Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shah Moinuddin Ahmad Nadvi's Photo'

شاہ معین الدین احمد ندوی

1903 - 1974 | اعظم گڑہ, انڈیا

ممتاز اسلامی اسکالر، مورخ، محقق اور مترجم

ممتاز اسلامی اسکالر، مورخ، محقق اور مترجم

شاہ معین الدین احمد ندوی کا تعارف

اصلی نام : معین الدین احمد

پیدائش :ردولی, اتر پردیش

وفات : 13 Dec 1974 | اعظم گڑہ, اتر پردیش

LCCN :n86141555

شناخت: بیسویں صدی کے ممتاز اسلامی اسکالر، مورخ، محقق، مترجم اور دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے صدر

مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی برصغیر کے اُن ممتاز علماء اور محققین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ، سیرت نگاری اور علمی تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ ایک سنجیدہ مزاج مورخ، محقق اور صاحبِ اسلوب ادیب تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم و تحقیق کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔

معین الدین احمد ندوی 1903ء میں اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی کے قصبہ ردولی میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم ان کے نانا شاہ شرف الدین کی نگرانی میں ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے لکھنؤ کے معروف علمی مرکز دارالعلوم نظامیہ فرنگی محل میں تعلیم حاصل کی اور پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا۔ یہاں انہیں نامور عالم اور مورخ سید سلیمان ندوی کی شاگردی نصیب ہوئی، جن سے انہوں نے تحقیق و تصنیف اور تاریخی مطالعہ کا گہرا شعور حاصل کیا۔

1924ء میں فراغت کے بعد، وہ سید سلیمان ندوی کی دعوت پر اعظم گڑھ میں قائم دارالمصنفین شبلی اکیڈمی سے وابستہ ہو گئے۔ یہی ادارہ ان کی علمی زندگی کا مرکز بن گیا، جہاں انہوں نے تدریس، تحقیق اور تصنیف و تالیف کے میدان میں طویل خدمات انجام دیں۔

1946ء میں جب سید سلیمان ندوی بھوپال منتقل ہوئے تو دارالمصنفین کے انتظامی امور اور اس کے موقر علمی و ادبی رسالے "معارف" کی ادارت کی ذمہ داری معین الدین احمد ندوی کے سپرد کی گئی۔ 1950ء میں سید سلیمان ندوی کی پاکستان ہجرت کے بعد، 1951ء میں معین الدین ندوی نے ادارے کی مکمل قیادت سنبھالی اور اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی قیادت میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی نے علمی وقار اور تحقیقی معیار کو مزید مستحکم کیا۔

دارالمصنفین کے علاوہ وہ لکھنؤ اردو اکیڈمی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اہم تعلیمی و ادبی اداروں سے بھی وابستہ رہے اور علمی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

معین الدین احمد ندوی کی علمی و ادبی خدمات نہایت وسیع اور متنوع ہیں۔ انہوں نے اسلامی تاریخ، سیرت، تراجم اور ادب کے مختلف موضوعات پر متعدد اہم کتب تصنیف و تالیف کیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں "تاریخِ اسلام" (چار جلدیں) خاص اہمیت رکھتی ہے، جو ندوۃ العلماء سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ رہی۔

ان کی دیگر اہم تصانیف میں "حیاتِ سلیمان" شامل ہے، جو ان کے استاد سید سلیمان ندوی کی جامع اور مستند سوانح عمری ہے۔ اس کے علاوہ "المہاجرین" ، "سیرت الصحابہ"، "تابعین" اور "دینِ رحمت" جیسی کتب بھی ان کی علمی بصیرت کی آئینہ دار ہیں۔

ترجمہ کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے عربی مصنف کرد علی کی کتاب "الاسلام والحضارۃ العربیہ" کو اردو میں "اسلام اور عربی تمدن" کے عنوان سے پیش کیا۔ اسی طرح شیخ عبدالقدوس گنگوہی کی تصنیف "انوار العیون فی اسرار المکنون" کا ترجمہ کیا، جو شیخ عبدالحق ردولوی کی حیات و تعلیمات پر مبنی ہے۔ ان کی دیگر مترجمہ کتب میں "عرب کی موجودہ حکومتیں" شامل ہے۔

کتب کے علاوہ، انہوں نے رسالہ "معارف" میں بے شمار علمی و ادبی مضامین تحریر کیے اور مختلف علمی مجالس میں مقالات پیش کیے۔ ان کے منتخب ادبی مضامین "ادبی نقوش" کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں، جو ان کے ادبی ذوق اور تنقیدی بصیرت کا ثبوت ہیں۔

وفات: معین الدین احمد ندوی کا انتقال 13 دسمبر 1974ء کو ہوا۔

Recitation

بولیے