- کتاب فہرست 180561
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1575 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4191خواتین کی تحریریں5754-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سلمیٰ کنول کا تعارف
شناخت: ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس
سلمیٰ کنول کا شمار پاکستان کی ان تخلیق کار خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے "عوامی ادب" یا "ڈائجسٹ کا ادب" کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ سلمیٰ کنول نے اپنے منفرد اسلوب اور خواتین کے مسائل پر مبنی کہانیوں کے ذریعے قارئین کا ایک وسیع حلقہ پیدا کیا۔ ان کا عروج ساٹھ (60) کی دہائی میں شروع ہوا اور وہ اپنی ہم عصر ناول نگار رضیہ بٹ کی مضبوط حریف تصور کی جاتی تھیں۔
سلمیٰ کنول نے اپنے طویل ادبی کیرئیر میں 40 سے زائد ناول تخلیق کیے۔ ان کی کہانیوں کا محور خواتین کی ذات، ان کے نفسیاتی و سماجی مسائل اور گھریلو زندگی رہی۔ ان کے ناولوں کی مانگ خواتین قارئین میں اس قدر زیادہ تھی کہ انہیں 'سپر ہٹ' ناول نگار مانا جاتا تھا۔
سلمیٰ کنول کی ذاتی زندگی صدمات اور جسمانی معذوری کی تلخیوں سے عبارت تھی: شادی کے بعد ان کی اکلوتی بیٹی کم عمری میں ہی انتقال کر گئی، جس کا دکھ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ وہ طویل عرصے تک وہیل چیئر تک محدود رہیں، لیکن اسی تنہائی اور معذوری کو انہوں نے اپنی تخلیقی توانائی میں بدل دیا۔
سلمیٰ کنول کی کہانیوں میں وہ تمام اجزاء موجود تھے جو ایک کامیاب فلم یا ڈرامے کے لیے ضروری ہوتے ہیں: فلم 'مہمان' (1978): ان کے مشہور ناول "چپکے سے بہار آجائے" پر مبنی یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس میں بابرہ شریف اور راحت کاظمی نے مرکزی کردار ادا کیے۔ فلم 'عندلیب': ان کے ایک اور مقبول ناول پر بنائی گئی کامیاب فلم۔
ڈرامہ 'پانی جیسا پیار' (2011): اس معروف ڈرامے کی اصل کہانی سلمیٰ کنول کی تھی، اگرچہ کریڈٹ کے حوالے سے تنازع پیدا ہوا، مگر اس کی کامیابی ان کے فن کی مرہونِ منت تھی۔
وفات: انہوں نے اپنی زندگی کی آخری دہائیاں لاہور میں گزاریں اور 2005ء میں وہیں انتقال کر گئیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
