- کتاب فہرست 177168
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2683 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5836-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4851
- مرثیہ386
- مثنوی749
- مسدس42
- نعت579
- نظم1191
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
رشید اختر ندوی کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، مؤرخ، صحافی اور مترجم
رشید اختر ندوی 13 جنوری 1918ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی، پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا اور وہاں سے سندِ فضیلت حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیا اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے صحافت کو اپنا میدان بنایا اور دہلی، لاہور اور پشاور کے متعدد روزناموں میں نیوز ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1973ء میں ادارہ معارف ملی (اسلام آباد) کے سکریٹری مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔
رشید اختر ندوی ایک ہمہ گیر ادبی شخصیت تھے۔ وہ بیک وقت مؤرخ، صحافی، مترجم اور ناول نگار تھے۔ ترجمہ نگاری میں ان کا بڑا کارنامہ تزک بابری اور ہمایوں نامہ کو فارسی سے اردو میں منتقل کرنا ہے۔ تاریخ نگاری میں انہیں سوانحی تاریخ سے خاص شغف تھا، جس کی جھلک ان کی تصانیف محمد رسول اللہ (بعد ازاں نظرِ ثانی کے بعد محمد سرور دو عالم)، خلافتِ راشدہ، عمر بن عبدالعزیز، صلاح الدین ایوبی اور اورنگزیب وغیرہ میں نمایاں ہے۔
ادب کے میدان میں رشید اختر ندوی نے ناول نگاری کو نئی جہت دی۔ انہوں نے تقریباً دو درجن کے قریب تاریخی، معاشرتی، نفسیاتی اور رومانوی ناول تحریر کیے، جن میں ساز شکستہ، سوز دروں، سودائی، نسرین اور تشنگی خاص طور پر مقبول ہوئے۔ ان کے ناولوں کی نمایاں خصوصیت سادہ، رواں اور دل نشین زبان، جاندار کردار نگاری، مؤثر مکالمہ اور انسانی نفسیات کی گہری عکاسی ہے۔ ان کے یہاں رنج و الم، سماجی تضادات اور انسانی کشمکش نہایت شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
وفات: 21 جولائی 1992ء کو مری (پاکستان) میں انتقال ہوا اور اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88245818
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
