- کتاب فہرست 177115
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6600افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت579
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سلامت اللہ خان کا تعارف
شناخت: ممتاز ماہرِ تعلیم، ماہرِ نفسیات اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مؤثر تعلیمی منتظم
سلامت اللہ خان 4 اگست 1913ء کو اتر پردیش کے ضلع اٹاوہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سہگل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی، جبکہ 1934ء میں گورنمنٹ انٹر کالج اٹاوہ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔ بعد ازاں 1936ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں سے بی ایس سی اور ایم ایس سی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیچرس کالج سے وابستہ ہوگئے، جہاں ان کی علمی و تدریسی صلاحیتیں نمایاں ہوئیں۔
1946ء سے 1948ء تک انہیں امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک کے ٹیچرس کالج میں فیلوشپ پر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ وہاں سے انہوں نے ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوبارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہوگئے اور تدریس، تحقیق اور تعلیمی منصوبہ بندی کے میدان میں اہم خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر سلامت اللہ خان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیچرس کالج کے ڈین رہے اور انہوں نے ہندوستان میں جدید تعلیمی فکر، تدریسی نفسیات اور نصابی اصلاحات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے اساتذہ کی تربیت، تدریسی اصولوں اور طلبہ کی ذہنی و فکری نشوونما پر خاص توجہ دی گئی۔
انہوں نے اردو زبان میں تعلیم اور تعلیمی نفسیات کے موضوعات پر متعدد اہم کتابیں تحریر کیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں ’’ہم کیسے پڑھائیں‘‘، ’’تعلیم اور اس کا سماجی پس منظر‘‘، ’’بنیادی استاد کے لیے‘‘ اور ’’تعلیم، فلسفہ اور سماج‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے تدریسی اصول، طلبہ کی نفسیات، تعلیمی ماحول اور سماجی تبدیلی میں تعلیم کے کردار کو سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا۔ اردو میں تعلیمی نفسیات کو عام کرنے میں ان کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی خودنوشت سوانح ’’یادوں کے چراغ‘‘ نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کی جھلک پیش کرتی ہے بلکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اُس دور کے علمی ماحول اور ہم عصر اساتذہ کے حالات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ سے سبکدوشی کے بعد بھی وہ علمی و تعلیمی سرگرمیوں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے دو برس این سی ای آر ٹی میں اور بعد ازاں کشمیر یونیورسٹی میں بھی خدمات انجام دیں۔
وفات: 2002 میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
