- کتاب فہرست 187953
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں55
ادب اطفال2070
ڈرامہ1025 تعلیم377 مضامين و خاكه1518 قصہ / داستان1720 صحت107 تاریخ3564طنز و مزاح747 صحافت215 زبان و ادب1973 خطوط813
طرز زندگی24 طب1031 تحریکات300 ناول5019 سیاسی370 مذہبیات4874 تحقیق و تنقید7319افسانہ3047 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل118 تصوف2279نصابی کتاب567 ترجمہ4567خواتین کی تحریریں6352-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار69
- دیوان1493
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح209
- گیت63
- غزل1323
- ہائیکو12
- حمد53
- مزاحیہ37
- انتخاب1653
- کہہ مکرنی7
- کلیات714
- ماہیہ21
- مجموعہ5325
- مرثیہ400
- مثنوی881
- مسدس60
- نعت599
- نظم1314
- دیگر78
- پہیلی16
- قصیدہ200
- قوالی18
- قطعہ71
- رباعی306
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا10
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
رتن سنگھ کا تعارف
وفات : 01 May 2021
LCCN :n85211961
ترقی پسند دور کے آخری چراغ رتن سنگھ کا گزشتہ سال مارچ ۲۰۲۱ میں قریب ۹۵ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ اس طرح انہوں نے حیققت پسندی، ترقی پسندی اور جدیدیت تینوں ادوار کو دیکھا، پرکھا اور محسوس کیا۔ یوں تو رتن سنگھ اپنے افسانوں کی وجہ سے اردو ادب میں خوب جانے پہچانے جاتے ہیں، تاہم ناول نگاری اور سوانح نگاری کے شعبہ میں ان کا بڑا نام ہے۔ ''سانسوں کا سنگیت" ان کا بہترین ناول ہے جبکہ ''دربدری" سوانح پر مبنی ناول ہے۔ بچوں کے ادب سے ان کا بڑا گہرا ربط رہا اور بچوں کے لئے متعدد کہانیاں بھی لکھیں۔ ''صبح کی پری" بچوں کے لئے لکھا گیا ناولٹ ہے، اسی طرح ''کاٹھ کا گھوڑا" ادب اطفال کے تحت افسانوں کا مجموعہ ۱۹۱۳ میں شائع ہوا۔ ''پنجرے کا آدمی" ۱۹۷۳ میں، ''مانک موتی" ۱۰۹۰ میں، اور ''پناہ گاہ" ۲۰۰۰ میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ترجموں پر مبنی ان کی متعدد تصانیف ہیں۔ انہوں نے ایک جانب گرو گرنتھ کا ترجمہ اردو میں کیا تو دوسری جانب ''شلوک شیخ بابا فرید" کا ترجمہ کرکے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ شاعری سے رغبت کا اظہار ''روپ انوپ" دوہوں کے مجموعے کی شکل میں موجود ہے۔ رتن سنگھ کی پیدائش ۱۵ نومبر ۱۹۲۷ کو قصبہ داؤد، تحصیل نارودال ضلع سیالکوٹ میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم قصبہ داؤد ہی میں حاصل کی۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداس پور سے ۱۹۴۵ میں پاس کیا۔ انٹر پنجاب ایجوکیشن بورڈ سے اور بی اے لکھنؤ یونیورسٹی سے ۱۹۶۰ میں کیا۔ دوران طالب علمی ۱۹۴۶ سے ۶۲ تک انڈین ریلوے کی ملازمت کی اور تعلیم کے حصول کے بعد ۱۹۶۲ سے ۱۹۸۵ تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے، سری نگر ریڈیو اسٹیشن میں ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n85211961
join rekhta family!
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
-
کارگزاریاں55
ادب اطفال2070
-
