- کتاب فہرست 177115
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4849
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت579
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سلمیٰ کنول کا تعارف
شناخت: ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس
سلمیٰ کنول کا شمار پاکستان کی ان تخلیق کار خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے "عوامی ادب" یا "ڈائجسٹ کا ادب" کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ سلمیٰ کنول نے اپنے منفرد اسلوب اور خواتین کے مسائل پر مبنی کہانیوں کے ذریعے قارئین کا ایک وسیع حلقہ پیدا کیا۔ ان کا عروج ساٹھ (60) کی دہائی میں شروع ہوا اور وہ اپنی ہم عصر ناول نگار رضیہ بٹ کی مضبوط حریف تصور کی جاتی تھیں۔
سلمیٰ کنول نے اپنے طویل ادبی کیرئیر میں 40 سے زائد ناول تخلیق کیے۔ ان کی کہانیوں کا محور خواتین کی ذات، ان کے نفسیاتی و سماجی مسائل اور گھریلو زندگی رہی۔ ان کے ناولوں کی مانگ خواتین قارئین میں اس قدر زیادہ تھی کہ انہیں 'سپر ہٹ' ناول نگار مانا جاتا تھا۔
سلمیٰ کنول کی ذاتی زندگی صدمات اور جسمانی معذوری کی تلخیوں سے عبارت تھی: شادی کے بعد ان کی اکلوتی بیٹی کم عمری میں ہی انتقال کر گئی، جس کا دکھ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ وہ طویل عرصے تک وہیل چیئر تک محدود رہیں، لیکن اسی تنہائی اور معذوری کو انہوں نے اپنی تخلیقی توانائی میں بدل دیا۔
سلمیٰ کنول کی کہانیوں میں وہ تمام اجزاء موجود تھے جو ایک کامیاب فلم یا ڈرامے کے لیے ضروری ہوتے ہیں: فلم 'مہمان' (1978): ان کے مشہور ناول "چپکے سے بہار آجائے" پر مبنی یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس میں بابرہ شریف اور راحت کاظمی نے مرکزی کردار ادا کیے۔ فلم 'عندلیب': ان کے ایک اور مقبول ناول پر بنائی گئی کامیاب فلم۔
ڈرامہ 'پانی جیسا پیار' (2011): اس معروف ڈرامے کی اصل کہانی سلمیٰ کنول کی تھی، اگرچہ کریڈٹ کے حوالے سے تنازع پیدا ہوا، مگر اس کی کامیابی ان کے فن کی مرہونِ منت تھی۔
وفات: انہوں نے اپنی زندگی کی آخری دہائیاں لاہور میں گزاریں اور 2005ء میں وہیں انتقال کر گئیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
