- کتاب فہرست 179358
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت203 زبان و ادب1732 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4317 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6657افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
رشید حسن خاں کا تعارف
اصلی نام : رشید حسن
پیدائش : 25 Dec 1925 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
وفات : 26 Feb 2006 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
LCCN :n88293864
شناخت: محقق، مدوّن، ناقد، ماہرِ املا، زبان و قواعد کے رہنما
رشید حسن خان 25 دسمبر 1925ء کو شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام امیر حسن اور دادا کا نام علی حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بحرالعلوم سے حاصل کرنے کے بعد اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1944ء میں کیا۔
رشید حسن خاں اُردو زبان و ادب کی اُن قدآور اور نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے خاموشی، استقلال اور بے لوث محنت کے ذریعے اُردو تحقیق، تدوین، املا اور تنقید کو ایک مضبوط اور معیاری بنیاد فراہم کی۔ رسمی اسکول و کالج کی تعلیم کے بغیر، صرف مشرقی علوم اور ذاتی مطالعے کے سہارے انھوں نے اُردو ادب میں وہ مقام حاصل کیا جو صدیوں میں کسی ایک کو نصیب ہوتا ہے۔
انھوں نے عملی زندگی کا آغاز شاہ جہاں پور کی آرڈیننس کلاتھنگ فیکٹری سے کیا، مگر اسی دوران ان کے اندر علمی و ادبی ذوق پروان چڑھا۔ کثرتِ مطالعہ کے نتیجے میں محض پچیس برس کی عمر میں ان کا پہلا تحقیقی مضمون شائع ہوا، اور یوں اُردو دنیا میں ان کی سنجیدہ علمی شناخت قائم ہوئی۔
رشید حسن خاں کو خاص طور پر اُردو املا، زبان، بیان اور قواعد کے باب میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی تصنیفات ’’اُردو املا‘‘ اور ’’زبان اور قواعد‘‘ کو اس میدان میں بنیادی اور مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی املائی سفارشات کو ہندوستان و پاکستان کے بڑے اشاعتی اداروں، اکادمیوں اور ادبی انجمنوں نے قبول کیا اور آج بھی ان پر عمل کیا جا رہا ہے۔
وہ ایک بے لاگ ناقد تھے۔ شعرا، ادبا اور ادبی تحریکات کے حوالے سے ان کے تبصرے زبان و اسلوب کی کسوٹی پر پرکھے گئے معیاری نمونے ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی متون کی تدوین کے ذریعے اُردو ادب کے قیمتی سرمایے کو محفوظ اور مستند شکل میں پیش کیا۔ باغ و بہار، فسانۂ عجایب، مثنوی سحرالبیان، گلزارِ نسیم، دیوانِ حالی اور دیگر کلاسیکی متون کی تدوین ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔
وفات: رشید حسن خان کا انتقال 2006ء میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D9%86
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88293864
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
