- کتاب فہرست 177595
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6592افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5840-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4841
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
رتن سنگھ کے ذریعے کیے گئے تراجم
شاہ کی کنجری
امرتا پریتم
اب اسے کوئی نیلم کہہ کر نہیں بلاتا تھا۔ سب شاہ کی کنجری کہتے تھے۔ نیلم پر لاہور ہیرامنڈی کے ایک چوبارے میں جوانی آئی تھی اور وہیں ایک ریاست کے سردار نے پورے پانچ ہزار روپے دے کر اس کی نتھ اتاری تھی اور وہیں پر اس کے حسن نے آگ بن کر سارے شہر کو جلاکر
۱۰ بائی ۷ کا کمرہ
کرتار سنگھ دگل
’’یہ کمرہ۱۰x۷ کا ہونا چاہیے۔‘‘ تپائی پر کھلے ہوئے نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسز ملک نے پھر کہا۔ یہ تجویز انہوں نے تیسری بار دی تھی۔ لیکن پتہ نہیں کیسے نہ ان کے شوہر اور نہ ہی ان کے آرکیٹکٹ نے ان کی بات کی طرف کوئی دھیان دیا۔ مسز ملک اپنا مکان بنوا
سردارنی
دیوان بوٹا سنگھ
حویلی گاؤں کے بیچ و بیچ اور چوراہے والے اس بڑے کنویں کے نزدیک تھی جہاں سے سارا گاؤں پانی بھرنے آتا تھا۔ کنویں سے تھوڑا ہٹ کر بڑا سا پیپل تھا، جسے گاؤں کے لوگ براہمنوں کا پیپل کہتے تھے۔ یہ کنواں اور پیپل بھی گاؤں کی شان تھے۔ کوئی وقت تھا جو حویلی زیلداروں
ڈر
رام سروپ انکھی
جب کبھی وہ ’’گدھے‘‘ کو چھاتی سے لگاکر، باہوں میں بھر کر دباتی یا اس کا منہ چوم لیتی تو ’’گدھے‘‘ کو بخار چڑھ جاتا، ٹٹیاں لگ جاتیں اور وہ الٹیاں کرنے لگتا۔ وہ روٹی کی طرف منہ اٹھاکر نہ دیکھتا، بیمار پڑجاتا۔ اس کی ساس سر پیٹ لیتی، ’’تمہیں کئی بار کہا ہے،
دودھ کا جوہڑ
کلونت سنگھ ورک
چاچے تائے کے بیٹے ہونے کی وجہ سے لال اور دیال کا آپس میں بڑا پیار تھا۔ ان کی کھیتی بھی اکٹھی تھی۔ گاؤں کے ماحول میں ایسے اکٹھ کابڑا رعب پڑتا ہے۔ دوسگے بھائیوں کی بجائے اگر دو چاچے تائے کے بیٹے مل کر چلتے ہوں، تو ان کو اور بھی بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
راس لیلا
سجان سنگھ
میں تب کوئی نو دس سال کا رہا ہوں گا۔ جس کوٹھی میں ہم رہتے تھے۔ اس میں تین پریواروں کے رہنے کے لیے کھلی جگہ تھی۔ ایک حصے میں ہم رہتے تھے اور دوسرے میں امرتسر کے مشہور ٹھیکیدار سردار، تیسرا بھی ایک ہندو بیوپاری تھا اور اس کی عمر میرے اب کے اندازے کے مطابق
انوکھ سنگھ کی بیوی
سنت سنگھ
اگر کبھی آج کل لاہور جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو وہاں کے اسٹیشن کے سیکنڈ کلاس ٹکٹ گھر کی ڈیوڑھی پر منڈراتا انوکھ سنگھ ملےگا۔ گھبرایا اور پگلایا سا، آنکھوں میں ایک پتھر ہو رہی نظر، سفید داڑھی، جسے دیکھ کر یہ صاف پتہ چلےگا کہ کبھی یہ کالی کی جاتی رہی ہے۔
پنکھی
سنتوکھ سنگھ دھیر
وہ پانچ تھے کل ملاکر۔ اے کے سینتالیس اسالٹ بندوقوں سے لیس۔ شام کے چار بجے تھے جب وہ قصبے سے ذرا سا دور، چودھریوں کے پولٹری فارم پر آئے۔ چودھری بہت بڑے آدمی تھے۔ اپنے علاقے میں وہ ساہوکار کے نام سے مشہور تھے۔ خاندانی ساہوکار۔ سو سال ہوئے جب ان کے بزرگ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
