتی سراج الدین خاں تھا۔ ابتدائی تعلیم گھریلوں ماحول میں ہوئی۔ بعد میں جامعہ اردو علی گڑھ سے، ادیب اور ادیب ماہر کے امتحانات پاس کیے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سرکاری ملازمت کی کوشش کی ا ور محکمۂ آبکاری میں ملازم ہو گئے۔ اسی محکمہ سے رٹائر ہوئے اور ۲۴؍ مئی ۱۹۸۹ء میں انتقال کیا۔ مرادؔ سعیدی کے والد مفتی سراج الدین کا اصل وطن ’’سوات‘‘ (موجودہ پاکستان) تھا۔ وہ نواب ابراہیم علی خاں کے عہد میں ٹونک تشریف لائے تھے۔ ان کی علمیت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے نواب صاحب نے انھیں شعری عدالت کا ناظم مقرر کر دیا تھا۔ اس طرح ٹونک میں اس خاندان کی بہت توقیر و آبرو تھی۔
یوں تو جوانی کی عمر سے ہی مرادؔ سعیدی کو شاعری سے رغبت تھی، یہی ذوق و شوق انھیں صولتؔ ٹونکی اور بسملؔ سعیدی جیسے عظیم شعراء کی صحبت میں لے گیا جہاں انھوں نے زانوئے ادب تہ کئے اور بہت جلد اپنے معاصر شعراء میں ممتاز نظر آنے لگے۔ پہلے صولتؔ ٹونکی سے اصلاح لی پھر بسملؔ سعیدی (۱۹۷۶۔۱۹۰۱ئ) کی شاگردی میں آ ئے توان کی نسبت سے مرادؔ سعیدی لکھنے لگے۔ کم و بیش تیس سال تک ان کی خدمت میں رہے، یہ عرصہ کسی بھی فن کار کو عروج پرپہنچانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، اسی دوران ملک کی آزادی اور تقسیم ہند جیسے واقعات رونما ہوئے۔ جنھوں نے انسان کی روح تک کو جھنجھوڑدیا۔ کچھ عرصہ تک ادب پر ایک جمود سا چھایا رہا۔ رفتہ رفتہ ماحول بدلا ، زندگی پھر سے ڈگر پر آنے لگی اور شعر و سخن کی محفلیں پھر سے سجنے لگیں۔ اس طرح از سرِنور اردو شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
ادبی خدمات:
اگر مرادؔ سعیدی کے ادبی سرمایہ پر نظر ڈالی جائے تو حسب ذیل فہرست مرتب ہوتی ہے:
۱۔ گلدستۂ مرادؔ (شعری مجموعہ ) ۲۰۱۷ئ مرتّب شوقؔ احسنی
۲۔ عزیزوں کے درمیاں (شعری مجموعہ) ۲۰۲۲ئ مرتّب سہیل پیامیؔ
۳۔ غیرتِ گلزار (مجموعۂ چہار بیت) ۲۰۲۴ئ مرتّب ڈاکٹر سعادت رئیس
۴۔ مرادؔ سعیدی : شخص اور شاعر (مجموعۂ مضامین) ۲۰۲۴ئ مرتّب سید ساجد علی ٹونکیjoin rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
