- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
قدرت اللہ شہاب کا تعارف
تخلص : 'شہاب'
اصلی نام : قدرت اللہ شہاب
پیدائش : 26 Feb 1917
وفات : 24 Jul 1986
پاکستان کے نامور سول سرونٹ اور اردو ادیب قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917ء کو گلگت میں پیدا ہوئے تھے۔ 1941ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کرنے کے بعد وہ انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ ابتدا میں انہوں نے بہار، اڑیسہ اور بنگال میں خدمات انجام دیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ متعدد اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہے جن میں حکومت آزاد کشمیرکے سیکریٹری جنرل، وفاقی سیکریٹری وزارت اطلاعات، ڈپٹی کمشنر جھنگ، ڈائریکٹر انڈسٹریز حکومت پنجاب اور گورنر جنرل غلام محمد، اسکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے پرائیویٹ سیکریٹری، سیکریٹری اطلاعات، ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور سیکریٹری تعلیم کے مناصب شامل تھے۔ یحییٰ خان کے دور حکومت میں وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو سے وابستہ ہوگئے۔ اس زمانے میں انہوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی شرانگیزیوں کا جائزہ لینے کے لئے ان علاقوں کا خفیہ دورہ کیا اور اسرائیل کی زیادتیوں کا پردہ چاک کیا۔ شہاب صاحب کی اس خدمات کی بدولت مقبوضہ عرب علاقوں میں یونیسکو کا منظور شدہ نصاب رائج ہوگیا جو فلسطینی مسلمانوں کی ایک عظیم خدمت تھی۔
قدرت اللہ شہاب کا ایک اہم کارنامہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل تھا۔ وہ خود بھی اردو کے ایک اچھے ادیب تھے ان کی تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماںجی اور سرخ فیتہ کے علاوہ ان کی خودنوشت سوانح عمری شہاب نامہ شامل ہے۔
٭24 جولائی 1986ء کو قدرت اللہ شہاب اسلام آباد میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئےموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
