Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

شاہ محمد سلامت اللہ رامپوری

- 1930

علم و عرفان، زہد و تقویٰ اور تدریس و تربیت کا روشن مینار

علم و عرفان، زہد و تقویٰ اور تدریس و تربیت کا روشن مینار

شاہ محمد سلامت اللہ رامپوری کا تعارف

اصلی نام : محمد سلامت اللہ

پیدائش :اعظم گڑہ, اتر پردیش

وفات : 29 Jan 1930 | رام پور, اتر پردیش

شناخت:محدث، صوفی، مصنف

سراجُ الاصفیاء حضرت علامہ مفتی حافظ ابو الذکاء شاہ محمد سلامت اللہ محدث رامپوری علیہ رحمۃ اللہ القوی برصغیر ہند کے اُن جلیل القدر علماء و مشائخ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم و عرفان، رشد و ہدایت اور تصنیف و تدریس کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی ولادت ضلع اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی۔ ابتدا ہی سے علمی ذوق، دینی شغف اور روحانی رجحان آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جس کے سبب آپ نے علومِ دینیہ میں بلند مقام حاصل کیا اور اپنے عہد کے اکابر اہلِ علم میں ممتاز حیثیت پائی۔

آپ جید عالمِ دین، بلند پایہ محدث، مجازِ طریقت، صاحبِ تصنیف بزرگ اور مدرسہ ارشادالعلوم رامپور کے ناظم و مدرس تھے۔ فقہ، حدیث، منطق اور تصوف جیسے دقیق علوم میں آپ کو کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ کی درسگاہ علم و عمل کا مرکز تھی، جہاں تشنگانِ علم آپ کے فیضِ نظر سے سیراب ہوتے تھے۔ آپ نہ صرف ظاہر کے علوم کے ماہر تھے بلکہ باطن کی پاکیزگی، تقویٰ، زہد اور روحانی تربیت میں بھی یگانۂ روزگار سمجھے جاتے تھے۔حضرت شاہ محمد سلامت اللہ رامپوری کی حیاتِ مبارکہ اخلاص، للّٰہیت، قناعت اور خدمتِ دین کا روشن استعارہ تھی۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اشاعتِ علومِ نبوی، اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ خلق کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپ کی تصانیف اپنے علمی استحکام، تحقیقی اسلوب اور اصلاحی رنگ کے باعث اہلِ علم میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

پ کا وصال 8 جمادی الاولیٰ 1338ھ مطابق جنوری 1920ء میں ہوا، جبکہ تدفین درگاہِ ارشادیہ رامپور (یوپی) ہند میں عمل میں آئی۔ آج بھی آپ کا اسمِ گرامی علمی و روحانی حلقوں میں نہایت ادب و عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

Recitation

بولیے