- کتاب فہرست 181556
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4297 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
رشید حسن خاں کا تعارف
اصلی نام : رشید حسن
پیدائش : 25 Dec 1925 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
وفات : 26 Feb 2006 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
LCCN :n88293864
شناخت: محقق، مدوّن، ناقد، ماہرِ املا، زبان و قواعد کے رہنما
رشید حسن خان 25 دسمبر 1925ء کو شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام امیر حسن اور دادا کا نام علی حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بحرالعلوم سے حاصل کرنے کے بعد اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1944ء میں کیا۔
رشید حسن خاں اُردو زبان و ادب کی اُن قدآور اور نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے خاموشی، استقلال اور بے لوث محنت کے ذریعے اُردو تحقیق، تدوین، املا اور تنقید کو ایک مضبوط اور معیاری بنیاد فراہم کی۔ رسمی اسکول و کالج کی تعلیم کے بغیر، صرف مشرقی علوم اور ذاتی مطالعے کے سہارے انھوں نے اُردو ادب میں وہ مقام حاصل کیا جو صدیوں میں کسی ایک کو نصیب ہوتا ہے۔
انھوں نے عملی زندگی کا آغاز شاہ جہاں پور کی آرڈیننس کلاتھنگ فیکٹری سے کیا، مگر اسی دوران ان کے اندر علمی و ادبی ذوق پروان چڑھا۔ کثرتِ مطالعہ کے نتیجے میں محض پچیس برس کی عمر میں ان کا پہلا تحقیقی مضمون شائع ہوا، اور یوں اُردو دنیا میں ان کی سنجیدہ علمی شناخت قائم ہوئی۔
رشید حسن خاں کو خاص طور پر اُردو املا، زبان، بیان اور قواعد کے باب میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی تصنیفات ’’اُردو املا‘‘ اور ’’زبان اور قواعد‘‘ کو اس میدان میں بنیادی اور مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی املائی سفارشات کو ہندوستان و پاکستان کے بڑے اشاعتی اداروں، اکادمیوں اور ادبی انجمنوں نے قبول کیا اور آج بھی ان پر عمل کیا جا رہا ہے۔
وہ ایک بے لاگ ناقد تھے۔ شعرا، ادبا اور ادبی تحریکات کے حوالے سے ان کے تبصرے زبان و اسلوب کی کسوٹی پر پرکھے گئے معیاری نمونے ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی متون کی تدوین کے ذریعے اُردو ادب کے قیمتی سرمایے کو محفوظ اور مستند شکل میں پیش کیا۔ باغ و بہار، فسانۂ عجایب، مثنوی سحرالبیان، گلزارِ نسیم، دیوانِ حالی اور دیگر کلاسیکی متون کی تدوین ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔
وفات: رشید حسن خان کا انتقال 2006ء میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D9%86
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88293864
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
