- کتاب فہرست 179249
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6591افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شاہ محمد سلامت اللہ رامپوری کا تعارف
شناخت:محدث، صوفی، مصنف
سراجُ الاصفیاء حضرت علامہ مفتی حافظ ابو الذکاء شاہ محمد سلامت اللہ محدث رامپوری علیہ رحمۃ اللہ القوی برصغیر ہند کے اُن جلیل القدر علماء و مشائخ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم و عرفان، رشد و ہدایت اور تصنیف و تدریس کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی ولادت ضلع اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی۔ ابتدا ہی سے علمی ذوق، دینی شغف اور روحانی رجحان آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جس کے سبب آپ نے علومِ دینیہ میں بلند مقام حاصل کیا اور اپنے عہد کے اکابر اہلِ علم میں ممتاز حیثیت پائی۔
آپ جید عالمِ دین، بلند پایہ محدث، مجازِ طریقت، صاحبِ تصنیف بزرگ اور مدرسہ ارشادالعلوم رامپور کے ناظم و مدرس تھے۔ فقہ، حدیث، منطق اور تصوف جیسے دقیق علوم میں آپ کو کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ کی درسگاہ علم و عمل کا مرکز تھی، جہاں تشنگانِ علم آپ کے فیضِ نظر سے سیراب ہوتے تھے۔ آپ نہ صرف ظاہر کے علوم کے ماہر تھے بلکہ باطن کی پاکیزگی، تقویٰ، زہد اور روحانی تربیت میں بھی یگانۂ روزگار سمجھے جاتے تھے۔حضرت شاہ محمد سلامت اللہ رامپوری کی حیاتِ مبارکہ اخلاص، للّٰہیت، قناعت اور خدمتِ دین کا روشن استعارہ تھی۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اشاعتِ علومِ نبوی، اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ خلق کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپ کی تصانیف اپنے علمی استحکام، تحقیقی اسلوب اور اصلاحی رنگ کے باعث اہلِ علم میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
پ کا وصال 8 جمادی الاولیٰ 1338ھ مطابق جنوری 1920ء میں ہوا، جبکہ تدفین درگاہِ ارشادیہ رامپور (یوپی) ہند میں عمل میں آئی۔ آج بھی آپ کا اسمِ گرامی علمی و روحانی حلقوں میں نہایت ادب و عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
مددگار لنک : | https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-salamatullah-rampuri
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
