Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shabbir Ahmed's Photo'

شبیر احمد

1963 | کولکاتا, انڈیا

فکشن نگار، مترجم

فکشن نگار، مترجم

شبیر احمد کا تعارف

اصلی نام : شبیر احمد

پیدائش : 01 Jun 1963 | کولکاتا, مغربی بنگال

LCCN :no2005004345

شناخت: فکشن نگار، مترجم اور ادبی شخصیت

شبیر احمد معاصر اردو ادب کے نمایاں ناول نگار، افسانہ نویس، مترجم اور مضمون نگار ہیں جنہوں نے جدید اردو فکشن اور بین لسانی ادبی روابط میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی تحریروں میں تاریخ، شناخت، یادداشت اور انسانی جذبات کی گہری جھلک ملتی ہے۔

شبیر احمد یکم جون 1963 کو کولکاتا میں پیدا ہوئے۔ اردو، انگریزی، بنگالی اور ہندی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے 1983 میں سینٹ زیویئرز کالج، کولکاتا سے بی کام (آنرز) اور 1985 میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے ایم کام کیا۔

پیشہ ورانہ زندگی میں وہ حکومتِ مغربی بنگال کے لیبر ڈیپارٹمینٹ میں سینئر بیوروکریٹ رہے اور مختلف انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں ایڈیشنل ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

ادبی میدان میں ان کا شمار ممتاز اردو فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے ناولوں میں حضور آما (2020)، بدروہی (2022) اور جگ بانی (2025)شامل ہیں ہے۔ افسانوی مجموعوں میں چوتھا فنکار (2012) اہم ہے اور مہایُدھ زیر تکمیل ہے۔ سفرنامہ غالب کے شہر میں (2005) اور بچوں کے لیے بچوں کے رابندرناتھ (2015) بھی خاصے مقبول ہوئے۔

بطور مترجم انہوں نے اہم ادبی کام کیے۔ نمایاں تراجم میں رابندرناتھ ٹیگور کی 32 کہانیوں کا اردو ترجمہ ٹیگور بتیسی، سنیل گنگوپادھیائے کے ناول کا ترجمہ اور اُس وقت، سبھاش مکھوپادھیائے کی نظموں کا ترجمہ، چلتے چلتے، جدید بنگالی شاعر نیریندر ناتھ چکروتی کے مجموعہ کلام، النگوں راجا کا اردو ترجمہ، شاہ بے لباس شامل ہیں۔ ان تراجم کو ادبی حلقوں میں خاص پذیرائی ملی۔

ان کی تحریریں ملک کے معتبر اردو جرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں اور ان کی کتابیں ساہتیہ اکادمی، این سی پی یو ایل اور ویسٹ بنگال اردو اکیڈمی جیسے اداروں سے شائع ہو چکی ہیں۔

اعزازات میں 2021 میں ناول حضور آما پر اترپردیش اردو اکیڈمی کا پہلا انعام شامل ہے۔ دو مرتبہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہو چکے ہیں (2023، 2024)۔ علاوہ ازیں مختلف ریاستی اردو اکادمیوں سے اعزازات حاصل کیے۔

ان کے فکشن کے موضوعات میں برصغیر کی سماجی و تاریخی تبدیلیاں، شناخت اور مزاحمت، اور سیاسی ہنگاموں میں انسانی قدروں کی تلاش شامل ہیں۔ وہ بنیادی طور پر اردو میں لکھتے ہیں اور انگریزی، بنگالی اور ہندی میں تراجم کرتے ہیں۔

Recitation

بولیے