- کتاب فہرست 180360
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سیدہ جعفر کا تعارف
اصلی نام : سیدہ جعفر
پیدائش : 05 Apr 1934 | کریم نگر, تلنگانہ
وفات : 24 Jun 2016 | حیدر آباد, تلنگانہ
LCCN :n84199096
شناخت: ہندوستان کی نامور خاتون محقق، ادبی مورخ، ماہر دکنیات، نقاد، ماہرِ لسانیات
سیدہ جعفر 1934ء میں حیدرآباد کے ضلع کریم نگر کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے جدِ اعلیٰ سید رضی جنہوں نے 'نہج البلاغہ' مرتب کی، جبکہ مشہور شاعر سید محمد والہ موسوی بھی ان کے اجداد میں شامل تھے۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ نامپلی گرلس اسکول میں حاصل کی، جہاں سے ان کے علمی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ حیدرآباد کی ہمہ رنگ تہذیب اور جامعہ عثمانیہ کا علمی ماحول ان کی فکری تشکیل میں نہایت مؤثر ثابت ہوا۔
انہوں نے جامعہ عثمانیہ سے 1959ء میں "اردو مضمون کا ارتقا" کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جو اس وقت کسی خاتون کی جانب سے اس نوعیت کا پہلا تحقیقی کارنامہ تھا۔
ان کا تدریسی سفر جامعہ عثمانیہ سے شروع ہوا، جہاں وہ ریڈر، پروفیسر اور بعد ازاں صدرِ شعبہ اردو رہیں۔ فروری 1991ء میں وہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی منتقل ہوئیں اور وہاں سے بطور پروفیسر سبکدوش ہوئیں۔
ڈاکٹر سیدہ جعفر کا اصل میدان دکنیات ہے، جس میں انہوں نے ڈاکٹر محی الدین قادری زور کی روایات کو آگے بڑھایا۔
دکنیات: انہوں نے شاہ تراب چشتی کی مثنوی 'من سمجھاون' پر کام کر کے اسے مراٹھی اثرات سے جوڑا۔ 'کلیاتِ محمد قلی قطب شاہ' کی ترتیب میں انہوں نے لندن سے دریافت شدہ بارہ نئی غزلوں کا اضافہ کیا۔ دکنی رباعیاں، سکھ انجن ، دکنی نثر کا انتخاب ، مثنوی یوسف زلیخا، چندر بدن و مہیار، مثنوی ماہ پیکر، جنت سنگار، دکنی ادب میں قصیدے کی روایت، مثنوی گلدستہ اور نوسرہار وغیرہ۔ ان کا مرتب کردہ 'دکنی لغت' ساڑھے تیرہ ہزار اندراجات پر مشتمل ایک شاہکار ہے جس میں الفاظ کے ماخذ اور محلِ استعمال کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
تاریخِ ادب: انہوں نے ڈاکٹر گیان چند جین کے ساتھ مل کر پانچ جلدوں پر مشتمل "تاریخِ ادب اردو (1700ء تک)" لکھی۔ اس کے علاوہ "تاریخِ ادب اردو (عہدِ میر سے ترقی پسند تحریک تک)" کی چار جلدیں ان کی علمی استعداد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس کے علاوہ 'ماسٹر رام چندر اور اردو نثر'، 'مہک اور محک'، 'فن کی جانچ' اور ساہتیہ اکیڈمی کے لیے ڈاکٹر زور، مخدوم اور فراق پر مونوگراف بھی تحریر کیے۔
ان کا طرزِ نگارش بصیرت افروز، متوازن اور عالمانہ ہے۔ پروفیسر احتشام حسین کے بقول ان کی صلاحیتیں تحقیق اور تنقید دونوں میدانوں میں ہموار رہیں۔ انہوں نے قدیم دکنی ادب کے ساتھ ساتھ جدید ادب پر بھی گہری دسترس رکھی۔
وفات: 24 جون 2016ء کو حیدرآباد میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84199096
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
