- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ریاض توحیدی کے افسانے
ماں
وہ اوندھے منہ زمین پر گر کر ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ جن بچوں کے ساتھ وہ کھیل کو د میں مشغول تھا وہ دوڑتے ہوئے اس کے گھر گئے اور اس کی ماں کو ساتھ لے آئے۔ ماں نے جب روتے روتے اپنے دوپٹے سے اس کے جھاگ بھرے منھ کو صاف کیا تو وہ تھوڑی دیر بعد پھر سے اپنے حواس
کالے پیڑوں کا جنگل
سورج ڈوبتے ہی بستی کے اندر کالے پیڑوں کا جنگل نمودار ہو جاتا تھا۔ ان کالے پیڑوں کی آدمی خور شاخیں، آدم زاد کے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہی آگ کے شعلے بر سانا شروع کر دیتی تھیں اور جب اندھیری رات کا بھیانک سایہ بستی کے طول و عرض میں پھیل جاتا تو زندہ انسانوں
مینٹل ہاسپٹل
آوارہ کتوں کی ہڑبونگ نے بستی میں دہشت پھیلا رکھی تھی۔ یہ کتے کسی بھی گلی، کسی بھی راستے پر بلاخوف انسانوں پر حملہ کر دیتے۔ دوسرے تیسرے روز کوئی نہ کوئی آدمی ان کی کاٹ سے ضرور زخمی ہو جاتا تھا۔ بچوں کی نفسیات آوارہ کتوں کے خوف سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو
زہریلے ناخدا
اس کی جوانی۔۔۔ زندگی اور موت کی آخری کشمکش میں مبتلا تھی۔ اسپتال میں خود کو پاکر اسے یک گونہ سکون محسوس ہوا لیکن جسم میں پھیل رہے زہر کو وہ کیسے روک پاتی۔ وہ حادثات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی وجہ سے آج وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ وہ ایک
ٹوٹتی جوانیاں
پبلک سروس کمیشن کی طرف سے سلیکشن لسٹ، جو ایک مقامی نیوز پیپر میں مشتہر ہو اتھا، میں اپنا نام دیکھ کر میں بے حد خوش ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد میری پوسٹنگ شہر سے باہر وادی کے ایک دور افتادہ علاقے گلشن آباد کی گئی۔ ویسے تو میری خواہش شہر میں تھی لیکن میں پھر
کالے دیوؤں کا سایہ
غروب آفتاب کے ساتھ ہی کالے دیوؤں کا خوفناک سایہ بستی کی خاموش فضا پر آندھی بن کر چھا جاتا اور شل زدہ ذہنوں میں ماتم کی دھنیں بجنا شروع ہو جاتیں۔ خوف کا سائرن بجتے ہی خون آلودہ دلوں کی دہشت ناک لہروں سے غمگین سوچوں میں وحشت ناک ارتعا ش پیدا ہو جاتا۔ معصوم
تیسری جنگ عظیم سے قبل
وہ سنگ دل گلچیں اپنے پر فریب محدّب شیشوں کی زہریلی شاعوں سے گل زمین کے لالہ فام پھولوں کو اپنا نشانہ بنا رہے تھے۔ چمنستان کے شاہین فطرت پرندے، ان مردہ خور کر گسوں کی بدطینت خصلت بھانپ گئے اور اپنے چمنستان کو ان مردہ خوروں کی پروازوں سے آزاد کرانے کے
سفید تابوت
کالی کوٹھری کے اندھیرے تہہ خانے میں وہ جب اپنے بکھرے وجود کو سمیٹنے کی کوشش کرتا تو اندھیرے عالم کے خوفناک مناظر اس کی نیند پر شبخون مارنا شروع کر دیتے اور اس کے ذہن میں شعور، لاشعور اور تحت شعور کے بکھرے خیالات کے درمیاں تصادم شروع ہو جاتا۔ بھیانک
مصلوب دھڑکنیں
شتر بےمہار کی گھنٹی کی ڈراونی آواز نے پھر اس کے کان کے پردوں کو پھاڑتے ہوئے، اس کی خوف زدہ نیند پر شنجون مارکر، اس کے سکون بھرے گھروندے کو توڑ پھوڑ ڈالا۔ شب دیجور کے بھیانک سائے میں ’’ماں! ان ظالموں نے اسے گولی مار دی۔۔۔ وہ زخمی حالت میں سڑک پر ان سے
ہارٹ اٹیک
سرما کا موسم تھا۔ زبردست برفباری ہورہی تھی۔ شام کے پانچ بج چکے تھے اور شہر سے دیہات کی طرف جانے والی یہ آخری ٹیکسی تھی۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اسے وہاں پچاس برس کا ایک موٹا تازہ شخص کالے رنگ کا ایمپورٹڈ اورکوٹ پہنے نظر آیا۔ اس نے اپنے دستا نے نکال کر اپنے
خوف
اس کے وجود پر خوف کا بھیانک سایہ چھایا ہوا تھا۔ کپکپی طاری ہوتے ہی وہ لاشعوری کے عالم میں تھرتھراتے ہاتھ سے اپنا گال تھام لیتا۔ اس کی نفسیات پر اس خوف ناک زہریلے جنگلی سانپ کی دہشت اثر انداز ہوچکی تھی۔ خوف نے اس کی سوچ پر ایک حُلیہ نقش کیا تھا اور جب
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
