- کتاب فہرست 179123
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
شاہ معین الدین احمد ندوی کا تعارف
شناخت: بیسویں صدی کے ممتاز اسلامی اسکالر، مورخ، محقق، مترجم اور دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے صدر
مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی برصغیر کے اُن ممتاز علماء اور محققین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ، سیرت نگاری اور علمی تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ ایک سنجیدہ مزاج مورخ، محقق اور صاحبِ اسلوب ادیب تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم و تحقیق کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔
معین الدین احمد ندوی 1903ء میں اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی کے قصبہ ردولی میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم ان کے نانا شاہ شرف الدین کی نگرانی میں ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے لکھنؤ کے معروف علمی مرکز دارالعلوم نظامیہ فرنگی محل میں تعلیم حاصل کی اور پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا۔ یہاں انہیں نامور عالم اور مورخ سید سلیمان ندوی کی شاگردی نصیب ہوئی، جن سے انہوں نے تحقیق و تصنیف اور تاریخی مطالعہ کا گہرا شعور حاصل کیا۔
1924ء میں فراغت کے بعد، وہ سید سلیمان ندوی کی دعوت پر اعظم گڑھ میں قائم دارالمصنفین شبلی اکیڈمی سے وابستہ ہو گئے۔ یہی ادارہ ان کی علمی زندگی کا مرکز بن گیا، جہاں انہوں نے تدریس، تحقیق اور تصنیف و تالیف کے میدان میں طویل خدمات انجام دیں۔
1946ء میں جب سید سلیمان ندوی بھوپال منتقل ہوئے تو دارالمصنفین کے انتظامی امور اور اس کے موقر علمی و ادبی رسالے "معارف" کی ادارت کی ذمہ داری معین الدین احمد ندوی کے سپرد کی گئی۔ 1950ء میں سید سلیمان ندوی کی پاکستان ہجرت کے بعد، 1951ء میں معین الدین ندوی نے ادارے کی مکمل قیادت سنبھالی اور اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی قیادت میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی نے علمی وقار اور تحقیقی معیار کو مزید مستحکم کیا۔
دارالمصنفین کے علاوہ وہ لکھنؤ اردو اکیڈمی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اہم تعلیمی و ادبی اداروں سے بھی وابستہ رہے اور علمی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔
معین الدین احمد ندوی کی علمی و ادبی خدمات نہایت وسیع اور متنوع ہیں۔ انہوں نے اسلامی تاریخ، سیرت، تراجم اور ادب کے مختلف موضوعات پر متعدد اہم کتب تصنیف و تالیف کیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں "تاریخِ اسلام" (چار جلدیں) خاص اہمیت رکھتی ہے، جو ندوۃ العلماء سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ رہی۔
ان کی دیگر اہم تصانیف میں "حیاتِ سلیمان" شامل ہے، جو ان کے استاد سید سلیمان ندوی کی جامع اور مستند سوانح عمری ہے۔ اس کے علاوہ "المہاجرین" ، "سیرت الصحابہ"، "تابعین" اور "دینِ رحمت" جیسی کتب بھی ان کی علمی بصیرت کی آئینہ دار ہیں۔
ترجمہ کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے عربی مصنف کرد علی کی کتاب "الاسلام والحضارۃ العربیہ" کو اردو میں "اسلام اور عربی تمدن" کے عنوان سے پیش کیا۔ اسی طرح شیخ عبدالقدوس گنگوہی کی تصنیف "انوار العیون فی اسرار المکنون" کا ترجمہ کیا، جو شیخ عبدالحق ردولوی کی حیات و تعلیمات پر مبنی ہے۔ ان کی دیگر مترجمہ کتب میں "عرب کی موجودہ حکومتیں" شامل ہے۔
کتب کے علاوہ، انہوں نے رسالہ "معارف" میں بے شمار علمی و ادبی مضامین تحریر کیے اور مختلف علمی مجالس میں مقالات پیش کیے۔ ان کے منتخب ادبی مضامین "ادبی نقوش" کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں، جو ان کے ادبی ذوق اور تنقیدی بصیرت کا ثبوت ہیں۔
وفات: معین الدین احمد ندوی کا انتقال 13 دسمبر 1974ء کو ہوا۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n86141555
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
