Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سلمیٰ کنول

- 2005

مقبول ناول نگار

مقبول ناول نگار

سلمیٰ کنول کا تعارف

وفات : لاہور, پنجاب

شناخت: ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس

سلمیٰ کنول کا شمار پاکستان کی ان تخلیق کار خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے "عوامی ادب" یا "ڈائجسٹ کا ادب" کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ سلمیٰ کنول نے اپنے منفرد اسلوب اور خواتین کے مسائل پر مبنی کہانیوں کے ذریعے قارئین کا ایک وسیع حلقہ پیدا کیا۔ ان کا عروج ساٹھ (60) کی دہائی میں شروع ہوا اور وہ اپنی ہم عصر ناول نگار رضیہ بٹ کی مضبوط حریف تصور کی جاتی تھیں۔

سلمیٰ کنول نے اپنے طویل ادبی کیرئیر میں 40 سے زائد ناول تخلیق کیے۔ ان کی کہانیوں کا محور خواتین کی ذات، ان کے نفسیاتی و سماجی مسائل اور گھریلو زندگی رہی۔ ان کے ناولوں کی مانگ خواتین قارئین میں اس قدر زیادہ تھی کہ انہیں 'سپر ہٹ' ناول نگار مانا جاتا تھا۔

سلمیٰ کنول کی ذاتی زندگی صدمات اور جسمانی معذوری کی تلخیوں سے عبارت تھی: شادی کے بعد ان کی اکلوتی بیٹی کم عمری میں ہی انتقال کر گئی، جس کا دکھ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ وہ طویل عرصے تک وہیل چیئر تک محدود رہیں، لیکن اسی تنہائی اور معذوری کو انہوں نے اپنی تخلیقی توانائی میں بدل دیا۔

سلمیٰ کنول کی کہانیوں میں وہ تمام اجزاء موجود تھے جو ایک کامیاب فلم یا ڈرامے کے لیے ضروری ہوتے ہیں: فلم 'مہمان' (1978): ان کے مشہور ناول "چپکے سے بہار آجائے" پر مبنی یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس میں بابرہ شریف اور راحت کاظمی نے مرکزی کردار ادا کیے۔ فلم 'عندلیب': ان کے ایک اور مقبول ناول پر بنائی گئی کامیاب فلم۔

ڈرامہ 'پانی جیسا پیار' (2011): اس معروف ڈرامے کی اصل کہانی سلمیٰ کنول کی تھی، اگرچہ کریڈٹ کے حوالے سے تنازع پیدا ہوا، مگر اس کی کامیابی ان کے فن کی مرہونِ منت تھی۔

وفات: انہوں نے اپنی زندگی کی آخری دہائیاں لاہور میں گزاریں اور 2005ء میں وہیں انتقال کر گئیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے