Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سلامت اللہ خان

1913 - 2002 | دلی, انڈیا

ماہرِ تعلیم اور جامعہ ملیہ کے ٹیچرس کالج کے استاد و منتظم

ماہرِ تعلیم اور جامعہ ملیہ کے ٹیچرس کالج کے استاد و منتظم

سلامت اللہ خان کا تعارف

اصلی نام : سلامت اللہ

پیدائش : 04 Aug 1913 | اٹاوہ, اتر پردیش

شناخت: ممتاز ماہرِ تعلیم، ماہرِ نفسیات اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مؤثر تعلیمی منتظم

سلامت اللہ خان 4 اگست 1913ء کو اتر پردیش کے ضلع اٹاوہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سہگل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی، جبکہ 1934ء میں گورنمنٹ انٹر کالج اٹاوہ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔ بعد ازاں 1936ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں سے بی ایس سی اور ایم ایس سی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیچرس کالج سے وابستہ ہوگئے، جہاں ان کی علمی و تدریسی صلاحیتیں نمایاں ہوئیں۔

1946ء سے 1948ء تک انہیں امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک کے ٹیچرس کالج میں فیلوشپ پر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ وہاں سے انہوں نے ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوبارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہوگئے اور تدریس، تحقیق اور تعلیمی منصوبہ بندی کے میدان میں اہم خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر سلامت اللہ خان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیچرس کالج کے ڈین رہے اور انہوں نے ہندوستان میں جدید تعلیمی فکر، تدریسی نفسیات اور نصابی اصلاحات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے اساتذہ کی تربیت، تدریسی اصولوں اور طلبہ کی ذہنی و فکری نشوونما پر خاص توجہ دی گئی۔

انہوں نے اردو زبان میں تعلیم اور تعلیمی نفسیات کے موضوعات پر متعدد اہم کتابیں تحریر کیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں ’’ہم کیسے پڑھائیں‘‘، ’’تعلیم اور اس کا سماجی پس منظر‘‘، ’’بنیادی استاد کے لیے‘‘ اور ’’تعلیم، فلسفہ اور سماج‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے تدریسی اصول، طلبہ کی نفسیات، تعلیمی ماحول اور سماجی تبدیلی میں تعلیم کے کردار کو سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا۔ اردو میں تعلیمی نفسیات کو عام کرنے میں ان کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی خودنوشت سوانح ’’یادوں کے چراغ‘‘ نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کی جھلک پیش کرتی ہے بلکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اُس دور کے علمی ماحول اور ہم عصر اساتذہ کے حالات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ سے سبکدوشی کے بعد بھی وہ علمی و تعلیمی سرگرمیوں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے دو برس این سی ای آر ٹی میں اور بعد ازاں کشمیر یونیورسٹی میں بھی خدمات انجام دیں۔

وفات: 2002 میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے