- کتاب فہرست 179327
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت203 زبان و ادب1732 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6657افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4306خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
سلمیٰ کنول کا تعارف
شناخت: ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس
سلمیٰ کنول کا شمار پاکستان کی ان تخلیق کار خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے "عوامی ادب" یا "ڈائجسٹ کا ادب" کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ سلمیٰ کنول نے اپنے منفرد اسلوب اور خواتین کے مسائل پر مبنی کہانیوں کے ذریعے قارئین کا ایک وسیع حلقہ پیدا کیا۔ ان کا عروج ساٹھ (60) کی دہائی میں شروع ہوا اور وہ اپنی ہم عصر ناول نگار رضیہ بٹ کی مضبوط حریف تصور کی جاتی تھیں۔
سلمیٰ کنول نے اپنے طویل ادبی کیرئیر میں 40 سے زائد ناول تخلیق کیے۔ ان کی کہانیوں کا محور خواتین کی ذات، ان کے نفسیاتی و سماجی مسائل اور گھریلو زندگی رہی۔ ان کے ناولوں کی مانگ خواتین قارئین میں اس قدر زیادہ تھی کہ انہیں 'سپر ہٹ' ناول نگار مانا جاتا تھا۔
سلمیٰ کنول کی ذاتی زندگی صدمات اور جسمانی معذوری کی تلخیوں سے عبارت تھی: شادی کے بعد ان کی اکلوتی بیٹی کم عمری میں ہی انتقال کر گئی، جس کا دکھ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ وہ طویل عرصے تک وہیل چیئر تک محدود رہیں، لیکن اسی تنہائی اور معذوری کو انہوں نے اپنی تخلیقی توانائی میں بدل دیا۔
سلمیٰ کنول کی کہانیوں میں وہ تمام اجزاء موجود تھے جو ایک کامیاب فلم یا ڈرامے کے لیے ضروری ہوتے ہیں: فلم 'مہمان' (1978): ان کے مشہور ناول "چپکے سے بہار آجائے" پر مبنی یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس میں بابرہ شریف اور راحت کاظمی نے مرکزی کردار ادا کیے۔ فلم 'عندلیب': ان کے ایک اور مقبول ناول پر بنائی گئی کامیاب فلم۔
ڈرامہ 'پانی جیسا پیار' (2011): اس معروف ڈرامے کی اصل کہانی سلمیٰ کنول کی تھی، اگرچہ کریڈٹ کے حوالے سے تنازع پیدا ہوا، مگر اس کی کامیابی ان کے فن کی مرہونِ منت تھی۔
وفات: انہوں نے اپنی زندگی کی آخری دہائیاں لاہور میں گزاریں اور 2005ء میں وہیں انتقال کر گئیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
