- کتاب فہرست 177272
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6602افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5833-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ریاض توحیدی کے افسانے
ماں
وہ اوندھے منہ زمین پر گر کر ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ جن بچوں کے ساتھ وہ کھیل کو د میں مشغول تھا وہ دوڑتے ہوئے اس کے گھر گئے اور اس کی ماں کو ساتھ لے آئے۔ ماں نے جب روتے روتے اپنے دوپٹے سے اس کے جھاگ بھرے منھ کو صاف کیا تو وہ تھوڑی دیر بعد پھر سے اپنے حواس
کالے پیڑوں کا جنگل
سورج ڈوبتے ہی بستی کے اندر کالے پیڑوں کا جنگل نمودار ہو جاتا تھا۔ ان کالے پیڑوں کی آدمی خور شاخیں، آدم زاد کے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہی آگ کے شعلے بر سانا شروع کر دیتی تھیں اور جب اندھیری رات کا بھیانک سایہ بستی کے طول و عرض میں پھیل جاتا تو زندہ انسانوں
زہریلے ناخدا
اس کی جوانی۔۔۔ زندگی اور موت کی آخری کشمکش میں مبتلا تھی۔ اسپتال میں خود کو پاکر اسے یک گونہ سکون محسوس ہوا لیکن جسم میں پھیل رہے زہر کو وہ کیسے روک پاتی۔ وہ حادثات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی وجہ سے آج وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ وہ ایک
مینٹل ہاسپٹل
آوارہ کتوں کی ہڑبونگ نے بستی میں دہشت پھیلا رکھی تھی۔ یہ کتے کسی بھی گلی، کسی بھی راستے پر بلاخوف انسانوں پر حملہ کر دیتے۔ دوسرے تیسرے روز کوئی نہ کوئی آدمی ان کی کاٹ سے ضرور زخمی ہو جاتا تھا۔ بچوں کی نفسیات آوارہ کتوں کے خوف سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو
ٹوٹتی جوانیاں
پبلک سروس کمیشن کی طرف سے سلیکشن لسٹ، جو ایک مقامی نیوز پیپر میں مشتہر ہو اتھا، میں اپنا نام دیکھ کر میں بے حد خوش ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد میری پوسٹنگ شہر سے باہر وادی کے ایک دور افتادہ علاقے گلشن آباد کی گئی۔ ویسے تو میری خواہش شہر میں تھی لیکن میں پھر
کالے دیوؤں کا سایہ
غروب آفتاب کے ساتھ ہی کالے دیوؤں کا خوفناک سایہ بستی کی خاموش فضا پر آندھی بن کر چھا جاتا اور شل زدہ ذہنوں میں ماتم کی دھنیں بجنا شروع ہو جاتیں۔ خوف کا سائرن بجتے ہی خون آلودہ دلوں کی دہشت ناک لہروں سے غمگین سوچوں میں وحشت ناک ارتعا ش پیدا ہو جاتا۔ معصوم
تیسری جنگ عظیم سے قبل
وہ سنگ دل گلچیں اپنے پر فریب محدّب شیشوں کی زہریلی شاعوں سے گل زمین کے لالہ فام پھولوں کو اپنا نشانہ بنا رہے تھے۔ چمنستان کے شاہین فطرت پرندے، ان مردہ خور کر گسوں کی بدطینت خصلت بھانپ گئے اور اپنے چمنستان کو ان مردہ خوروں کی پروازوں سے آزاد کرانے کے
سفید تابوت
کالی کوٹھری کے اندھیرے تہہ خانے میں وہ جب اپنے بکھرے وجود کو سمیٹنے کی کوشش کرتا تو اندھیرے عالم کے خوفناک مناظر اس کی نیند پر شبخون مارنا شروع کر دیتے اور اس کے ذہن میں شعور، لاشعور اور تحت شعور کے بکھرے خیالات کے درمیاں تصادم شروع ہو جاتا۔ بھیانک
مصلوب دھڑکنیں
شتر بےمہار کی گھنٹی کی ڈراونی آواز نے پھر اس کے کان کے پردوں کو پھاڑتے ہوئے، اس کی خوف زدہ نیند پر شنجون مارکر، اس کے سکون بھرے گھروندے کو توڑ پھوڑ ڈالا۔ شب دیجور کے بھیانک سائے میں ’’ماں! ان ظالموں نے اسے گولی مار دی۔۔۔ وہ زخمی حالت میں سڑک پر ان سے
خوف
اس کے وجود پر خوف کا بھیانک سایہ چھایا ہوا تھا۔ کپکپی طاری ہوتے ہی وہ لاشعوری کے عالم میں تھرتھراتے ہاتھ سے اپنا گال تھام لیتا۔ اس کی نفسیات پر اس خوف ناک زہریلے جنگلی سانپ کی دہشت اثر انداز ہوچکی تھی۔ خوف نے اس کی سوچ پر ایک حُلیہ نقش کیا تھا اور جب
ہارٹ اٹیک
سرما کا موسم تھا۔ زبردست برفباری ہورہی تھی۔ شام کے پانچ بج چکے تھے اور شہر سے دیہات کی طرف جانے والی یہ آخری ٹیکسی تھی۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اسے وہاں پچاس برس کا ایک موٹا تازہ شخص کالے رنگ کا ایمپورٹڈ اورکوٹ پہنے نظر آیا۔ اس نے اپنے دستا نے نکال کر اپنے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
