- کتاب فہرست 188948
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1792 صحت109 تاریخ3626طنز و مزاح754 صحافت220 زبان و ادب1974 خطوط824
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات298 ناول5056 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7443افسانہ3031 خاکے/ قلمی چہرے290 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب566 ترجمہ4621خواتین کی تحریریں6303-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1413
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات694
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1324
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
رشید حسن خاں کا تعارف
اصلی نام : رشید حسن
پیدائش : 25 Dec 1925 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
وفات : 26 Feb 2006 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
LCCN :n88293864
شناخت: محقق، مدوّن، ناقد، ماہرِ املا، زبان و قواعد کے رہنما
رشید حسن خان 25 دسمبر 1925ء کو شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام امیر حسن اور دادا کا نام علی حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بحرالعلوم سے حاصل کرنے کے بعد اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1944ء میں کیا۔
رشید حسن خاں اُردو زبان و ادب کی اُن قدآور اور نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے خاموشی، استقلال اور بے لوث محنت کے ذریعے اُردو تحقیق، تدوین، املا اور تنقید کو ایک مضبوط اور معیاری بنیاد فراہم کی۔ رسمی اسکول و کالج کی تعلیم کے بغیر، صرف مشرقی علوم اور ذاتی مطالعے کے سہارے انھوں نے اُردو ادب میں وہ مقام حاصل کیا جو صدیوں میں کسی ایک کو نصیب ہوتا ہے۔
انھوں نے عملی زندگی کا آغاز شاہ جہاں پور کی آرڈیننس کلاتھنگ فیکٹری سے کیا، مگر اسی دوران ان کے اندر علمی و ادبی ذوق پروان چڑھا۔ کثرتِ مطالعہ کے نتیجے میں محض پچیس برس کی عمر میں ان کا پہلا تحقیقی مضمون شائع ہوا، اور یوں اُردو دنیا میں ان کی سنجیدہ علمی شناخت قائم ہوئی۔
رشید حسن خاں کو خاص طور پر اُردو املا، زبان، بیان اور قواعد کے باب میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی تصنیفات ’’اُردو املا‘‘ اور ’’زبان اور قواعد‘‘ کو اس میدان میں بنیادی اور مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی املائی سفارشات کو ہندوستان و پاکستان کے بڑے اشاعتی اداروں، اکادمیوں اور ادبی انجمنوں نے قبول کیا اور آج بھی ان پر عمل کیا جا رہا ہے۔
وہ ایک بے لاگ ناقد تھے۔ شعرا، ادبا اور ادبی تحریکات کے حوالے سے ان کے تبصرے زبان و اسلوب کی کسوٹی پر پرکھے گئے معیاری نمونے ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی متون کی تدوین کے ذریعے اُردو ادب کے قیمتی سرمایے کو محفوظ اور مستند شکل میں پیش کیا۔ باغ و بہار، فسانۂ عجایب، مثنوی سحرالبیان، گلزارِ نسیم، دیوانِ حالی اور دیگر کلاسیکی متون کی تدوین ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔
وفات: رشید حسن خان کا انتقال 2006ء میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D9%86
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88293864
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
-
