- کتاب فہرست 179667
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
نوشابہ خاتون کے افسانے
حاصل زندگی
برسوں بعد آئینہ کے سامنے کھڑی وہ اس سراپے کو بغور دیکھ رہی تھی جس کے بالوں میں اب ان گنت چاندی کے تار جھلملارہے تھے۔ وہ اِس چہرے میںاس چہرے کو تلاش کر رہی تھی جو کبھی موسم سرما کی چمکیلی اور سنہری دھوپ کے مانند روشن تھا۔ نہ جانے کہاں کھو گیا تھا وہ روشن
حاصل زندگی
برسوں بعد آئینہ کے سامنے کھڑی وہ اس سراپے کو بغور دیکھ رہی تھی جس کے بالوں میں اب ان گنت چاندی کے تار جھلملا رہے تھے۔ وہ اس چہرے میں اس چہرے کو تلاش کر رہی تھی جو کبھی موسم سرما کی چمکیلی اور سنہری دھوپ کے مانند روشن تھا۔ نہ جانے کہاں کھو گیا تھا وہ
بالا دست
مدت بعد وہ وطن واپس آیا تھا جہاں سے اس کی بہت ساری تلخ و شیریں یادیں وابستہ تھیں۔ جاتے وقت اس نے عہد کیا تھا کہ اَب یہاں لوٹ کر کبھی نہ آئےگا۔ لیکن نہ جانے وطن کی مٹی کی کشش تھی یا اپنوں کی محبت کہ بیس سال بعد وہ پھر یہاں کھڑا تھا۔ جب وہ اپنے قصبہ
اندھ وشواس
مجھے اس کا لونی میں آئے زیادہ دن نہیںہوئے تھے اس لیے آس پاس والوں سے ابھی تک راہ و رسم استوار نہیں ہوئی تھی۔ وقت گزاری کے لیے میں سارا دن پڑا اخبار پڑھتا رہتایا کسی رسالے کا مطالعہ کرتا رہتا۔ کبھی کبھی میری نظریں سامنے والے فلیٹ کی طرف اٹھ جاتیں کیونکہ
گرم ہوا
“یہ کیسی دیوارہے جو میرے بچوں کے بیچ حائل ہے۔ یہ کیسا بٹوارہ ہے جس نے بھائی کو بھائی سے اور ماں کو بیٹے سے جدا کر دیا ہے۔“ برسہا برس نے گزر جانے کے بعد بھی دادی اماں اس کرب سے چھٹکارا نہیں پا سکی تھیں۔ بٹوارے کے بعد جب منجھلے اور چھوٹے چچا نے یہاں
کوئی منزل نہیں
گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ میں کھڑکی سے لگی اپنے خیالوں میں گم لمحہ لمحہ اس شہر سے دور ہوتی جا رہی تھی۔ اس شہر سے جہاں یہ خوف غالب تھا کہ اگر کچھ دن اور یہاں رہ گئی تو بدنامی اور رسوائی کے چھینٹے میرے دامن کو داغدار کر دیں گے۔ گاڑی اب شہر
سائبان
کہیں دور سے آتی ہوئی شہنائی کی آواز نے آج پھر اس کےان خوابیدہ جذبات میں ہلچل مچا دی تھی جنھیں ان دس برسوں میں اس نے بڑی مشکلوں سے تھپک تھپک کر سلا یا تھا۔ اس نے پلٹ کر اپنے بغل والے بستر کی جانب دیکھا جو خالی پڑا تھا۔ دل میں درد کی ایک خفیف سی لہراٹھی
شکوہ
”اے خدا تو کہاں ہے؟ جاگتا ہے یا سوتا ہے؟ کیا تو اپنے بندوں کے شر سے عاجز آ گیا ہے؟؟؟ ذرا آنکھیں کھول اور اس ناچیز پر ایک نظر کرم ڈال۔ تو نے مجھے کیوں بھلا دیا؟ کیوں نظر انداز کر دیا؟ یہ نہ سوچا کہ تونے جسے نظروں سے گرایا اس کا تو بیڑا ہی غرق ہو گیا۔
سائبان
کہیں دور سے آتی ہوئی شہنائی کی آوازنے آج پھر اس کےان خوابیدہ جذبات میں ہلچل مچادی تھی جنھیں ان دس برسوں میں اس نے بڑی مشکلوں سے تھپک تھپک کر سلا یا تھا۔ اس نے پلٹ کر اپنے بغل والے بستر کی جانب دیکھا جو خالی پڑا تھا۔دل میں درد کی ایک خفیف سی لہراٹھی جسے
گرم ہوا
” یہ کیسی دیوارہے جو میرے بچوں کے بیچ حائل ہے ۔ یہ کیسابٹوارہ ہے جس نے بھائی کو بھائی سے اور ماں کو بیٹے سے جدا کر دیاہے۔“ برسہا برس نے گزرجانے کے بعد بھی دادی امّاں اس کرب سے چھٹکارا نہیں پاسکی تھیں۔ بٹوارے کے بعد جب منجھلے اورچھوٹے چچا نے یہاں سے
شکوہ
”اے خدا تو کہاں ہے ؟ جاگتاہے یا سوتا ہے ؟ کیا تو اپنے بندوں کے شر سے عاجز آگیا ہے ؟؟؟ذرا آنکھیں کھول اور اس ناچیز پر ایک نظر کرم ڈال۔ تو نے مجھے کیوں بھلادیا؟ کیوں نظر انداز کردیا؟ یہ نہ سوچا کہ تونے جسے نظروں سے گرایا اس کا توبیڑا ہی غرق ہوگیا۔ آخر
کوئی منزل نہیں
گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔میں کھڑکی سے لگی اپنے خیالوں میں گم لمحہ لمحہ اس شہر سے دور ہوتی جا رہی تھی۔اس شہر سے جہاں یہ خوف غالب تھا کہ اگر کچھ دن اور یہاں رہ گئی تو بدنامی اور رسوائی کے چھینٹے میرے دامن کو داغدار کر دیں گے۔ گاڑی اب شہر کی
اندھ وشواس
مجھے اس کا لونی میں آئے زیادہ دن نہیںہوئے تھے اس لیے آس پاس والوں سے ابھی تک راہ و رسم استوار نہیں ہوئی تھی ۔ وقت گزاری کے لیے میں سارا دن پڑا اخبار پڑھتا رہتایا کسی رسالے کا مطالعہ کرتا رہتا۔ کبھی کبھی میری نظریں سامنے والے فلیٹ کی طرفاٹھ جاتیں کیونکہ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
