- کتاب فہرست 180561
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1575 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4191خواتین کی تحریریں5754-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شفیع مشہدی کے افسانے
گرتی دیواریں
خلیفہ جی کو محلے کے سارے لوگ جانتے تھے۔ بچے، بوڑھے، مرد عورت سب ہی انھیں خلیفہ جی کہتے۔ ویسے نام تو ان کا علی محمد تھا مگر کوئی انھیں نام لے کر نہیں پکارتا تھا۔ حتی کہ ان کے بیٹے بھی اکثر انھیں خلیفہ جی ہی کہتے تھے۔ جب کوئی بچہ اپنی توتلی زبان میں
سید کی حویلی
’’بہو، اری او بہو‘‘۔ آواز تیز تھی۔ ’’جی بیگم صاحب‘‘! آواز کمزور تھی۔ ’’میں پوچھتی ہوں تمھاری بکریاں آنگن میں کیوں آئیں‘‘۔ آواز میں بے پناہ خفگی تھی۔ ’’کیا کریں بیگم صاحب گلتی ہو گئی‘‘۔ آواز میں معذرت تھی۔ ’’مگر غلطی ہوئی کیوں؟ دیکھو تمھاری
پیاس
’’اے مہاگیانی! جب میں دانتوں پر دانت جما کر اور تالو کو زبان سے لگاکر، دل و دماغ کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے پسینہ آنے لگتا ہے۔ جب میں سانس روک کر تپسّیا کرتا ہوں تو میرے کانوں سے سانس نکلنے کی آواز آتی ہے ... پھر اے گرو دیو، جب میں سانس
جلدی کرو
زمین پر تیس پینتیس بچوں کی لاشیں قطار سے رکھی، سورماؤں کو داد شجاعت دے رہی تھیں۔ دونوں جانب رائفلوں پر سنگینیں چڑھائے سپاہی پہرہ دے رہے تھے۔ کوئی بیس گز دور جلے ہوئے برگد کے نیچے دس پندرہ مزدور جلدی جلدی گڈھا کھود رہے تھے اور کچھ باوردی افسر بار بار
مٹی کی خوشبو
گرمی کی دوپہر نے قبرستان کو مزید ویران بنا دیا تھا۔ قبرستان کافی بڑا اور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اکا دکا قبریں پختہ تھیں مگر بیشتر قبریں کچی مٹی کی تھیں۔ بیشتر قبریں دھنس گئی تھیں جنہیں جھاڑیوں نے چھپا لیا تھا۔ قبروں پر اگی ہوئی ہریالی، گرمی میں جھلس گئی
بنت زلیخا
’’سمسو کی ماں کو معلوم کہ ہم کھیریت سے ہیں اور تم لوگوں کا کھیریت نیک چاہتا ہوں۔‘‘ ابا کی طرف سے سمسو کو بہت بہت دعا۔ اور ضروری بات یہ ہے کہ سجان میاں کا بیٹا اسلام کے ہاتھ چالیس روپیہ بھیج دیا ہے، جو ملا ہوگا۔ باڑی والا کا کرایہ دے دو اور منّی
سنیچرشاہ
میں نے اسے پہلی بار جب دیکھا تو وہ ٹیبل پر رکھے ہوئے گلاس میں پانی انڈیل رہا تھا۔ میں نے کھانے کی میز سے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو میری آنکھیں اس کے چہرے پر جم کر رہ گئیں۔ اس کی خالی خالی ڈراؤنی بے جان سی آنکھیں میز پر رکھے ہوئے مرغ مسلّم پر جمی ہوئی
قہر درویش
کولتار کی سیاہ سڑک تاحد نظر پھیلی چلی گئی تھی اور کلوکا تانگہ نیم ہموار راستے پر چرّخ چوں، چرّخ چوں کرتا بھاگتا چلا جا رہا تھا۔ ’’ہٹ ٹخ ٹخ، ہٹ چل بیٹا جلدی چل، گاڑی کا ٹیم ہو گیا ہے۔ ہٹ، ارے چل سسری، سواری چھوٹ گئی تو بھوکے مرنا ہوگا۔ ہٹ، ٹخ ٹخ ٹخ‘‘۔ کلو
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
