Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رؤف رحیم کے اشعار

162
Favorite

باعتبار

نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ملت کی آبرو کو ملاتا ہے خاک میں

لیڈر ہمارا کتنا بڑا خاکسار ہے

اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا

اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے

نہیں ہے بحر میں بے وزن ہے رحیمؔ مگر

ہماری شاعری سر میں ہے اور تال میں ہے

سارے احباب میں بد نام تمہیں کر دے گی

اپنے احوال پڑوسن سے چھپا کر رکھنا

چاند سورج زمیں سے اگتے ہیں

شاعری جب جدید ہوتی ہے

ہے بجٹ گھاٹے میں جرمانے ضروری ہیں یہاں

اس لیے سرکار میری لوٹ کر کھانے کو ہے

نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے

کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے

اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ

تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر

قائل ہیں ذائقے کے غرض کیا ہے رنگ سے

دستر پہ دیکھتے ہی نہیں ہم مٹن کا رنگ

سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ

گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ

جب سے رخصت ہوا شباب رحیمؔ

تب سے میں مائل خضاب ہوا

ملے گی سیٹ الیکشن میں آپ کو اک دن

اگر یہ چمچہ گری کامیاب ہو جائے

ہے حماقت رحیمؔ شادی بھی

اس سے مٹی پلید ہوتی ہے

دور تک نام کی تشہیر اگر ہے منظور

جاری تنقید ادیبوں پہ برابر رکھنا

کرو نہ اتنا تکبر جمال پر اپنے

ملو گی ہاتھ جو رخصت شباب ہو جائے

اسکول کی تعلیم نے گل ایسا کھلایا

اب آنکھیں دکھاتا ہے بھتیجا مرے آگے

غریبوں کا بہا کر خون ہمدردی جتاتے ہو

کھلونے ہاتھ میں دے دے کے بہلایا نہیں کرتے

بھروسے پر کسی لیڈر کے رہنا اک حماقت ہے

یہ سوکھے پیڑ ہیں یارو کبھی سایہ نہیں کرتے

حوروں پہ ہے نگاہ گو مرقد میں پاؤں ہیں

واعظ اخیر عمر میں کیا تیرا ڈھنگ ہے

ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر

نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر

ساری غزلیں سنا کے چھوڑا ہے

اس سے ملنا تو اک عذاب ہوا

خدا نخواستہ وہ بے نقاب ہو جائے

تو زندگانی ہماری عذاب ہو جائے

سوکھے پیڑوں کی طرح یہ لیڈر

ہم پہ سایہ ذرا نہیں کرتے

اب ترنم کی روایت بھی پرانی ہو گئی

ایک شاعر اپنی غزلیں ساز پر گانے کو ہے

Recitation

بولیے