- کتاب فہرست 180352
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ913 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1565 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح596 صحافت200 زبان و ادب1682 خطوط730
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6487افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب426 ترجمہ4207خواتین کی تحریریں5760-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1569
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1202
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
رشید حسن خاں کا تعارف
اصلی نام : رشید حسن
پیدائش : 25 Dec 1925 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
وفات : 26 Feb 2006 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
LCCN :n88293864
شناخت: محقق، مدوّن، ناقد، ماہرِ املا، زبان و قواعد کے رہنما
رشید حسن خان 25 دسمبر 1925ء کو شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام امیر حسن اور دادا کا نام علی حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بحرالعلوم سے حاصل کرنے کے بعد اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1944ء میں کیا۔
رشید حسن خاں اُردو زبان و ادب کی اُن قدآور اور نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے خاموشی، استقلال اور بے لوث محنت کے ذریعے اُردو تحقیق، تدوین، املا اور تنقید کو ایک مضبوط اور معیاری بنیاد فراہم کی۔ رسمی اسکول و کالج کی تعلیم کے بغیر، صرف مشرقی علوم اور ذاتی مطالعے کے سہارے انھوں نے اُردو ادب میں وہ مقام حاصل کیا جو صدیوں میں کسی ایک کو نصیب ہوتا ہے۔
انھوں نے عملی زندگی کا آغاز شاہ جہاں پور کی آرڈیننس کلاتھنگ فیکٹری سے کیا، مگر اسی دوران ان کے اندر علمی و ادبی ذوق پروان چڑھا۔ کثرتِ مطالعہ کے نتیجے میں محض پچیس برس کی عمر میں ان کا پہلا تحقیقی مضمون شائع ہوا، اور یوں اُردو دنیا میں ان کی سنجیدہ علمی شناخت قائم ہوئی۔
رشید حسن خاں کو خاص طور پر اُردو املا، زبان، بیان اور قواعد کے باب میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی تصنیفات ’’اُردو املا‘‘ اور ’’زبان اور قواعد‘‘ کو اس میدان میں بنیادی اور مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی املائی سفارشات کو ہندوستان و پاکستان کے بڑے اشاعتی اداروں، اکادمیوں اور ادبی انجمنوں نے قبول کیا اور آج بھی ان پر عمل کیا جا رہا ہے۔
وہ ایک بے لاگ ناقد تھے۔ شعرا، ادبا اور ادبی تحریکات کے حوالے سے ان کے تبصرے زبان و اسلوب کی کسوٹی پر پرکھے گئے معیاری نمونے ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی متون کی تدوین کے ذریعے اُردو ادب کے قیمتی سرمایے کو محفوظ اور مستند شکل میں پیش کیا۔ باغ و بہار، فسانۂ عجایب، مثنوی سحرالبیان، گلزارِ نسیم، دیوانِ حالی اور دیگر کلاسیکی متون کی تدوین ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔
وفات: رشید حسن خان کا انتقال 2006ء میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF_%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%AE%D8%A7%D9%86
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88293864
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
