Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rasheed Akhtar Nadvi's Photo'

رشید اختر ندوی

1918 - 1992 | اسلام آباد, پاکستان

مقبول ناول نگار، صحافی اور مترجم

مقبول ناول نگار، صحافی اور مترجم

رشید اختر ندوی کا تعارف

تخلص : 'رشید اختر ندوی'

اصلی نام : رشید اختر

پیدائش : 13 Jan 1918 | دلی

وفات : 21 Jul 1992 | مری, پنجاب

LCCN :n88245818

شناخت: مقبول ناول نگار، مؤرخ، صحافی اور مترجم

رشید اختر ندوی 13 جنوری 1918ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی، پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا اور وہاں سے سندِ فضیلت حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیا اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے صحافت کو اپنا میدان بنایا اور دہلی، لاہور اور پشاور کے متعدد روزناموں میں نیوز ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1973ء میں ادارہ معارف ملی (اسلام آباد) کے سکریٹری مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔

رشید اختر ندوی ایک ہمہ گیر ادبی شخصیت تھے۔ وہ بیک وقت مؤرخ، صحافی، مترجم اور ناول نگار تھے۔ ترجمہ نگاری میں ان کا بڑا کارنامہ تزک بابری اور ہمایوں نامہ کو فارسی سے اردو میں منتقل کرنا ہے۔ تاریخ نگاری میں انہیں سوانحی تاریخ سے خاص شغف تھا، جس کی جھلک ان کی تصانیف محمد رسول اللہ (بعد ازاں نظرِ ثانی کے بعد محمد سرور دو عالم)، خلافتِ راشدہ، عمر بن عبدالعزیز، صلاح الدین ایوبی اور اورنگزیب وغیرہ میں نمایاں ہے۔

ادب کے میدان میں رشید اختر ندوی نے ناول نگاری کو نئی جہت دی۔ انہوں نے تقریباً دو درجن کے قریب تاریخی، معاشرتی، نفسیاتی اور رومانوی ناول تحریر کیے، جن میں ساز شکستہ، سوز دروں، سودائی، نسرین اور تشنگی خاص طور پر مقبول ہوئے۔ ان کے ناولوں کی نمایاں خصوصیت سادہ، رواں اور دل نشین زبان، جاندار کردار نگاری، مؤثر مکالمہ اور انسانی نفسیات کی گہری عکاسی ہے۔ ان کے یہاں رنج و الم، سماجی تضادات اور انسانی کشمکش نہایت شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

وفات: 21 جولائی 1992ء کو مری (پاکستان) میں انتقال ہوا اور اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

Recitation

بولیے