- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
ڈرامہ915 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3280طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1691 خطوط733
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6503افسانہ2662 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب433 ترجمہ4211خواتین کی تحریریں5765-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1572
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1205
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
رتن سنگھ کے ذریعے کیے گئے تراجم
شاہ کی کنجری
امرتا پریتم
اب اسے کوئی نیلم کہہ کر نہیں بلاتا تھا۔ سب شاہ کی کنجری کہتے تھے۔ نیلم پر لاہور ہیرامنڈی کے ایک چوبارے میں جوانی آئی تھی اور وہیں ایک ریاست کے سردار نے پورے پانچ ہزار روپے دے کر اس کی نتھ اتاری تھی اور وہیں پر اس کے حسن نے آگ بن کر سارے شہر کو جلاکر
۱۰ بائی ۷ کا کمرہ
کرتار سنگھ دگل
’’یہ کمرہ۱۰x۷ کا ہونا چاہیے۔‘‘ تپائی پر کھلے ہوئے نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسز ملک نے پھر کہا۔ یہ تجویز انہوں نے تیسری بار دی تھی۔ لیکن پتہ نہیں کیسے نہ ان کے شوہر اور نہ ہی ان کے آرکیٹکٹ نے ان کی بات کی طرف کوئی دھیان دیا۔ مسز ملک اپنا مکان بنوا
سردارنی
دیوان بوٹا سنگھ
حویلی گاؤں کے بیچ و بیچ اور چوراہے والے اس بڑے کنویں کے نزدیک تھی جہاں سے سارا گاؤں پانی بھرنے آتا تھا۔ کنویں سے تھوڑا ہٹ کر بڑا سا پیپل تھا، جسے گاؤں کے لوگ براہمنوں کا پیپل کہتے تھے۔ یہ کنواں اور پیپل بھی گاؤں کی شان تھے۔ کوئی وقت تھا جو حویلی زیلداروں
ڈر
رام سروپ انکھی
جب کبھی وہ ’’گدھے‘‘ کو چھاتی سے لگاکر، باہوں میں بھر کر دباتی یا اس کا منہ چوم لیتی تو ’’گدھے‘‘ کو بخار چڑھ جاتا، ٹٹیاں لگ جاتیں اور وہ الٹیاں کرنے لگتا۔ وہ روٹی کی طرف منہ اٹھاکر نہ دیکھتا، بیمار پڑجاتا۔ اس کی ساس سر پیٹ لیتی، ’’تمہیں کئی بار کہا ہے،
دودھ کا جوہڑ
کلونت سنگھ ورک
چاچے تائے کے بیٹے ہونے کی وجہ سے لال اور دیال کا آپس میں بڑا پیار تھا۔ ان کی کھیتی بھی اکٹھی تھی۔ گاؤں کے ماحول میں ایسے اکٹھ کابڑا رعب پڑتا ہے۔ دوسگے بھائیوں کی بجائے اگر دو چاچے تائے کے بیٹے مل کر چلتے ہوں، تو ان کو اور بھی بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
راس لیلا
سجان سنگھ
میں تب کوئی نو دس سال کا رہا ہوں گا۔ جس کوٹھی میں ہم رہتے تھے۔ اس میں تین پریواروں کے رہنے کے لیے کھلی جگہ تھی۔ ایک حصے میں ہم رہتے تھے اور دوسرے میں امرتسر کے مشہور ٹھیکیدار سردار، تیسرا بھی ایک ہندو بیوپاری تھا اور اس کی عمر میرے اب کے اندازے کے مطابق
انوکھ سنگھ کی بیوی
سنت سنگھ
اگر کبھی آج کل لاہور جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو وہاں کے اسٹیشن کے سیکنڈ کلاس ٹکٹ گھر کی ڈیوڑھی پر منڈراتا انوکھ سنگھ ملےگا۔ گھبرایا اور پگلایا سا، آنکھوں میں ایک پتھر ہو رہی نظر، سفید داڑھی، جسے دیکھ کر یہ صاف پتہ چلےگا کہ کبھی یہ کالی کی جاتی رہی ہے۔
پنکھی
سنتوکھ سنگھ دھیر
وہ پانچ تھے کل ملاکر۔ اے کے سینتالیس اسالٹ بندوقوں سے لیس۔ شام کے چار بجے تھے جب وہ قصبے سے ذرا سا دور، چودھریوں کے پولٹری فارم پر آئے۔ چودھری بہت بڑے آدمی تھے۔ اپنے علاقے میں وہ ساہوکار کے نام سے مشہور تھے۔ خاندانی ساہوکار۔ سو سال ہوئے جب ان کے بزرگ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
-
