- کتاب فہرست 177688
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ناز قادری کے افسانے
یادوں کے دریچے
آج ساری کائنات چاندنی میں نہا رہی ہے نہیں بیوہ کی طرح سفید ساڑی میں ملبوس ہے۔ دور آسمان پر چاند سِسک رہا ہے، تارے سلگ رہے ہیں اور چاندنی دریچے سے میرے کمرے میں جھانک رہی ہے چاندنی جس کے ہونٹوں پر بیکراں اداسی ہے، جس کی آنکھوں میں غم کے سایے لہرا رہے
یہ نہ تھی ہماری قسمت
اور میری نظریں فرحتؔ پر جم سی گئی ہیں۔ یادوں کے دیے جگمگا اٹھے ہیں، ذہن کے پردے پر ماضی کی تصویریں اجاگر ہوگئی ہیں اور حال نے مجھے آج سے پانچ سال پیچھے ڈھکیل دیا ہے۔ کلاس میں پہنچتے ہی کریم کے چاروں طرف طلبا کا ہجوم دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ آج ضرور
اور زندگی مسکرانے لگی
اور اس کی نظریں مس نگار پر جم کر رہ گئیں۔ ’’ساجد! ارے او ساجد!! ذرا پروین سے کہنا سارے مہمان آمگئے۔ لیکن ڈاکٹر کا پتہ نہیں، فون پر دریافت کرے آخر کیا بات ہے؟‘‘ پرنسپل ریاض نے عینک صاف کرتے ہوئے چپراسی سے کہا اور پھر نئے مہمانوں کے استقبال کو آگے
خوشبو تیری وفا کی
آج موسم کتنا خوش گوار ہے! ابھی ابھی زوردار بارش ہوکر تھم گئی ہے۔ لیکن نیلگوں آسمان کی بے کراں وسعت میں ابھی کالی کالی گھٹائیں چھارہی ہیں۔ سبزہ وگل پر ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی ہے، فضا کیف وسرور میں ڈوبی ہوئی ہے اور ہواؤں کے نرم نرم خُنک جھونکے فرحت بخش
درد کب ٹھہرےگا!
آج تمہارا خط آیا ہے! یونیورسٹی سے آتے ہی سامنے میز پر پڑے ہوئے ہلکے نیلے رنگ کے لفافے کے پتے کی خوبصورت تحریر میں میری نظریں الجھ کر رہ گئی ہیں۔ یہ تحریر جانی پہچانی سی معلوم ہو رہی ہے۔میری نگاہیں ان پیاری پیاری تحریروں کو چومنے لگی ہیں اور تم اِن
پلکوں میں آنسو
اور آج میرا سارا سکون درہم برہم ہو گیا ہے!! درد کے تمام فاصلے سمٹ آئے ہیں۔ میرے سینے میں عجیب سی کسک چٹکیاں لے رہی ہے۔ شاید اس کے دل کا درد زہر بن کر میری روح کی گہرائیوں میں اتر رہا ہے اور میں امجد کے غم کی آگ میں سلگنے لگی ہوں۔ امجد شروع ہی سے
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
اور تصویر اس کے ہاتھوں سے گر گئی! خوبصورت فریم ٹوٹ گیا۔ شکستہ شیشے کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے شیشے کے یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس کے دل کی گہرائیوں میں سوئیوں کی طرح چبھ رہے ہوں، ’’میں بیٹھ سکتا ہوں‘‘ اسلم مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’شوق
تشنگی کا سفر
آج کی شام کتنی خوش گوار ہے!! سارے دن کا تھکا ماندہ آفتاب مغرب کی آغوش میں جھک گیا ہے۔ اس کی سنہری کرنین روئے کائنات پر رقصاں ہیں اور سبزہ وگل کو چوم رہی ہیں۔ فضا کیف برسارہی ہے، ہواؤں کے نرم نرم خوش گوار جھونکے فرحت بخش رہے ہیں۔ میں یونیورسٹی کے خوبصورت
آوارہ سایے
دن بھر کا تھکا ماندہ بوڑھا آفتاب مغرب کی آغوش میں چھپ گیا ہے۔ اس کی سنہری دھوپ شام کے قرمزی رنگ میں مدغم ہو گئی ہے اور پھر سرمئی شام کے سایے گھنے ہو گئے ہیں اور آسمان پر تارے جگمگانے لگے ہیں۔ نیم تاریک گلی میں چند آوارہ سایے منڈلا رہے ہیں۔ وہ دہلیز
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
