Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Qamar Raees's Photo'

قمر رئیس

1932 - 2009 | دلی, انڈیا

ترقی پسند نقاد اور پریم چند شناس

ترقی پسند نقاد اور پریم چند شناس

قمر رئیس کا تعارف

تخلص : 'قمر'

اصلی نام : مصاحب علی خاں

پیدائش : 12 Jul 1932 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش

وفات : 29 Apr 2009 | دلی, انڈیا

اک نوح نہیں جو ہمیں کشتی میں بٹھا لے

ورنہ کسی طوفان کے آثار تو سب ہیں

شناخت: ممتاز نقاد، محقق، پریم چند شناس، شاعر اور ترقی پسند فکر کے نمائندہ ادیب

قمر رئیس (اصل نام: مصاحب علی خاں) 12 جولائی 1932ء کو محلہ احمد پورہ، شاہجہاں پور، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ والد کا نام مولوی عبدالعلی خان اور والدہ کا نام مختار بیگم تھا، جبکہ شریکِ حیات رئیس بانو تھیں۔

قمر رئیس نے ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول، شاہجہاں پور سے حاصل کی۔ 1948ء میں حسین آباد گورنمنٹ ہائی اسکول، لکھنو سے میٹرک کیا، 1950ء میں گاندھی فیضِ عام کالج، شاہجہاں پور سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا، پھر آگرہ یونیورسٹی سے 1952ء میں بی اے اور لکھنو یونیورسٹی سے 1954ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ناگپور یونیورسٹی سے 1955ء میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1958ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’’پریم چند کا تنقیدی مطالعہ بحیثیت ناول نگار‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی، جو معروف ادیب پروفیسر رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں لکھی گئی۔

1959ء میں وہ دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیکچرر مقرر ہوئے اور بعد میں ریڈر، پروفیسر اور صدرِ شعبہ کے عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

قمر رئیس تاشقند میں پانچ سال تک انڈین کلچرل سینٹر کے ڈائریکٹر رہے۔ وہ پانچ مرتبہ انجمن اساتذۂ اردو جامعات کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ اٹھارہ برس تک انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ اردو کے پہلے پروفیسر تھے جنہیں یو جی سی نے ’’نیشنل لیکچرار‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔ 2001ء میں تاشقند یونیورسٹی نے انہیں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی تفویض کی۔

قمر رئیس اردو ادب میں ترقی پسند اور مارکسی تنقید کے اہم نمائندہ نقاد سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کی سب سے بڑی شناخت پریم چند شناسی ہے، لیکن انہوں نے سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی مسائل کو بھی اپنی تنقید کا محور بنایا۔ ان کی تنقیدی فکر میں اشتراکیت، انسانی آزادی، سماجی انصاف اور تہذیبی ہم آہنگی کے تصورات نمایاں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ترقی پسند ادب کو محض سیاسی نظریے کے بجائے انسانی اور تہذیبی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔

قمر رئیس نہ صرف نقاد بلکہ شاعر بھی تھے۔ ان کا شعری مجموعہ ’’شامِ نوروز‘‘ ہے، جس میں فکر انگیز نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔

ان کی ادارت میں کئی اہم رسائل بھی شائع ہوئے، جن میں ’’ماہنامہ ادیب‘‘ (علی گڑھ)، ’’سہ ماہی آب و گل‘‘ (دہلی)، ’’ماہنامہ عصری آگہی‘‘ اور ’’نیا سفر‘‘ شامل ہیں۔

قمر رئیس کی اہم تصانیف میں ’’پریم چند کا تنقیدی مطالعہ‘‘، ’’پریم چند: فکر و فن‘‘، ’’پریم چند بحیثیت ناول نگار‘‘، ’’تنقیدی تناظر‘‘، ’’تعبیر و تحلیل‘‘، ’’تلاش و توازن‘‘، ’’اردو میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب‘‘، ’’ترجمہ کا فن اور روایت‘‘، ’’اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت‘‘ اور ’’ازبکستان: انقلاب سے انقلاب تک‘‘ شامل ہیں۔

ترتیب و تالیف کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے ’’ترقی پسند ادب: پچاس سالہ سفر‘‘، ’’جوش ملیح آبادی: خصوصی مطالعہ‘‘، ’’نیا افسانہ: مسائل اور میلانات‘‘، ’’معاصر اردو غزل: مسائل و میلانات‘‘، ’’مضامینِ پریم چند‘‘ اور ’’منشی پریم چند: شخصیت اور کارنامے‘‘ جیسی اہم کتابیں مرتب کیں۔

تراجم میں ’’بیسویں صدی کی ازبیک شاعری‘‘، ’’ارمغانِ تاشقند‘‘ اور ’’نغمۂ کشمیر‘‘ قابلِ ذکر ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے اردو قارئین کو وسط ایشیا کی تہذیب، شاعری اور فکری روایت سے روشناس کرایا۔

وفات: قمر رئیس کا انتقال 29 اپریل 2009ء کو دہلی میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے