Prem Bhandari's Photo'

پریم بھنڈاری

1949 | ادے پور, ہندوستان

769
Favorite

باعتبار

جانے کیوں لوگ مرا نام پڑھا کرتے ہیں

میں نے چہرے پہ ترے یوں تو لکھا کچھ بھی نہیں

چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں

ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ

میری شہرت کے پیچھے ہے

ہاتھ بہت رسوائی کا

شام ہوئی تو سورج سوچے

سارا دن بے کار جلے تھے

تیری چاہت کی ہے اتنی شدت

پا لیا تجھ کو تو مر جاؤں گا

جس پر تمام عمر بہت ناز تھا مجھے

میرا وہ علم میری سفارش نہ بن سکا

تیرے میرے بیچ نہیں ہے خون کا رشتہ پھر بھی کیوں

تیری آنکھ کے سارے آنسو میری آنکھ سے بہتے ہیں

پہلی سانس پہ میں رویا تھا آخری سانس پہ دنیا

ان سانسوں کے بیچ میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا

کچھ رشتے ہیں جن کی خاطر

جیتے جی مرنا ہوتا ہے

میں تو سب کچھ بھول چکا ہوں

تو بھولے تو بات برابر

کیسے تنہا رات کٹے گی

یادوں کی گٹھری ہی کھولیں

بھیک دے کر نہ جانے کیا لیں گے

اک بھکارن ڈری ڈری سوچے

آگ لگائی تم نے ہی تو

لوگوں نے تو صرف ہوا دی

شنکر بنا کے لوگ مجھے پوجتے رہے

مجبوریوں میں زہر نگلنا پڑا مجھے

مجھ کو یاد رہا تو بھولا

بات ہے یہ تو عادت کی

رنگ تیرا اڑا اڑا سا ہے

لگ گئی ہے تجھے نظر شاید

ساری ساری رات میں جاگا

وہ میری آنکھوں میں سویا

کھیل کود کر شام ڈھلے کیوں

اپنے گھر کو جاتی دھوپ

ساری بے رنگ سوچ کے چہرے

لفظ پہنیں تو پھر نکھرتے ہیں