- کتاب فہرست 180417
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1585 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6592افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سرور جمال کے طنز و مزاح
اگر میں شوہر ہوتی
آپ پوچھیں گے کہ میرے دل میں ایسا خیال کیوں آیا؟ آپ اسے خیال کہہ رہے ہیں؟ جناب یہ تو میری آرزو ہے، ایک دیرینہ تمنا ہے۔ یہ خواہش تو میرے دل میں اس وقت سے پل رہی ہے، جب میں لڑکے لڑکی کا فرق بھی نہیں جانتی تھی۔ اس آرزو نے اس دن میرے دل میں جنم لیا،
مفت کےمشورے
یہ کوئی انگلینڈ یا امریکہ تو ہےنہیں جہاں خیال بکتا ہو۔ مشورے حاصل کرنے کےلئے روپیہ خرچ کرنا ہوتا ہے۔ کسی سےملنے یا باتیں کرنےکےلئے ہفتوں پہلے اپوائنٹ منٹ کرنا پڑتا ہو، یہ جناب ہندوستان ہے ہندوستان، جہاں رشتہ داروں سے زیادہ ملاقاتی اور ملاقاتیوں سے زیادہ
بڑا آدمی بننے کا گر
ایک پرانا لطیفہ ہے، ایک بار کسی نے ایک بچے سے پوچھا، ’’تمہارے شہر میں کون کون سے بڑے آدمی پیداہوئے ہیں؟‘‘ بچے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا، ’’ہمارے یہاں کوئی شخص بڑا نہیں پیدا ہوتا، سب بچے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘ کہنے کو تو یہ ایک لطیفہ ہے اور اسے سن کر
دوپٹے سے پٹے تک
’’اے ہے! یہ نگوڑا مارے دو ڈھائی گز کے دوپٹے تم سے نہیں سنبھلتے؟‘‘ ’’غضب خدا کا، تمام مردوں کا سامنا ہورہا ہے اور تمھارے سر پر دوپٹہ تک نہیں ٹکتا۔‘‘ ’’الہیٰ خیر! یہ دوپٹہ ہے یا گلے کا ہار؟‘‘ ’’ارے بی بی سر پر دوپٹہ تو ڈالو۔‘‘ یہ تیر
شوہر ہونے کے بعد
ایک صبح میری آنکھ کھلی، تو میں نے دیکھا کہ میں ایک شوہر ہو چکی ہوں۔یہ معجزہ کیسےظہور پذیر ہوا، اس کےلئے میں خود حیران ہوں، بس اتنا یاد ہے کہ ایک بارمیں نےشوہر بننےکی خواہش ٹوٹ کرکی تھی۔ قدرت نےغالباً میری پچھلی تمام خواہشوں کی پامالی کےصلہ میں اتنی
وقت کی مار
بچپن سے سنتے چلے آرہےہیں، کہ وقت بہت بری شئےہے۔ ایسا نہ ہوتا تو یہ محاورے کیسے بنتے۔ ’’وقت آپڑا ہے۔‘‘ ’’وقت وقت کی بات ہے۔‘‘ ’’خدا کسی پر وقت نہ ڈالے۔‘‘ وقت کی اہمیت جانے بغیران محاوروں کو موزوں وناموزوں لاتعداد بار استعمال کرتی چلی
جنون لطیفہ
لطیفہ کا جنون بھی کیا جنون ہوتا ہے صاحب۔ معاف کیجئے گا، لطیفہ کا نہیں، لطیفہ گوئی کا۔ جنونِ لطیفہ کے مریض کی پہچان یہ ہے کہ وہ خود کوئی لطیفہ سننا پسند نہیں کرتا۔ بفرض محال اگر اس نے ایک لطیفہ جبراً قہراً سن بھی لیا تو اس کے بدلے بلا مبالغہ آپ کو
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
