- کتاب فہرست 180586
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شہناز رحمن کے افسانے
باگ ڈور
ہر بار کی طرح انعام اللہ منزل کے گلیاروں میں ا س بار سیاسی گیتوں کی صدائیں گونجنی شروع ہو گئیں، تمام رشتہ دارادھر ادھر سے آکر جمع ہو گئے۔ ’’قرعہ فال کس سیاسی جماعت کے نام نکلےگا یہ تومجھے پتہ نہیں بہر حال یہ طے ہے کہ رائے دہندگان نے اپنے حق کا مناسب
نیرنگ جنوں
حسب معمول وہ دونوں لائبریری میں الگ الگ سیٹوں پر بیٹھے کتابوں سے انصاف کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے مگر کتابوں کے اوراق ان کی نظر پریشاں کو متوجہ کرنے میں ناکام رہے۔ ‘‘کھوسٹ بڈھا نہ جانے کیسی کتاب لکھ کے مرگیا ایک بھی کام کی چیز نہیں مل رہی اور ابھی
ستیہ وان
ممی! میں نے نیٹ پہ پورا ایریا دیکھ لیا ہے۔ اور آپ کے بتانے کے مطابق ٹھیک اسی لوکیشن پر ایک محلہ بھی ہے جس کا نام علی پور ہے۔ آپ پاپا سے کہہ دیجیے اس سال کی چھٹی میں ضرور انڈیا لے کر چلیں۔ لیکن آپ کے پاپا نے تو ساؤتھ افریقہ جانے کا پلان کیا ہے اریطہ
خونچکاں
خواب جل کر راکھ ہو گئے، چشم تمنا بجھ گئی، سرخ رنگ حنا پیلا پڑ گیا، بارش کی بوندیں ذروں سے ٹکرا کر شور مچا رہی ہیں، شہر دل ویران ہو گیا۔۔۔ ’’دلہن کی مہندی بڑی رنگ لائی ہے۔ پتی دیو بڑا پیار کریں گے‘‘ ریما کی بچی اپنا منھ بند رکھ۔ لڑکیاں تو گھر کی
انمول
رہبر کے بار بار اصرار کر نے پر آج انمول کی ادھوری زندگی کے متعلق لکھنے بیٹھ ہی گئی! حالانکہ انمول میری بہت اچھی دوست ہے لیکن میں بہت جلد باتیں بھول جاتی ہوں، اس لیے اس کہانی کو مکمل کرنے میں مجھے رہبر کی رہنمائی حاصل رہی ہے۔ اس بنیاد پر اگر اصل راوی
ذکیہ تاب زریں
مارچ کی ۱۵ تاریخ تھی۔ یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس فل ہو چکا تھا۔ فنون لطیفہ پر سہ روزہ پروگرام ہونے والا تھا جس میں ملک وبیرون ملک سے اعلی درجہ کے نقاش وبت تراش، شاعر وادیب شرکت کرنے والے تھے، مہمان خصوصی کی آمد کا انتظار تھا۔ جس کے اہتمام میں پورے کیمپس کو
عجیب سکھ
جس کلی کو چمن کی زینت کے لئے بنایا گیا وہ دھوپ میں جھلس رہی ہے۔ سرمئی آنکھوں کی شراب، چمپئی رخساروں کا رس سورج کی آتشی کرنیں پی رہی ہیں۔ جن ہاتھوں کو مہندی کے سرخ رنگ سے مزین کرنے کے واسطے بنایا گیا تھا وہ مفلسی کا با ر اٹھانے پر مجبور ہیں۔ مانو قدرت
راج محل
وقت کی گردش پوری ہو چکی! اوم، بھور، بھوا سھا، تت سوترور’ینِیَم‘، بھر گو دوسدھیمھی دھیو یونہہ پر چو دیا۔۔۔ ابھی منتر مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ للت کمار نے کہا! مہارانی کی طرف سے بلاوا آیا ہے۔ انہوں نے ترنت راج محل پہنچنے کے لیے کہا ہے۔ پرارڑنی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
