- کتاب فہرست 180336
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
نصیر الدین ہاشمی کا تعارف
تخلص : 'نصیر الدین ہاشمی'
اصلی نام : نصیر الدین عبد الباری
پیدائش : 15 Mar 1895 | حیدر آباد, تلنگانہ
وفات : 26 Sep 1964 | حیدر آباد, تلنگانہ
LCCN :n2014211235
شناخت: ماہرِ دکنیات، ممتاز محقق، مؤرخ، مخطوطہ شناس اور اردو کے نامور ادیب
نصیر الدین ہاشمی، جن کا اصل نام محمد نصیر الدین عبدالباری تھا، 15 مارچ 1895ء (17 رمضان 1312ھ) کو ریاستِ حیدرآباد دکن کے محلہ ترپ بازار میں پیدا ہوئے۔ ان کو 'ماہرِ دکنیات' تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ دکنی ادب، زبان اور ثقافت کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جس پر انہوں نے قلم نہ اٹھایا ہو۔ ان کی شاہکار تصنیف 'دکن میں اردو' نے اردو زبان کے ارتقاء کو سمجھنے کے لیے نئے دریچے وا کیے۔
نصیر الدین ہاشمی کا تعلق عربی النسل 'نوائط' خاندان سے تھا، جو تقریبا ایک ہزار سال قبل عراق و حجاز سے مغربی ہندوستان آیا تھا۔ یہ خاندان نسل در نسل شاہی منصبوں، قضات (جج) اور قلعہ داری کی معزز خدمتوں پر فائز رہا۔ ان کے آباؤ اجداد نے گوا میں قضات، عہدِ عالمگیری میں سرہوٹ کی قلعہ داری اور ارکاٹ میں دیوانی کے فرائض انجام دیے۔ حکومتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ یہ خاندان ہمیشہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کا مرکز رہا۔
نصیر الدین ہاشمی کے دادا مولوی غلام محمد (دیوانِ نواب ارکاٹ) کی خدمات سر سالار جنگ اول حیدرآباد کے لیے حاصل کرنا چاہتے تھے، مگر ان کی جگہ ان کے صاحبزادے اور نصیر الدین ہاشمی کے والد مولوی عبد القادر 1869ء میں حیدرآباد آئے۔ وہ ریاست کے رجسٹرارِ بلدیہ کے عہدے پر فائز رہے۔ نصیر الدین ہاشمی اپنے والد کے چوتھے فرزند تھے۔ آپ کی والدہ امۃ القادر بدر النساء خود ایک صاحبِ تصنیف خاتون تھیں، جنہوں نے 'گلزارِ اولیاء' جیسی کتاب مرتب کی۔
نصیر الدین ہاشمی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی جہاں دینیات، اردو، فارسی، ریاضی اور خطاطی کی تعلیم حاصل کی۔ والد کے انتقال کے بعد مزید تعلیم کے لیے مدرسہ دارالعلوم حیدرآباد میں داخل ہوئے اور منشی و مولوی عالم کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔ اسی ادارے میں انہیں ممتاز شاعر و مفکر امجد حیدر آبادی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، جن سے تاریخ، فلسفہ، عربی اور ریاضی کی تعلیم پائی۔ بعد ازاں مدراس یونیورسٹی سے منشی فاضل کا امتحان پاس کیا اور جامعہ عثمانیہ سے انگریزی کے ساتھ میٹرک تک تعلیم مکمل کی۔
نصیر الدین ہاشمی کو مطالعہ اور تحقیق سے غیر معمولی شغف تھا۔ انہوں نے ناول، سفرنامے، تاریخ، سوانح اور مخطوطات کا وسیع مطالعہ کیا۔ ملازمت کے سلسلے میں ریاستِ حیدرآباد کے مختلف انتظامی و ریکارڈ دفاتر سے وابستہ رہے اور تقریباً اکتیس برس سرکاری خدمات انجام دیں۔ دفترِ دیوانی و مال (سنٹرل ریکارڈ آفس) اور سرشتہ رجسٹریشن و اسٹامپ میں کام کرتے ہوئے انہیں قدیم تاریخی دستاویزات، سرکاری ریکارڈ اور نادر مخطوطات تک رسائی حاصل ہوئی، جس نے ان کے تحقیقی کام کو نئی جہت عطا کی۔
ان کی علمی شہرت کا اصل سبب اردو اور دکنی زبان و ادب پر ان کی بنیادی تحقیقات ہیں۔ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف 'دکن میں اردو' اردو زبان کی تاریخ اور دکن میں اس کے ارتقا پر اولین مستند تحقیقی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، جب کہ 'یورپ میں دکھنی مخطوطات' ایک منفرد تحقیقی کارنامہ ہے جس میں انہوں نے یورپ کے کتب خانوں میں محفوظ دکنی مخطوطات کا تعارف پیش کیا۔ انہی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایک سال کے لیے انگلستان بھیجا گیا تاکہ وہاں سے دکنی ادب اور مخطوطات سے متعلق مزید مواد جمع کر سکیں۔ اس دوران انہوں نے انگلستان، اسکاٹ لینڈ اور فرانس کے کتب خانوں سے نادر مواد حاصل کیا۔
نصیر الدین ہاشمی نے اردو زبان، دکنی ادب، خواتین کی ادبی خدمات، تاریخِ دکن، تہذیب و تمدن، تعلیمی اداروں، مخطوطات اور شخصی تذکروں پر وقیع تصانیف چھوڑیں۔ ان کی اہم کتابوں میں دکن میں اردو، یورپ میں دکھنی مخطوطات، مدراس میں اردو، خواتین دکن کی اردو خدمات، آج کا حیدرآباد، دکھنی ہندو اور اردو، دکھنی کلچر، مقالات ہاشمی، تاریخ عطیات آصفی، عہد آصفی کی قدیم تعلیم، رہبرِ سفرِ یورپ، کتب خانہ سالار جنگ کی وضاحتی فہرست اور کتب خانہ آصفیہ کے اردو مخطوطات شامل ہیں۔
ان کی تحریروں کا امتیاز تحقیقی دیانت، ماخذ سے رجوع، تاریخی شعور اور تہذیبی بصیرت ہے۔ انہوں نے اردو تحقیق کو محض روایتی تذکرہ نگاری سے نکال کر باقاعدہ دستاویزی اور علمی بنیادوں پر استوار کیا۔ دکنی ادب اور جنوبی ہند کی اردو روایت کے حوالے سے ان کا کام آج بھی بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔
وفات: 26 ستمبر 1964ء، حیدرآباد میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%DB%81%D8%A7%D8%B4%D9%85%DB%8C
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n2014211235
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
