- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
رتن سنگھ کا تعارف
وفات : 01 May 2021
LCCN :n85211961
ترقی پسند دور کے آخری چراغ رتن سنگھ کا گزشتہ سال مارچ ۲۰۲۱ میں قریب ۹۵ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ اس طرح انہوں نے حیققت پسندی، ترقی پسندی اور جدیدیت تینوں ادوار کو دیکھا، پرکھا اور محسوس کیا۔ یوں تو رتن سنگھ اپنے افسانوں کی وجہ سے اردو ادب میں خوب جانے پہچانے جاتے ہیں، تاہم ناول نگاری اور سوانح نگاری کے شعبہ میں ان کا بڑا نام ہے۔ ''سانسوں کا سنگیت" ان کا بہترین ناول ہے جبکہ ''دربدری" سوانح پر مبنی ناول ہے۔ بچوں کے ادب سے ان کا بڑا گہرا ربط رہا اور بچوں کے لئے متعدد کہانیاں بھی لکھیں۔ ''صبح کی پری" بچوں کے لئے لکھا گیا ناولٹ ہے، اسی طرح ''کاٹھ کا گھوڑا" ادب اطفال کے تحت افسانوں کا مجموعہ ۱۹۱۳ میں شائع ہوا۔ ''پنجرے کا آدمی" ۱۹۷۳ میں، ''مانک موتی" ۱۰۹۰ میں، اور ''پناہ گاہ" ۲۰۰۰ میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ترجموں پر مبنی ان کی متعدد تصانیف ہیں۔ انہوں نے ایک جانب گرو گرنتھ کا ترجمہ اردو میں کیا تو دوسری جانب ''شلوک شیخ بابا فرید" کا ترجمہ کرکے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ شاعری سے رغبت کا اظہار ''روپ انوپ" دوہوں کے مجموعے کی شکل میں موجود ہے۔ رتن سنگھ کی پیدائش ۱۵ نومبر ۱۹۲۷ کو قصبہ داؤد، تحصیل نارودال ضلع سیالکوٹ میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم قصبہ داؤد ہی میں حاصل کی۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداس پور سے ۱۹۴۵ میں پاس کیا۔ انٹر پنجاب ایجوکیشن بورڈ سے اور بی اے لکھنؤ یونیورسٹی سے ۱۹۶۰ میں کیا۔ دوران طالب علمی ۱۹۴۶ سے ۶۲ تک انڈین ریلوے کی ملازمت کی اور تعلیم کے حصول کے بعد ۱۹۶۲ سے ۱۹۸۵ تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے، سری نگر ریڈیو اسٹیشن میں ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n85211961
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
