- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
ڈرامہ926 تعلیم344 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3295طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4320 سیاسی354 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6624افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4255خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4882
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1210
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سیدہ جعفر کا تعارف
اصلی نام : سیدہ جعفر
پیدائش : 05 Apr 1934 | کریم نگر, تلنگانہ
وفات : 24 Jun 2016 | حیدر آباد, تلنگانہ
LCCN :n84199096
شناخت: ہندوستان کی نامور خاتون محقق، ادبی مورخ، ماہر دکنیات، نقاد، ماہرِ لسانیات
سیدہ جعفر 1934ء میں حیدرآباد کے ضلع کریم نگر کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے جدِ اعلیٰ سید رضی جنہوں نے 'نہج البلاغہ' مرتب کی، جبکہ مشہور شاعر سید محمد والہ موسوی بھی ان کے اجداد میں شامل تھے۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ نامپلی گرلس اسکول میں حاصل کی، جہاں سے ان کے علمی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ حیدرآباد کی ہمہ رنگ تہذیب اور جامعہ عثمانیہ کا علمی ماحول ان کی فکری تشکیل میں نہایت مؤثر ثابت ہوا۔
انہوں نے جامعہ عثمانیہ سے 1959ء میں "اردو مضمون کا ارتقا" کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جو اس وقت کسی خاتون کی جانب سے اس نوعیت کا پہلا تحقیقی کارنامہ تھا۔
ان کا تدریسی سفر جامعہ عثمانیہ سے شروع ہوا، جہاں وہ ریڈر، پروفیسر اور بعد ازاں صدرِ شعبہ اردو رہیں۔ فروری 1991ء میں وہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی منتقل ہوئیں اور وہاں سے بطور پروفیسر سبکدوش ہوئیں۔
ڈاکٹر سیدہ جعفر کا اصل میدان دکنیات ہے، جس میں انہوں نے ڈاکٹر محی الدین قادری زور کی روایات کو آگے بڑھایا۔
دکنیات: انہوں نے شاہ تراب چشتی کی مثنوی 'من سمجھاون' پر کام کر کے اسے مراٹھی اثرات سے جوڑا۔ 'کلیاتِ محمد قلی قطب شاہ' کی ترتیب میں انہوں نے لندن سے دریافت شدہ بارہ نئی غزلوں کا اضافہ کیا۔ دکنی رباعیاں، سکھ انجن ، دکنی نثر کا انتخاب ، مثنوی یوسف زلیخا، چندر بدن و مہیار، مثنوی ماہ پیکر، جنت سنگار، دکنی ادب میں قصیدے کی روایت، مثنوی گلدستہ اور نوسرہار وغیرہ۔ ان کا مرتب کردہ 'دکنی لغت' ساڑھے تیرہ ہزار اندراجات پر مشتمل ایک شاہکار ہے جس میں الفاظ کے ماخذ اور محلِ استعمال کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
تاریخِ ادب: انہوں نے ڈاکٹر گیان چند جین کے ساتھ مل کر پانچ جلدوں پر مشتمل "تاریخِ ادب اردو (1700ء تک)" لکھی۔ اس کے علاوہ "تاریخِ ادب اردو (عہدِ میر سے ترقی پسند تحریک تک)" کی چار جلدیں ان کی علمی استعداد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس کے علاوہ 'ماسٹر رام چندر اور اردو نثر'، 'مہک اور محک'، 'فن کی جانچ' اور ساہتیہ اکیڈمی کے لیے ڈاکٹر زور، مخدوم اور فراق پر مونوگراف بھی تحریر کیے۔
ان کا طرزِ نگارش بصیرت افروز، متوازن اور عالمانہ ہے۔ پروفیسر احتشام حسین کے بقول ان کی صلاحیتیں تحقیق اور تنقید دونوں میدانوں میں ہموار رہیں۔ انہوں نے قدیم دکنی ادب کے ساتھ ساتھ جدید ادب پر بھی گہری دسترس رکھی۔
وفات: 24 جون 2016ء کو حیدرآباد میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DB%81_%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84199096
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
-
