- کتاب فہرست 180730
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6692افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4189-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد60
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4875
- مرثیہ386
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت591
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
رشید حسن خاں کا تعارف
اصلی نام : رشید حسن
پیدائش : 25 Dec 1925 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
وفات : 26 Feb 2006 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
LCCN :n88293864
شناخت: محقق، مدوّن، ناقد، ماہرِ املا، زبان و قواعد کے رہنما
رشید حسن خان 25 دسمبر 1925ء کو شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام امیر حسن اور دادا کا نام علی حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بحرالعلوم سے حاصل کرنے کے بعد اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1944ء میں کیا۔
رشید حسن خاں اُردو زبان و ادب کی اُن قدآور اور نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے خاموشی، استقلال اور بے لوث محنت کے ذریعے اُردو تحقیق، تدوین، املا اور تنقید کو ایک مضبوط اور معیاری بنیاد فراہم کی۔ رسمی اسکول و کالج کی تعلیم کے بغیر، صرف مشرقی علوم اور ذاتی مطالعے کے سہارے انھوں نے اُردو ادب میں وہ مقام حاصل کیا جو صدیوں میں کسی ایک کو نصیب ہوتا ہے۔
انھوں نے عملی زندگی کا آغاز شاہ جہاں پور کی آرڈیننس کلاتھنگ فیکٹری سے کیا، مگر اسی دوران ان کے اندر علمی و ادبی ذوق پروان چڑھا۔ کثرتِ مطالعہ کے نتیجے میں محض پچیس برس کی عمر میں ان کا پہلا تحقیقی مضمون شائع ہوا، اور یوں اُردو دنیا میں ان کی سنجیدہ علمی شناخت قائم ہوئی۔
رشید حسن خاں کو خاص طور پر اُردو املا، زبان، بیان اور قواعد کے باب میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی تصنیفات ’’اُردو املا‘‘ اور ’’زبان اور قواعد‘‘ کو اس میدان میں بنیادی اور مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی املائی سفارشات کو ہندوستان و پاکستان کے بڑے اشاعتی اداروں، اکادمیوں اور ادبی انجمنوں نے قبول کیا اور آج بھی ان پر عمل کیا جا رہا ہے۔
وہ ایک بے لاگ ناقد تھے۔ شعرا، ادبا اور ادبی تحریکات کے حوالے سے ان کے تبصرے زبان و اسلوب کی کسوٹی پر پرکھے گئے معیاری نمونے ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی متون کی تدوین کے ذریعے اُردو ادب کے قیمتی سرمایے کو محفوظ اور مستند شکل میں پیش کیا۔ باغ و بہار، فسانۂ عجایب، مثنوی سحرالبیان، گلزارِ نسیم، دیوانِ حالی اور دیگر کلاسیکی متون کی تدوین ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔
وفات: رشید حسن خان کا انتقال 2006ء میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D9%86
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88293864
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
