- کتاب فہرست 182641
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3301طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1712 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4331 سیاسی355 مذہبیات4773 تحقیق و تنقید6628افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2041نصابی کتاب450 ترجمہ4261خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1286
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت587
- نظم1213
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شفیع مشہدی کے افسانے
گرتی دیواریں
خلیفہ جی کو محلے کے سارے لوگ جانتے تھے۔ بچے، بوڑھے، مرد عورت سب ہی انھیں خلیفہ جی کہتے۔ ویسے نام تو ان کا علی محمد تھا مگر کوئی انھیں نام لے کر نہیں پکارتا تھا۔ حتی کہ ان کے بیٹے بھی اکثر انھیں خلیفہ جی ہی کہتے تھے۔ جب کوئی بچہ اپنی توتلی زبان میں
سید کی حویلی
’’بہو، اری او بہو‘‘۔ آواز تیز تھی۔ ’’جی بیگم صاحب‘‘! آواز کمزور تھی۔ ’’میں پوچھتی ہوں تمھاری بکریاں آنگن میں کیوں آئیں‘‘۔ آواز میں بے پناہ خفگی تھی۔ ’’کیا کریں بیگم صاحب گلتی ہو گئی‘‘۔ آواز میں معذرت تھی۔ ’’مگر غلطی ہوئی کیوں؟ دیکھو تمھاری
پیاس
’’اے مہاگیانی! جب میں دانتوں پر دانت جما کر اور تالو کو زبان سے لگاکر، دل و دماغ کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے پسینہ آنے لگتا ہے۔ جب میں سانس روک کر تپسّیا کرتا ہوں تو میرے کانوں سے سانس نکلنے کی آواز آتی ہے ... پھر اے گرو دیو، جب میں سانس
جلدی کرو
زمین پر تیس پینتیس بچوں کی لاشیں قطار سے رکھی، سورماؤں کو داد شجاعت دے رہی تھیں۔ دونوں جانب رائفلوں پر سنگینیں چڑھائے سپاہی پہرہ دے رہے تھے۔ کوئی بیس گز دور جلے ہوئے برگد کے نیچے دس پندرہ مزدور جلدی جلدی گڈھا کھود رہے تھے اور کچھ باوردی افسر بار بار
مٹی کی خوشبو
گرمی کی دوپہر نے قبرستان کو مزید ویران بنا دیا تھا۔ قبرستان کافی بڑا اور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اکا دکا قبریں پختہ تھیں مگر بیشتر قبریں کچی مٹی کی تھیں۔ بیشتر قبریں دھنس گئی تھیں جنہیں جھاڑیوں نے چھپا لیا تھا۔ قبروں پر اگی ہوئی ہریالی، گرمی میں جھلس گئی
بنت زلیخا
’’سمسو کی ماں کو معلوم کہ ہم کھیریت سے ہیں اور تم لوگوں کا کھیریت نیک چاہتا ہوں۔‘‘ ابا کی طرف سے سمسو کو بہت بہت دعا۔ اور ضروری بات یہ ہے کہ سجان میاں کا بیٹا اسلام کے ہاتھ چالیس روپیہ بھیج دیا ہے، جو ملا ہوگا۔ باڑی والا کا کرایہ دے دو اور منّی
سنیچرشاہ
میں نے اسے پہلی بار جب دیکھا تو وہ ٹیبل پر رکھے ہوئے گلاس میں پانی انڈیل رہا تھا۔ میں نے کھانے کی میز سے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو میری آنکھیں اس کے چہرے پر جم کر رہ گئیں۔ اس کی خالی خالی ڈراؤنی بے جان سی آنکھیں میز پر رکھے ہوئے مرغ مسلّم پر جمی ہوئی
قہر درویش
کولتار کی سیاہ سڑک تاحد نظر پھیلی چلی گئی تھی اور کلوکا تانگہ نیم ہموار راستے پر چرّخ چوں، چرّخ چوں کرتا بھاگتا چلا جا رہا تھا۔ ’’ہٹ ٹخ ٹخ، ہٹ چل بیٹا جلدی چل، گاڑی کا ٹیم ہو گیا ہے۔ ہٹ، ارے چل سسری، سواری چھوٹ گئی تو بھوکے مرنا ہوگا۔ ہٹ، ٹخ ٹخ ٹخ‘‘۔ کلو
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
-
