- کتاب فہرست 180887
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1997
ڈرامہ924 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1665 صحت108 تاریخ3355طنز و مزاح604 صحافت202 زبان و ادب1143
خطوط725 طرز زندگی30 طب980 تحریکات270 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4794 تحقیق و تنقید6720افسانہ2673 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2019نصابی کتاب442 ترجمہ4200-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1272
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1584
- کہہ مکرنی6
- کلیات574
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1216
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام35
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
قمر رئیس کا تعارف
اک نوح نہیں جو ہمیں کشتی میں بٹھا لے
ورنہ کسی طوفان کے آثار تو سب ہیں
شناخت: ممتاز نقاد، محقق، پریم چند شناس، شاعر اور ترقی پسند فکر کے نمائندہ ادیب
قمر رئیس (اصل نام: مصاحب علی خاں) 12 جولائی 1932ء کو محلہ احمد پورہ، شاہجہاں پور، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ والد کا نام مولوی عبدالعلی خان اور والدہ کا نام مختار بیگم تھا، جبکہ شریکِ حیات رئیس بانو تھیں۔
قمر رئیس نے ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول، شاہجہاں پور سے حاصل کی۔ 1948ء میں حسین آباد گورنمنٹ ہائی اسکول، لکھنو سے میٹرک کیا، 1950ء میں گاندھی فیضِ عام کالج، شاہجہاں پور سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا، پھر آگرہ یونیورسٹی سے 1952ء میں بی اے اور لکھنو یونیورسٹی سے 1954ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ناگپور یونیورسٹی سے 1955ء میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1958ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’’پریم چند کا تنقیدی مطالعہ بحیثیت ناول نگار‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی، جو معروف ادیب پروفیسر رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں لکھی گئی۔
1959ء میں وہ دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیکچرر مقرر ہوئے اور بعد میں ریڈر، پروفیسر اور صدرِ شعبہ کے عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
قمر رئیس تاشقند میں پانچ سال تک انڈین کلچرل سینٹر کے ڈائریکٹر رہے۔ وہ پانچ مرتبہ انجمن اساتذۂ اردو جامعات کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ اٹھارہ برس تک انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ اردو کے پہلے پروفیسر تھے جنہیں یو جی سی نے ’’نیشنل لیکچرار‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔ 2001ء میں تاشقند یونیورسٹی نے انہیں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی تفویض کی۔
قمر رئیس اردو ادب میں ترقی پسند اور مارکسی تنقید کے اہم نمائندہ نقاد سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کی سب سے بڑی شناخت پریم چند شناسی ہے، لیکن انہوں نے سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی مسائل کو بھی اپنی تنقید کا محور بنایا۔ ان کی تنقیدی فکر میں اشتراکیت، انسانی آزادی، سماجی انصاف اور تہذیبی ہم آہنگی کے تصورات نمایاں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ترقی پسند ادب کو محض سیاسی نظریے کے بجائے انسانی اور تہذیبی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔
قمر رئیس نہ صرف نقاد بلکہ شاعر بھی تھے۔ ان کا شعری مجموعہ ’’شامِ نوروز‘‘ ہے، جس میں فکر انگیز نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔
ان کی ادارت میں کئی اہم رسائل بھی شائع ہوئے، جن میں ’’ماہنامہ ادیب‘‘ (علی گڑھ)، ’’سہ ماہی آب و گل‘‘ (دہلی)، ’’ماہنامہ عصری آگہی‘‘ اور ’’نیا سفر‘‘ شامل ہیں۔
قمر رئیس کی اہم تصانیف میں ’’پریم چند کا تنقیدی مطالعہ‘‘، ’’پریم چند: فکر و فن‘‘، ’’پریم چند بحیثیت ناول نگار‘‘، ’’تنقیدی تناظر‘‘، ’’تعبیر و تحلیل‘‘، ’’تلاش و توازن‘‘، ’’اردو میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب‘‘، ’’ترجمہ کا فن اور روایت‘‘، ’’اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت‘‘ اور ’’ازبکستان: انقلاب سے انقلاب تک‘‘ شامل ہیں۔
ترتیب و تالیف کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے ’’ترقی پسند ادب: پچاس سالہ سفر‘‘، ’’جوش ملیح آبادی: خصوصی مطالعہ‘‘، ’’نیا افسانہ: مسائل اور میلانات‘‘، ’’معاصر اردو غزل: مسائل و میلانات‘‘، ’’مضامینِ پریم چند‘‘ اور ’’منشی پریم چند: شخصیت اور کارنامے‘‘ جیسی اہم کتابیں مرتب کیں۔
تراجم میں ’’بیسویں صدی کی ازبیک شاعری‘‘، ’’ارمغانِ تاشقند‘‘ اور ’’نغمۂ کشمیر‘‘ قابلِ ذکر ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے اردو قارئین کو وسط ایشیا کی تہذیب، شاعری اور فکری روایت سے روشناس کرایا۔
وفات: قمر رئیس کا انتقال 29 اپریل 2009ء کو دہلی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%82%D9%85%D8%B1_%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1997
-
