- کتاب فہرست 182592
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3288طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط745
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4315 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6621افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4877
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سلمیٰ کنول کا تعارف
شناخت: ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس
سلمیٰ کنول کا شمار پاکستان کی ان تخلیق کار خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے "عوامی ادب" یا "ڈائجسٹ کا ادب" کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ سلمیٰ کنول نے اپنے منفرد اسلوب اور خواتین کے مسائل پر مبنی کہانیوں کے ذریعے قارئین کا ایک وسیع حلقہ پیدا کیا۔ ان کا عروج ساٹھ (60) کی دہائی میں شروع ہوا اور وہ اپنی ہم عصر ناول نگار رضیہ بٹ کی مضبوط حریف تصور کی جاتی تھیں۔
سلمیٰ کنول نے اپنے طویل ادبی کیرئیر میں 40 سے زائد ناول تخلیق کیے۔ ان کی کہانیوں کا محور خواتین کی ذات، ان کے نفسیاتی و سماجی مسائل اور گھریلو زندگی رہی۔ ان کے ناولوں کی مانگ خواتین قارئین میں اس قدر زیادہ تھی کہ انہیں 'سپر ہٹ' ناول نگار مانا جاتا تھا۔
سلمیٰ کنول کی ذاتی زندگی صدمات اور جسمانی معذوری کی تلخیوں سے عبارت تھی: شادی کے بعد ان کی اکلوتی بیٹی کم عمری میں ہی انتقال کر گئی، جس کا دکھ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ وہ طویل عرصے تک وہیل چیئر تک محدود رہیں، لیکن اسی تنہائی اور معذوری کو انہوں نے اپنی تخلیقی توانائی میں بدل دیا۔
سلمیٰ کنول کی کہانیوں میں وہ تمام اجزاء موجود تھے جو ایک کامیاب فلم یا ڈرامے کے لیے ضروری ہوتے ہیں: فلم 'مہمان' (1978): ان کے مشہور ناول "چپکے سے بہار آجائے" پر مبنی یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس میں بابرہ شریف اور راحت کاظمی نے مرکزی کردار ادا کیے۔ فلم 'عندلیب': ان کے ایک اور مقبول ناول پر بنائی گئی کامیاب فلم۔
ڈرامہ 'پانی جیسا پیار' (2011): اس معروف ڈرامے کی اصل کہانی سلمیٰ کنول کی تھی، اگرچہ کریڈٹ کے حوالے سے تنازع پیدا ہوا، مگر اس کی کامیابی ان کے فن کی مرہونِ منت تھی۔
وفات: انہوں نے اپنی زندگی کی آخری دہائیاں لاہور میں گزاریں اور 2005ء میں وہیں انتقال کر گئیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
