- کتاب فہرست 180916
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1365 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح598 صحافت200 زبان و ادب1697 خطوط738
طرز زندگی30 طب973 تحریکات271 ناول4269 سیاسی351 مذہبیات4771 تحقیق و تنقید6536افسانہ2669 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2010نصابی کتاب437 ترجمہ4222خواتین کی تحریریں5775-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1258
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1592
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ387
- مثنوی738
- مسدس44
- نعت587
- نظم1206
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سلام سندیلوی کا تعارف
تخلص : 'سلام'
اصلی نام : عبدالسلام
پیدائش : 25 Feb 1919 | سندیلہ, اتر پردیش
وفات : 17 Sep 2000 | گورکھپور, اتر پردیش
LCCN :n81055709
آئے جو چند تنکے قفس میں صبا کے ساتھ
میں نے انہیں کو اپنا نشیمن سمجھ لیا
شناخت: ممتاز نقاد، محقق و شاعر
ڈاکٹر عبدالسلام سندیلوی، جنہیں ادبی دنیا میں سلام سندیلوی کے نام سے جانا جاتا ہے، 25 فروری 1919ء کو اودھ کے تاریخی قصبہ سندیلہ کے قریب واقع گاؤں کرنا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد منشی بختاور علی محکمۂ پولیس میں ملازم تھے اور تعلیم کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ اسی شعور کے تحت انہوں نے اپنے فرزند کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد سلام سندیلوی کا داخلہ سندیلہ کے خانقاہ اسکول میں کرایا گیا، جہاں سے انہوں نے 1930ء میں درجہ چہارم پاس کیا۔ بعد ازاں ٹاؤن اسکول سندیلہ سے اردو مڈل اور انگریزی درجہ ششم کے امتحانات کامیابی سے مکمل کیے۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ لکھنؤ منتقل ہوئے، جہاں امیر الدولہ اسلامیہ اسکول سے 1937ء میں ہائی اسکول اور کرسچین کالج لکھنؤ سے 1939ء میں انٹرمیڈیٹ پاس کیا۔ انہوں نے 1942ء میں گورنمنٹ ٹریننگ کالج لکھنؤ سے سی ٹی کی تربیت حاصل کی، پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے، ایل ایل بی، ایم اے اردو، ایم اے تاریخ اور بعد ازاں ایم اے فارسی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1957ء میں ’’اردو رباعیات‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی اور 1964ء میں ’’اردو شاعری میں منظر نگاری‘‘ کے موضوع پر ڈی لِٹ کی ڈگری حاصل کی۔
سلامؔ سندیلوی نے عملی زندگی کا آغاز تدریس سے کیا۔ ابتدا میں فیضِ عام اسکول کانپور، انڈسٹریل اسکول لکھنؤ اور موہن لال موریہ اسکول سے وابستہ رہے۔ 1948ء میں سنی ہائر سیکنڈری اسکول لکھنؤ کے پرنسپل مقرر ہوئے، جہاں تقریباً دس برس خدمات انجام دیں۔ 1959ء میں گورکھپور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیکچرار مقرر ہوئے اور بعد ازاں ریڈر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ گورکھپور ہی ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔
سلامؔ سندیلوی بیک وقت شاعر، نقاد، محقق اور معلم تھے۔ شاعری کا آغاز 1940ء میں کیا اور بعد ازاں مولانا افقر موہانی وارثی کے شاگرد ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’ساغر و مینا‘‘، ’’نکہت و نور‘‘، ’’شام و شفق‘‘، ’’رقصِ جام‘‘ اور بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کا مجموعہ ’’تتلیاں‘‘ شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ، فکری سنجیدگی اور جمالیاتی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔
تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی سلام سندیلوی نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی اہم نثری تصانیف میں ’’ادب کا تنقیدی مطالعہ‘‘، ’’ادبی اشارے‘‘، ’’اردو رباعیات‘‘، ’’گنجینۂ معلومات‘‘، ’’ذخیرۂ معلومات‘‘ اور ’’کعبہ میں صنم خانہ‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے ادبی و تنقیدی مسائل پر نہایت سادہ مگر عالمانہ اسلوب میں اظہارِ خیال کیا۔ ان کی تنقید علمی استدلال، شفاف زبان اور متوازن فکر کی آئینہ دار ہے۔
سلامؔ سندیلوی نے’’تاریخِ ادبیات گورکھپور‘‘ بھی لکھی جس میں گورکھپور کی ادبی تاریخ اور وہاں کے ادبا و شعرا کا تذکرہ ہے۔ نیز’’قیدِ حیات‘‘ کے نام سے اپنی خودنوشت تحریر کی، جس میں ان کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے علمی و ادبی ماحول کی جھلک بھی ملتی ہے۔
وفات: سلام سندیلوی کا انتقال 17 ستمبر 2000ء کو گورکھپور میں ہوا۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n81055709
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
