- کتاب فہرست 180767
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3352طنز و مزاح603 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط725 طرز زندگی30 طب975 تحریکات268 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4779 تحقیق و تنقید6708افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4886
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
رشید اختر ندوی کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، مؤرخ، صحافی اور مترجم
رشید اختر ندوی 13 جنوری 1918ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی، پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا اور وہاں سے سندِ فضیلت حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیا اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے صحافت کو اپنا میدان بنایا اور دہلی، لاہور اور پشاور کے متعدد روزناموں میں نیوز ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1973ء میں ادارہ معارف ملی (اسلام آباد) کے سکریٹری مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔
رشید اختر ندوی ایک ہمہ گیر ادبی شخصیت تھے۔ وہ بیک وقت مؤرخ، صحافی، مترجم اور ناول نگار تھے۔ ترجمہ نگاری میں ان کا بڑا کارنامہ تزک بابری اور ہمایوں نامہ کو فارسی سے اردو میں منتقل کرنا ہے۔ تاریخ نگاری میں انہیں سوانحی تاریخ سے خاص شغف تھا، جس کی جھلک ان کی تصانیف محمد رسول اللہ (بعد ازاں نظرِ ثانی کے بعد محمد سرور دو عالم)، خلافتِ راشدہ، عمر بن عبدالعزیز، صلاح الدین ایوبی اور اورنگزیب وغیرہ میں نمایاں ہے۔
ادب کے میدان میں رشید اختر ندوی نے ناول نگاری کو نئی جہت دی۔ انہوں نے تقریباً دو درجن کے قریب تاریخی، معاشرتی، نفسیاتی اور رومانوی ناول تحریر کیے، جن میں ساز شکستہ، سوز دروں، سودائی، نسرین اور تشنگی خاص طور پر مقبول ہوئے۔ ان کے ناولوں کی نمایاں خصوصیت سادہ، رواں اور دل نشین زبان، جاندار کردار نگاری، مؤثر مکالمہ اور انسانی نفسیات کی گہری عکاسی ہے۔ ان کے یہاں رنج و الم، سماجی تضادات اور انسانی کشمکش نہایت شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
وفات: 21 جولائی 1992ء کو مری (پاکستان) میں انتقال ہوا اور اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88245818
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
