Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rafaqat Ali Shahid's Photo'

رفاقت علی شاہد

1966 | لاہور, پاکستان

استاد، مصنف اور محقق ہیں، نادر و گم شدہ ادبی متون کی بازیافت میں نمایاں کام کیا

استاد، مصنف اور محقق ہیں، نادر و گم شدہ ادبی متون کی بازیافت میں نمایاں کام کیا

رفاقت علی شاہد کا تعارف

اصلی نام : رفاقت علی شاہد

پیدائش : 10 Jun 1966 | لاہور, پنجاب

ڈاکٹر رفاقت علی شاہد اردو کے ممتاز استاد، محقق اور مصنف ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی دلچسپیوں کا دائرہ اردو کلاسیکی ادب، شاعری، تنقید، ادبی تاریخ اور خصوصاً انیسویں صدی کے اردو رسائل و جرائد تک پھیلا ہوا ہے۔ اردو کلاسیکی متون اور قدیم ادبی ذخیرے پر ان کی گہری نظر ہے اور ان کے متعدد تحقیقی مقالات اور تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع بھی انیسویں صدی کے اردو رسائل و جرائد سے متعلق تھا۔

ڈاکٹر رفاقت علی شاہد نے پی ایچ ڈی، ایم فل، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر اردو زبان و ادب کے تدریسی فرائض انجام دیے ہیں۔ وہ لاہور گیریژن یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر اور شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے تدریس کے ساتھ نصاب سازی کی ذمہ داریاں بھی ادا کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد کی اہم علمی خدمات میں اردو ادب کے متعدد گم شدہ، نایاب اور کم معروف متون کی بازیافت اور تعارف شامل ہے۔ ان کی تحقیقی کاوشوں کے نتیجے میں سید محمد حسین جاہ کے معروف اردو رزمیہ داستانی سلسلے طلسمِ ہوش ربا کی گم شدہ پانچویں جلد، جو پہلی مرتبہ انیسویں صدی کی آخری دہائی میں شائع ہوئی تھی، منظر عام پر آئی۔ اسی طرح اٹھارہویں صدی کی نایاب داستان قصۂ نو رتنِ جہاں، داستانِ امیر حمزہ کی ایک نادر جلد داستانِ انوارالشمسین، غالب کے معروف شاگرد قربان علی بیگ سالک دہلوی کی کلاسیکی نثر میں لکھی ہوئی طبی کتاب کارنامۂ عشرت اور عبدالحمید شرر کا لکھنؤ سے شائع ہونے والا سماجی ماہنامہ اتحاد بھی ان کی تحقیقی دریافتوں میں شامل ہیں۔

اردو کے قدیم اور نادر ادبی سرمائے کی تلاش، تحقیق، تدوین اور تعارف کے حوالے سے ڈاکٹر رفاقت علی شاہد کی خدمات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے کئی دیگر تحقیقی منصوبے بھی تکمیل کے مختلف مراحل میں رہے ہیں، جن کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے