رؤف رحیم کے اشعار
ملت کی آبرو کو ملاتا ہے خاک میں
لیڈر ہمارا کتنا بڑا خاکسار ہے
اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا
اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے
نہیں ہے بحر میں بے وزن ہے رحیمؔ مگر
ہماری شاعری سر میں ہے اور تال میں ہے
چاند سورج زمیں سے اگتے ہیں
شاعری جب جدید ہوتی ہے
ہے بجٹ گھاٹے میں جرمانے ضروری ہیں یہاں
اس لیے سرکار میری لوٹ کر کھانے کو ہے
نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے
کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے
اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ
تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر
قائل ہیں ذائقے کے غرض کیا ہے رنگ سے
دستر پہ دیکھتے ہی نہیں ہم مٹن کا رنگ
سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ
گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ
جب سے رخصت ہوا شباب رحیمؔ
تب سے میں مائل خضاب ہوا
ملے گی سیٹ الیکشن میں آپ کو اک دن
اگر یہ چمچہ گری کامیاب ہو جائے
کرو نہ اتنا تکبر جمال پر اپنے
ملو گی ہاتھ جو رخصت شباب ہو جائے
ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر
نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر