- کتاب فہرست 182701
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
نیلم احمد بشیر کا تعارف
رشتہ داروں : احمد بشیر (والد)
نیلم احمد بشیر ایک پاکستانی افسانہ نگار, ناول نگار, سفرنامہ نگار, خاکہ نگار, ناقد اور محقق ہیں. انہوں نے نفسیات میں ایم-اے کر رکھا ہے.
نیلم احمد بشیر, مشہور صحافی, لکھاری اور فلم ساز جناب احمد بشیر صاحب اور محترمہ محمودہ بشیر صاحبہ کی بڑی صاحبزادی ہیں. ملک کی نامور اداکارہ, گلوگارہ اور لکھاری بشری انصاری صاحبہ انکی چھوٹی بہن ہیں جبکہ دوسری دونوں بہنیں سنبل شاہد اور اسماء عباس صاحبہ بھی فنِ اداکاری اور گلوکاری سے وابستہ ہیں. محترمہ نیلم احمد بشیر صاحبہ نے اپنا بچپن لاہور, پاکستان میں گزارا اور اوائلِ جوانی میں ہی اپنی شادی کے فورا بعد امریکا منتقل ہو گئیں, انہوں نے عمر کا بڑا حصہ وہیں بسر کیا.
محترمہ ممتاز مفتی کو اپنا معلم اور اتالیق مانتی ہیں, فن و ادب کی جانب نیلم احمد بشیر کے قدرتی میلان کو بھانپتے ہوئے ممتاز مفتی نے ہی انہیں لکھنے کا مشورہ دیا. محترمہ کا ماننا ہے کہ اُن ہی کی جراُت افزائی کی بنا پر ان کی طبیعت لکھنے کی طرف مائل ہوئی.
نیلم احمد بشیر صاحبہ دس کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں, افسانے, خاکے, سفر نامہ اور ایک ناول بھی شامل ہے.
جولائی 2018 میں ان کے ناول طاؤس فقط رنگ کو خالد احمد ایوارڈ سے نوازا گیا-
محترمہ کی تصانیف
گلابوں والی گلی
جگنوؤں کے قافلے
لے سانس بھی آہستہ
وحشت ہی سہی
نیپال نامہ
ستمگر ستمبر
ایک تھی ملکہ
چار چاند
طاؤس فقط رنگ
ہر گچھا زخمایا
نیلم احمد بشیر خود کو انسانیت اور حقوق نسواں کا علم بردار مانتی ہیں جبکہ جدیدیت اور لبرل ازم کو انسانی زندگی کی بقا کے لیے خوش آئند سمجھتی ہیں. اپنی تحاریر کے ذریعے وہ ہمارے مرد نواز سماج میں موجود معروف رویوں اور انسانی زندگی کے ایسے حساس اور دل گداز گوشوں پر روشنی ڈالتی ہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ آج کی عورت کی نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں. وہ سوال اٹھاتی ہیں, ان ممنوعات اور روایات پر جو خواتین کے بنیادی حقوق سلب کر لیں اور سماج میں ان کا دائرہ کار محدود کر دیں. وہ مسلسل اپنے نوکِ قلم سے ایسے نام نہاد رواجوں اور نو گوز ایریاز کی فصیلوں میں دڑاڑیں ڈال رہی ہیں.
انکی نادر تحاریر درحقیقت سماج اور تہذیب کی نمو و ارتقاء کی آئینہ دار ہیں, سماج اور تہذیب کے اختلاط و ارتقاء کا یہی عمل ان کی کہانیوں کے کرداروں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا دکھائی دیتا ہے. محترمہ نیلم احمد بشیر صاحبہ کا قلم جراُت آمیز, رواں, بیباک, بے ریا, سبک اور شعور دار ہے. وہ دانائی اور معقولیت کی قائل ہیں اور یہ ایمان رکھتی ہیں کہ دانش و حکمت ہی دراصل انسانیت کی معراج ہیں, یہ وہ دو نعمتیں ہیں جو معبود کی عطا اور عبد کا وصف ہیں.
انڈین نژاد برطانوی لکھاری اوشا ورما نے ان کے ایک افسانے "وجودِ زن" کا ہندی زبان میں ترجمہ کیا ہے.
انڈیا سے تعلق رکھنے والی رخشندہ جلیل صاحبہ نے اپنی کتاب "نیو اردو رائیٹنگز: فرام انڈیا اینڈ پاکستان" میں ان کا افسانہ "لے سانس بھی آہستہ" انگریزی ترجمے کے ساتھ شامل کیا ہے.
جامعہ الاظہر سے ڈاکٹر رانیہ محمد فوزی آپکے افسانوں کی کتاب "ایک تھی ملکہ" کو عربی ترجمے کے ساتھ چھاپ چکی ہیں.
پاکستانی نژاد کنیڈین رائٹر/ڈائریکٹر ارشد خان صاحب کی ایک ڈاکومنٹری فلم کا اردو سکرپٹ بھی محترمہ نے ہی تحریر کیا.
انڈیا کی عالمی ادبی تنظیم "کتھا سمان" کے جشن میں تجندر شرما صاحب کی دعوت پر بطور مہمانِ خصوصی لندن تشریف لے کر گئیں, جہاں ان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا.
امریکا اور کنیڈا کی کئی جامعات کے شعبۂ اردو ادب میں میں ان کے افسانے وہاں کے نصاب کا حصہ ہیں.
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
